خان صاحب خطہ پونچھ کی ایک ہمہ جہت تا ریخ ساز شخصیت

118

تحریر :پرو فیسر خالد اکبر
خان صاحب ،کرنل خان محمد خان خطہ پونچھ بلکہ تاریخ کشمیر کا وہ عظیم کردار ہیں جو اپنی ملی ،سماجی، سیاسی خدمات اور اپنی بے بہا بصیرت دور اندیشی اور تدبر کی وجہ سے سے تاابد روشنی کا مینارہ بن کر نئی نسل کے لیے آئیڈیل اور رو ل ماڈل کا کر دار ادا کرتے رہیںگے ۔ آپ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کا کردار اور کارہائے نمایاں کئی تحقیقی مطالعوں کے متقاضی ہیں ۔ ایسے میں ان پر ایک مضمون محض ان کی شخصیت کی ایک جھلک۔۔بلکہ دھندلی سی جھلک کہلاسکتاہے ۔ شخصیت نگاری ایک فن ہے جس کے لیے تکنیکی طورپر درست صلاحیت کے ساتھ ساتھ مطلوبہ کردار کے ساتھ براہ راست تال میل Intrectionاور جانکاری ہو تو اس کے نقش اول کو بنانے کی سعی کرنا کسی حد تک شخصیت نگار کو اپنے مقصد میں ظفریاب ہونے کا حوصلہ اور ترغیب فراہم کرتاہے ۔ اس باب میں اپنا دامن تو بالکل تہی لگتا ہے ۔ ایک ہمہ جہتی شخصیت کے حوالے سے دستیاب علمی سرمایہ سے گزرنے کے بعد جو میرا خام تاثر بنا اس کی ایک دھندلی سی جھلک کو عیاں کرنے کی اور اس کا ادھورہ نقش SKETCH بنانے کی زیر نظرمضمون میں سعی کی گئی ہے ۔
خانصاب 1882ٗمیں تحصیل سدھنوتی کے موضع چھے چھن میں ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ اس عہد میں پونچھ میں شخصی راج اور دیگر اسباب کی وجہ سے تعلیمی سہولتوں کافقدان تھا ۔

اس لیے ابتدائی مذہبی تعلیم کے بعد آپ نے پنڈی کہوٹہ سے مزید تعلیم حاصل کی ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ مزید با قاعدہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے چونکہ جنگ عظیم اول کا زمانہ تھا ، فو ج کی طرف جانے کا رحجان عروج پرتھا ۔ سو خا ن صاحب نے بھی سپائیانہ زندگی کا آغاز کیا اور جنگی محاذ پر کئی کارہائے نماں سرانجام دیئے ۔بعدازاں فوجی نوکری سے سبگدوش ہوکر وہ ڈوگرہ پولیس میں انسپکٹر بھی ہوئے ۔ لیکن کچھ اپنی حساس طبعیت اور راجہ کے شخصی راج ، ظلم و جبراور ناروا سلوک کے خلاف احتجاجاََ استعفی دے کر اپنی بقیہ زندگی ملک و ملت کی ترقی اورتعمیر کی خاطر وقف کر دی ۔ آپ بارہ سال تک بلامقابلہ متحدہ کشمیر کی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو کر خطہ پونچھ کے غیور پسماندہ عوام کی فلاح وبہبود ، ترقی اور خوشحالی کے لیے سرگرداں رہے ۔ اس وقت کی حکومت سے خان صاحب اور ملت اسلامیہ کشمیر کی طرف سے غازی کشمیر کا لقب پانے والی ایسی عہد ساز شخصیات برسوں بعد پیدا ہو تی ہیں۔
ہزاروں سا ل نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا

