حنا جمشید کا ناول ، ہری یوپیا

116

تبصر:محمد تیمور خان

حنا جمشید ادبی دنیا میں محقق نقاد اور ناول نگار کے طور پر مشہور ہیں ہری یوپیا آپ کا پہلا ناول ہے .ہری یوپیا ہڑپا کا قدیم نام ہےحنا جمشید نے ہزاروں سال پرانی ہڑیائی تہذیب کو موضوع بنایا ہے.یہاں کے پھول چادریں،منکے ہاتھی دانت مورتیاں، ہار سرما، ابرق کانسی، تانبے اینٹیں، مبعد پروہت، مٹی کے گھگھو گھوڑے، آوے، بیل شیر مچھلی، مقدس گیت رقص،گینڈےمہریں ہر ایک شے کو ناول میں بیان کیا ہے یہاں کے باشندے کتنے مہذب تھے، اور یہ تہذیب امن گہوارہ تھی، جو ہر باہر سےآنے والے کے لیے اپنا سینہ کشادہ رکھتی تھی دنیا بھر سے بابل، وینوا، مصر چین، روم، یونان، سے تاجر یہاں آتے تھےمال خریدتے اور اپنا مال بیچتے تھے.

یہاں کی مذہبی رسومات میں عبادت کے بعد رقص ہوتا تھا داسیوں کا یہ رقص کرنے کا مقصد خداؤں اور دیوی دیوتاوں کو خوش کرنا تھا، ہری یوپیا کے مزدور محنت کش سارے محنے اور لگن سے کانسی اور تابنے کی دھاتوں کو پگھلا کر مختلف اشیا بناتے جس کو لینے کے لیے دنیا بھر سے تاجر اس شہر کا رخ کرتے تھے ہری یوپیا کی عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی تھی یہاں ہر کوئی اپنی تہذیب سے جڑا رہتا تھا اس لیے یہ تہذیب خوشحال تھی بارشوں کے سیلابوں نے اس کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا، حنا جمشید کو زبان و بیان پر مکمل عبور حاصل ہے ناول کی زبان اور اس کے کردارقدیم عہد سے تعلق رکھتے ہیں مثلا اس کے کردار ابھایا،سمارا،گانیکا،بڈھا سیدھیوا،مہان ایرا وتی،سرسوتی،کومیل،یہ سارے الفاظ قدیم عہد غالباسنسکرت دور کے ہیں ناول نگار نے ان کو نہایت کامیابی سے ناول کے اندر سمویا ہے.

حنا جمشید نے ناول میں پہلا قدم نہایت کامیابی سے رکھا ہے.حنا،جمشید،جڑوں کی تلاش میں کامیاب رہی ہیں اپ چاہتی تو کسی نئے موضوع پر ناول لکھ دیتی لیکن آپ نے قدیم تہزیب کی بازیافت کو موضوع بنایا ہے یہ ناول پڑھتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ، سید محمد اشرف، شمس الرحمان فاروقی، انیس اشفاق اور طاہرہ اقبال کے ناول یاد آتے ہیں اس ناول کا اسلوب بالکل مندرجہ بالا ناول نگاروں جیسا ہے حنا جمشید نے اپنے اپ کو ان ناول نگاروں کی صف میں کھڑا کردیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں