حلقہ 5 کی محرومیاں اور ہمارے سیاستدان

99

تحریر:سردار ندیم صدیق
یہ سیاست دان بھی کیا چیز ہیں الیکشن قریب اتے ہی ان کے دل میں عوام کادرد جاگ اٹھتا ہے اور ووٹ لینے تک اور پولنگ تک دن رات بھولی عوام کو بیوقوف بناتے ہیں دن رات ووٹرز کے گھروں کے پھیرے مارتے ہیں خوشی غمی میں ایسے شریک یوتے ہیں کہ ان سے ہمدرد کوئی ہے ہی نہیں بازاروں میں پکڑ پکڑ کر کھانے اور چائے پیش کرتے ہیں لیکن جونہی الیکشن کا مرحلہ ختم ہوتا ہے یہ نام نہاد سیاست ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ لیکن بھولی عوام پھر بھی ان کے نعرے لگاتی نہیں تھکتے بلکہ ان فصلی بیٹروں کے لیے اپنے ذاتی تعلقات اور رشتہ داریاں تک ختم کر دیتے ہیں ۔۔۔پھر جب ان عوامی لیڈروں کو کوئی عہدہ مل جائے یا غلطی سے اسمبلی میں پہنچ جائیں تو پھر تو یہ دوسرے منہ لگا دیتے ہیں اور وعدے یاد کرانے پر اجنبی بن جاتے ہیں یہ زہادہ دور نہ جائیں پچھلے الیکشن میں ہی دیکھ لیں اور پھر سب محاسبہ کریں ۔

لوکل باڈیز الیکشن ہوئے عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا ووٹ دیئے سپورٹ کیا اور پھر کیا ہوا سب نے دیکھ لیا۔۔۔فنڈز ملے تو اپںوں میں ہی تقسیم کر دیئے گئے۔۔۔ حالا نکہ منتخب نمائندہ ایک جماعت ایک علاقہ یا وارڈ کا نہیں بلکہ سب کا نمائندہ ہوتا ہے جس نے ووٹ دیا یا جس نے نہیں دیا۔۔۔اج بات کروں گا یونین کونسل ہورنہ میرہ کی تو حکومت کی طرف سے جے کے پی پی کے منتخب ڈسٹرکٹ کونسلر نمبردار نذیر خان صاحب کو مبلغ 10 لاکھ روپے کل 8 وارڈز کے لئے دیئے گئے لیکن اس کی بندر بانٹ پر افسوس ہوا۔۔۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ رقم برابری کی بنیاد پر ساری وارڈز میں تقسیم کی جاتی کیونکہ ڈسٹرکٹ کونسلر صاحب کو ساری 8 وارڈز کے لوگوں نے ووٹ دیئے تھے لیکن موصوف نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے خوشی ہے عوام کے کام ہونے چاہیئں لیکن صرف چند لوگوں یا ایک مخصوص علاقہ کو نوازنا کسی صورت درست نہیں ۔

ان فنڈز ہر سب کا برابر حق ہے ۔۔۔ڈسٹرکٹ کونسلر صاحب نے 10 لاکھ میں سے ادھی سے زیادہ رقم یعنی 6 لاکھ سب سے چھوٹی وارڈ نمب میں تقسیم کر دیئے ۔ فنڈز کی ساری تفصیل نیچے درج ہے لیکن یہ زیادتی ہے سب کو برابر حصہ ملنا چاہئے تھا۔۔۔ڈسٹرکٹ کونسلر صاحب ذاتی حیثیت میں بھی اپںے دوستوں اور پیاروں کو نوازتے ہیں اچھی بات ہے نوازتے رہیں جس کو دینا چاہتے ہیں ضرور دیں وہ ان کا ذاتی مال ہے لیکن قومی خزانے کا اس طرح استعمال کسی طرح درست عمل نہیں ۔موصوف بھی پیسے کے بل بوتے پر پہلی دفعہ سیاست میں ائے ہیں اور انہیں اپنا مقام بنانے کے لئے صرف پیسہ نہیں میرٹ اور انصاف کرنا ہو گا ہمارے ہاں اب جس کے پاس پیسہ ہے ویسے وہ ہی بڑا سیاست دان ہے جس کی اعلی مثال محترم تنویر چغتائی صاحب اور حاجی یعقوب صاحب ہیں ان دونوں صاحبان نے کشمیر کی سیاست میں پیسے کا ٹرینڈ دیا اورپیسے دے کر اقتدار حاصل کیا۔۔۔اس سے جنیوئن سیاست ختم ہونے لگے ہیں ۔

لیکن جے کے پی پی کے بانی مرحوم سردار خالد ابراہیم صاحب کا یہ نظریہ قطعا نہیں تھے وہ پیسے اور موروثی سیاست کے سخت خلاف تھے اسی لئے انہوں نے کبھی اپنی اولاد کو سیاست میں نہیں انے دیا لیکن حالات اب بدل گئے خالد صاحب مرحوم نے ایک دفعہ حاجی یعقوب صاحب کو کہا تھا کہ حاجی صاحب یہ جو پیسے کی سیاست اپ نے شروع کر دی کل کو کوئی اور نو دولتیئا ائے گا تو اقتدار خرید لے گا پھر وہی کچھ ہوا سب نے دیکھ بھی لیا۔۔لیکن اب ان کی جماعت بھی اسی ڈگر پر چل نکلی ہے ۔ یونین کونسل ہورنہ میرہ میں بلدیاتی نمائندہ کی جانب سے تقسیم کئے گئے فنڈز کی کس قدر بند ربانٹ ہوئی ہے کہ 8 میں سے3 وارڈز کو نواز دیا گیا اور باقی 5 وارڈز کو نظر انداز کر دیاگیا ،اور سب سے چھوٹی وارڈ نمب میں چھ لاکھ تقسیم کر دیئے گئے۔عوام کے مسائل حل ہونے چاہیں لیکن صرف مخصوص لوگوں کو نوازنے کی پالیسی کسی صورت درست نہیں ،ڈسٹرکٹ کونسلر محمد نذیر صاحب نے یقینا جب ووٹ لئے ہونگے تو وعدے ضرور کئے ہونگے جن کی تکمیل بھی بنتی ہے۔