غیور باسیوں کی سرزمین پونچھ کا خطہ پورے برصغیر میں سب سے پس ماندہ اور ناخواندہ شمار کیا جاتا تھا ۔ ملازمتوں اور کاروبارپر ہندوئوں یا بیرون ریاست افراد کی اجارہ داری تھی ۔ یہاں کے نوجوان جب حصول ملازمت کے لیے دیگر جگہوں پر جاتے توتعلیم کی کمی کے سبب کم ترین ملازمتیں ہی ان کا مقدرٹھہرتی ۔ وہ سالا سال تک بغیر ترقی کے رہتے ۔ خان صاحب جیسے دیدہ دل اور جان دیدہ شخصیت نے اس تلخ حقیقت کا بہت پہلے ادراک کر لیا تھا۔وہ جانتے تھے کہ جب تک پونچھ کے لوگوں کو تعلیم ، ہنر و فنون سے روشناس نہیں کرایا جائے گا تو اس مخدو ش صورتحال کو نہیں بدلا جا سکتا۔ وہ جدید تعلیم و تدریس کی مبادیات کو جاننے کی غرض سے 1928ٖٗٗ میں علی گڑھ بھی گئے ۔ان کا یہ سفر ایک طرح کا Exposureوزٹ تھا جو Exclusivly اس نئے تعلیمی او ر تدر یسی نظام کار کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کر نے کے لئے کیا گیا۔محمد الدین فوق کے مطابق یہ Visit انہوں نے پونچھ ہجیرہ کے ایک باسی محمد عبداللہ، جواس و قت وہاں اکائوٹٹنٹ کے عہدہ پر فا ئز تھے کے توسل سے کیا ۔ آپ نے نصا ب سازی سے لے کر تعلیم و تدریس کے جدید طریقوں تک مکمل معلومات حاصل کی ؛ اور اسی طرح کے نظام تعلیم کے قیام کے لیے اسمبلی کے اندر اور اپنے قبیلے کے لیے ذاتی فلاحی حکمت عملی خصوصا” سدھن ایجو کیشن کانفرس ” کا پلیٹ فارم قا ئم کر کے اسے شر مندہ تعبیر کرنے کی پوری سعی بھی کی ۔ اس باب میں ان کا ایک خط جو انھوں نے وہاںمقیم ایک طالب علم کو لکھا، ان کی فکر رسا اور تڑپ کا بھرپور عکاس ہے .

ٓ ©”آپ خو ش قسمت ہیں جو اس درس گا ہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ مجھ پر علی گڑھ کے انتظامات , اعلیٰ اخلاق اور تدریس کے نظام کا اس قدر اثرہوا کہ دن رات خیال علی گڑھ میںہی رہتا ہے۔ کاش و ہ عمر جو گذر چکی پھر واپس ملے تو میں علی گڑھ میں پہنچ کر طالب علم بننے کی کو شش کروں لیکن یہ کب ہو سکتاہے ۔” خان صاحب کا تعلیم کے بارے میں Vision کو تمام محقیقن ، ماہر ین تعلیم اور اہل دانش کے لیے Significant اہمیت کا حامل ہے ۔ انگریزوں کی برصغیر میں آمد، فارسی زبان کی بے دخلی ، علم اور فیوض کے خزینوں سے محرومی ، انگریزی زبان کی ترویج اور نئے علوم کے نفوذ سے برصغیر کے اہل علم ، مسلمان دانشوروں اورمفکرین خصو صاََ علمائ کرام کے اندر شدید تحفظات اور تشکیک آمیز رویوں نے جنم لیا ۔جس کا کائونٹر کرنے کے لیے مذہبی طریقہ تعلیم کو ہی واحد حل سمجھا گیا۔ یوں بر صیغیر کی دو مشہور عظیم درسگاوںٜ دیوبندی اور بریلوی مکاتب کی بنیاد یں ڈالی گئی ۔ ایسے میں سرسید احمد خان اور ان جیسے دیگر اکابرین کو جو جدید تعلیم کے علمبردار تھے کو شک اور اغیار کے گماشتوں کی شکل میں دیکھے جانے کا چلن عام ہو رہاتھا ۔ طوائف الملوکی کے ایسے حالات میں ایک بہت ہی دو ر افتاد ہ بلکہ stone age کے طرز زندگی کے حامل خطہ پونچھ میں ہم گیر Inclusiveنظام تعلیم کی بات کرنا ٜ جو کلاسیکل اور جدید علوم کا امتزاج ہو کوئی معمولی بات نہیں تھی ۔ یاد رہے جب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک خصوصا امریکہ جیسے ملک میں inclusive تعلیم جس میں مرد اور خوا تین دونوں شامل ہوں ،کی لڑاہیاں لڑیں جا رہی تھیں ۔

