چشم تصور/پیرزادہ سید تصور حسین شاہ
کام سے ہی پہچان ھوتی ہے۔انسان کی
مہنگے کپڑے تو پتلے بھی پہنتے ہیں دوکانوں میں
مٹھی بھر جوان تند و تیز سردی کے تھپیڑوں میں دریا کنارے رقص کرتی آگ کے شعلوں کو دیکھتے ھیں ، گھر کے لاڈ و نخروں سے دور ، عجب سوچ سینے میں پنپ رہی ھے ، نگاہیں کہیں اور اٹکی ھیں سوچ کا محور کچھ اور ۔نرم ، گرم لحاف اوڑے گھر کے زینت بنے احباب انہیں دیوانا ، بیوقوف اور نہ جانے کن القابات سے نوازتے رہے ۔ ان دل دکھانے والے جملوں کی بنا پروا کئیے وہ لہو گرمانے والے نعروں سے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرتے رہے مہنگائ ، بے روزگاری ، کرپٹ مافیا ، حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف جان ہتھیلی پہ رکھے چلتے رہیں بھلائی ، خیر ، روشنی کا آلاؤ دیکھاتے رہے روشنی بانٹتے رہے دھیرے دھیرے روشنی پھیلتی گئی .
دیا جلتا رہا ، خیر ایک سے دوسرے تک جاتی رہی ایک گھر سے دوسرے گھر ، محلے ، ڈھوک ، گاؤں قصبہ ، تحصیل ضلع کا سفر طے ھوتا رہا ، مختلف برادریاں ، ٹبر ، خاندان ، قبیلے ،سیاسی نظریات ، زبانیں ، تہذیبیں ، یکجا و یک زباں ھو گئے ، خاندان ، برادریاں ، نظریات سب جڑ گئے ایک کشمیر ایک کشمیری ، ایک کشمیریت بن گئے ماہ و سال ، لیل و نہار ، برگ و ثمر ، لالا و زار ، پت جھڑ و بہار کے موسم بیت گئے ، گرم و سرد گزر گئے بس کشمیر تھا کشمیری تھا کوئ بڑا نہیں ، کوئ چھوٹا و اچھوت نہیں سب ایک تھے ایک ہی نعرہ تھا یک زباں آگے بڑھتے چلو کے فلک شگاف نعرے تھے ، فرعونیت کی رعونت ، نمرود کی نمرونیت کے درو و دیوار ہل گئے تھنک ٹینک کا سر جڑ گیا تدبیریں ھوتی رہی ، مار دھاڑ ، ظلم و بربریت کی آندھیاں سر اٹھانے لگی طاقت کے استعمال کی باتیں ھوتی رہی .
ریاست کی مشینری حرکت میں آگئی ، جوانوں کی جوانیاں لٹنے کا وقت بھی آگیا لیکن دھرتی کے غیور ریاست بھر کے باسی ٹھان چکے تھے آنے والی نسلوں کو اس ظالمانہ نظام ، کالے قانون ، حکمرانوں کی عیاشیاں اب نہیں تو کب ختم ھوں گی ، کشمیراج نہیں تو کب پاؤں پہ کھڑا ھو گا چند خاندان ، سرما یا دارانہ نظام کب تک چہرے بدل کر سیاسی ڈگڈگی بجا کر ھمیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد کریں گے ؟ نہیں انہوں اپنی تجوریاں بھرنا ھیں اپنی سات پشتوں کو تمام سہولیات دینا ھیں بیرون ملک اثاثے بنانا ھیں ھمیں لالی پاپ دینا ھے فلاں زندہ باد فلاں زندہ باد کے نعرے لگوانا ھیں اوربیانیہ ستتر سال سے یہی سننے کو ملا ملک ،ریاست نازک موڑ سے گزر رہا ھے ،عوام کے وسیع تر مفاد میں پیڑول ، آٹا ،چینی ، گھی، سبزیاں دالیں ، بجلی مہنگی کی جارہی ہیں.
لہذا عوام کو قربانی دینا پڑے گی بڑے عہدوں پہ براجمان کی عیاشیاں قائم ہی نہیں بلکہ مراعات میں سو فیصد اضافہ ! کشمیر سے اٹھنے والی تحریک جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا اور بتا دیا کے عیاشیاں اب نہیں ، بے سرو سامانی میں مٹھی بھر دیوانوں کی تحریک طول و عرض میں پہنچ گئی اوور سیز کشمیریوں کے سینے بھی چر گئے اور دریا کنارے اپنے حقوق کے لئیے نبیٹھنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑے ھوئے اور ان کے کھانے پینے کا اہتمام کرتے رہے جو ان سے ملتا گیا کاواں بنتا گیا شان و مان بڑھتا گیا یہاں تک کے ان کے ساتھ تمبر جسے کوئی جانتا و پہچانتا نہ تھا دنیا نے دیکھا کے وہ ریاست کی شناخت اور قومی سوٹا بن گیا .