تمام امیدواروں نے عوام سے وعدے کئے کہ ووٹ دیں تو یہ کر لیں گے وہ کر لیں گے جس پر عوام نے ووٹ دیئے ہمارے ہاں اب نظریہ تو رہا نہیں پیسے کی سیاست ہو رہی ہی لیکن سرکاری خزانہ کی مساویانہ تقسیم ہونا چاہئے تھی لیکن نہ ہوسکی جو باقاقی وارڈز کے ساتھ زیادتی ہے ۔ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم جھوٹے وعدوں اور لاروں میں آ جاتے ہیں ،حلقہ 5 پونچھ کو آج تک کوئی جاندار اور مخلص قیادت میسر ہی نہ ہوسکی ،بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ بلاتفریق ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولہ استعمال ہوتا ہے جو جتنا بااثر ہوتا ہے وہ اتنے ہی فنڈز بھی لے لیتا ہے اور اپنے کام بھی کرا لیتا ہے لیکن غریب ووٹر بچارہ سہولیات کو ترستا ہی رہتا ہے ،جب تک عوام میں شعو ر بیدار نہیں ہوتا یہ نام نہاد سیاستدان غریب عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے ہر ایک کو اپنے حق کے لئے اٹھنا ہوگا ۔

ڈسٹرکٹ کو نسلر صاحب جو جے کے پی پی کے مرکزی عہدیدار بھی ہیں جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے اور جیت بھی گئے اب جگہ جگہ جو نقدی اور تعمیراتی سامان دیتے ہیں عوام ان سے پوچھیں تو سہی اتنے پیسے ائے کہاں سے۔۔۔موصوف ایک پرائمری ٹیچر ریٹائر ہیں پھر گلف میں کچھ عرصہ نوکری کی تو یہ پیسے پھر کہاں سے ائے۔۔اور یہ جو تقسیم جاری ہے اس پر بھی سوال اٹھتا ہے نا
ڈسٹرکٹ کونسلر صاحب کو 8 وارڈز کے لئے مبلغ 10 لاکھ جوملے اس کے خرچ کی تفصیل ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ کتنا انصاف کیا ہے جناب نے ۔۔۔۔
1۔۔۔۔سولنگ لنک روڈ رشید ہائوس تا ابراہم مرحوم نمب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبلغ دو لاکھ روپے ( 200000 )
2۔۔۔۔بورنگ واٹر سپلائی سکیم ترنوٹی کوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبلغ تین لاکھ روپے (300000)
3۔۔۔۔سولنگ لنک روڈ درمن تا کلسی اپر کوٹیڑہ کوٹھیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبلغ ایک لاکھ روپے (100000)
4۔۔۔۔واٹر پمپ پروفیسر وحید، پی سی سی لنک روڈ حمیداللہ مرحوم ۔۔۔۔۔مبلغ چار لاکھ روپے (400000)
ٹوٹل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبلغ دس لاکھ روپے (1000000)
یونین کونسل میں وارڈز کی تفصیل بھی درج ذیل ہے ۔۔۔۔
1۔۔۔۔کوٹیٹرہ اپر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1700
2۔۔۔۔کوٹیٹرہ لوئر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1300
3۔۔۔۔ترنوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2000
4۔۔۔۔ہورنہ میرہ خاص ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1700
5۔۔۔۔سنگھڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1600
6۔۔۔۔رانٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1500
7۔۔۔۔جہڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1200
8۔۔۔۔نمب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1000
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ نمب تو سب سے چھوٹی وارڈ ہے اور اس میں اتنی کثیر رقم خرچ کرنے کا مقصد تو سب سمجھ گئے ہونگے صاف نظر آرہا ہے کہ اقربا پروری کی اعلی مثال قائم کی گئی ہے ۔۔۔۔
اچھی بات ہے کہ عوام کو فائدہ ہورہا ہے چاہے وہ ذاتی پیسے سے ہو رہا ہے یا سرکاری سے ،،،، ذاتی پیسے لگانے کا مقصد اپنے اپ کو سیاست میں زندہ رکھنا ہے بس ۔۔۔۔ جیسے بھی ہورہا ہے درست ہور ہا لیکن یہ روش بھی ٹھیک نہیں کل اگر ان کی جگہ کوئی اور آگیا جو اتنے پیسوں والا نہ ہوا تو پھر کیا ہوگا۔۔۔ سیاست سے پیسہ اور موروثیت ختم کئے بغیر ترقی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ،،،، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ایماندار اور مخلص سیاست دان نصیب کریں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں ۔۔۔۔۔۔امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں