اسلام آباد(سید خالد گردیزی/ سٹیٹ ویوز) حکومت آزاد کشمیر نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں درکار فنڈز مہیا کرنے کے لئے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگانے کی ٹھان لی۔ قبل ازیں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لئے درکار فنڈز کے حصول کے لئے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت سے رجوع بھی کیا جائیگا۔ تقریباً تین ہفتے قبل 27 جولائی کو وزراء نے پریس کانفرنس کے ذریعے ملازمین کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ وفاقی حکومت کی طرز پر آزاد کشمیر کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جا رہا ہے لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اگست میں اضافہ نہ ہوسکا۔
ستمبر میں یہ اضافہ ممکن بنانے کے لئے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کو پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مد میں درکار فنڈز کے حصول کے لئے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی کیصورت میں ترقیاتی بجٹ سے مطلوبہ رقم مہیا کرنے کے لئے کابینہ کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں اگر بنیادی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے تو تقریباً 11 ارب روپے اور اگر رننگ میں اضافہ کیا جائے تو 19 ارب روپے درکار ہیں۔یاد رہے کہ وزراء حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرز پر آزاد کشمیر کے گریڈ 16 سے کم 35 فیصد۔گریڈ 16 سے اوپر 30 فیصد جبکہ پنشن میں 17.5 فیصد اضافہ کیا جائے گا لیکن تین ہفتے گذرنے کے باوجود یہ معاملہ ہنوز حل طلب ہے جس کے باعث ملازمین کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ ترقیاتی فنڈز کی مد میں امسال بجٹ میں 10 ارب کا روپے کا اضافہ ہوا تھا جو مقامی آمدن کے باعث ممکن ہوا تھا جبکہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں کم سے کم 11 سے 19 ارب روپے منہا ہونے کیصورت میں وفاقی حکومت کی جانب سے مہیا کردہ ترقیاتی بجٹ میں بھی واضع کمی واقع ہو گی۔