سلام ھو ان ماؤں کو بھی جنہوں نے لاڈ و نخروں سے تراش کر یہ ہیرے دھرتی ماں کے باسیوں پہ قربان ھونے کے لئیے بھیجا دئیے جنہوں نے حکمرانوں کو تگنی کا ناچ نچایا ، سرکاری نمبر پلیٹ بڑی گاڑی جب سڑکوں پہ چلا کرتی تھی تو بدمست ہاتھی کی طرح اور انکی اولادیں اور پالتو کتے بھی سیر سپاٹے کو نکلنتے تھے ایک وقت تھا کے یوں لگتا ت یہ قرعہ ارض انہی کی ملکیت ھے مگر وقت نے بتایا کے اب سوچ سمجھ کے باہر نکلنا اب یہ دیوانے اپنے ٹیکسوں کے پیسوں سے تمہیں عیاشیاں نہیں کرنے دیں گے ، ستتر سال سے ملک نازک موڑسے گزر رہا ھے لہذا عوام قربانی دے بس بہت ھو گیا ، بیوروکریسی بھی قربانی دے، بڑے عہدوں پہ براجمان بھی قربانی دیں حکمران بھی قربانی دیں سیاست دان شطرنج کے کھیل میں سادہ لو میں غلط فہمیاں پیدا کر کے آر پار کی عوام کو لڑانے پہ آگئے سیاسی نعرہ لگوا کر پاکستان کا پرچم اتروا کر نیا کرتب دیکھانے لگے ، پورا کشمیر سڑکوں پہ آیا شہر اقتدار میں داخل ھوا ، مطالبات منظور کروائے ایک گملا نہیں ٹوٹا ، ایمبولینس کا راستہ نہیں روکا ، کشمیری باشعور ھیں .
بار ہا نئی چال چلی جائے گی اتحاد کو توڑنے کی کوششیں کی جائیں گی ھم نے غلط فہمیوں کا راستہ روکنا ھے تاریخ سے سیکھنا ھے سات سو سال قبل اصفہان میں ایک مسجد بن رہی تھی کام تقریباً ختم ھو چکا تھا کاریگر چھوٹے چھوٹے آخری کام کر رہے تھے ایک بوڑھی عورت کا وہاں سے گزر ھوا وہ اچانک کھڑی ھو گئی اور مسجد کے مینار کی جانب اشارہ کرکے کہنے لگی کہ یہ میری نظر میں ٹیڑھا نظر آرہا ھے کاریگر مزدور ہنسنے لگے تو بڑے مستری نے کہا خاموش ھو جاؤ جلدی سے لمبی اور مضبوط لکڑی لاؤ اور چند مزدور اکٹھے کئیے جب مزدور اکٹھے ھوئے تو کہا ان لکڑیوں کو مینار کے ساتھ کھڑی کرو اور دھکا لگاؤ سارا وقت اس مستری ضعیف عورت سے پوچھتا رہا کہ اب بتاؤ مینار سیدھا ھوا کے نہیں ! کچھ وقت کے بعد وہ بڑھیا بولی اب سیدھا ھو گیا وہ دعا دیکر چلتی بنی ۔ اب مزدوروں نے مستری کی کلاس لی طعن و تشنع کیا ایک ہنگامہ اور شور شرانا برپا کیا بھلا لکڑی سے پتھر ، بجری ، سیمنٹ کا مینار سیدھا ھو سکتا ھے مستری نے جواب دیا بلکل بھی سیدھا نہیں ھو سکتا لیکن میں نے ایسا کرکے غلط افواہ کا راستہ ضرور روک لیا ھے یہ عورت محلے ، گاؤں ، قصبے میں جاتی اور دو چار عورتوں مردوں سے کہہ دیتی تو بنا دیکھے سوچے سمجھے بات بہت دور تلک جاتی ! حکمرانوں نے یہ چالیں چلنا ھیں ھم نے راستے روکنا ھیں اتحاد ، بھائ چارا ، ینگانگت کو برقرار رکھنا ھے غیروں کا الا کار نھیں بننا کشمیر کی آزادی خود مختاری کشمیریوں کا بنیادی حق ھے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ حق ملنا چاہیے۔