کشمیر کی اسمبلی کے اندر اور باہر اپنے عام خطبات اور تقاریروں میں ایسی باتوں کا مکرر اظہار ان کی دور اندیشی اور بصیرت کا بھرپور غماز تھا ۔ اس حوالے سے ان کو پونچھ کے سرسید کے لقب سے افراز کرنا بجا اور حقیقت پر مبنی ہے۔ آج پونچھ جو لٹر یسی اور علم و فن میں سب سے آگے ہے تو اس کی جڑیں اسی عہد رفتہ میں ملتی ہیںاو ر یقینا اس کا سہرا خانصاب کی اُ سی مساعی جمیلہ کوجاتا ہے ۔ مرحوم فتح محمد کریلوی کے مطابق ان کا ایک اہم کارنامہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کروانا بھی تھا ۔ اس کا فوری فائدہ بے روزگاری کے خاتمہ اور اہم اور قابل قدر فائدہ اس خطہ کی آزادی کی صورت میں ظہور پزیر ہوا چونکہ یہی وہ تربیت یافتہ سپا ہی اور مجاہدتھے جہنوں نے مظفرآباد سے اکھنور تک کا علاقہ ڈوگرہ فوجوں سے آزادکرایا۔ اپنے دیرینہ تعلق ،جو پولیس انسپکٹری سے کشمیر کی اسمبلی تک محیط ہے کا زکر کرتے ہوئے وہ آگے بیان کرتے ہیں ٜ پونچھ میں بالعموم اور سدھن قبیلے میں بالخصوص خانصاب جیسا عظیم لیڈر آئندہ صدیوں میں بھی نہ پیدا ہوسکے گا ۔ ان کے ہم دم ،تحریک آزادی کے ایک مجاہد سردار مرحوم مختار خان ایڈو وکیٹ کے بقول وہ ہر فن مولاتھا ۔ زراعت کے طریقے بتارہے ہوتے تو شعبہ زراعت کے ماہر لگتے۔۔ حفظان صحت کے اصولوں پر گفتگو کررہے ہوتے تو ایک ماہر ڈاکٹر معلوم ہوتے ، لائیوسٹاک کی افزائش اور دیکھ بھال کے طریقوں پر بحث کرتے تو شناسائے حیوانات لگتے ، بزرگان دین اور اولیائ کرام کے کارناموں او ر کشفات پر بیان کرتے تو پیر کامل لگتے ، سیاست کے امور بیان کرتے تو ایک Statsman لگتے ، رات کو گریہ زاری اور خضوع وخشوع سے یوں دعائیں مانگتے کہ ایسا لگتا کہ اس دنیا فانی سے انکا کوئی تعلق ہی نہیں رہا ۔

1947میں تحریک آزادی کے دوران جنگی محاز پر وہ مجاہدین کے حوصلے بڑھانے کے لیے اگلے مورچوں پر رہے ۔پاک فوج کے اس وقت کے ایک کمانڈر کے بقول پونچھ شہر پر حملہ کی حکمت عملی میں وہ پیش پیش تھے اور اس جنگ بندی معاہدہ کے خلاف بھی تھے جس کی وجہ سے پونچھ شہر فتح ہوتے ہوتے رہ گیا ۔پاک فوج کے کمانڈر کے بقول ان کے قبیلے کے رضاکاروں نے وہ توپیں محاز جنگ پر پہنچائی جو نقل حمل کے ذرائع نہ ہونے کے سبب پاک فوج کے جوان بھی لے جانے میںناکا م رہے اور جس کی وجہ سے مخالف فوجوں کی پیش قدمی رک گئی۔یوں وہ بیک وقت فوجی کمانڈر تھے اور ساتھ ہی ساتھ ہر دل عزیزسیاسی اور مذہبی رہنما ء بھی ۔ بقول حضرت مولانا یوسف مرحوم ان کی سب سے بڑی خوبی ان میں نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کا ملکہ تھا۔ وہ اقبال کے حقیقی شاہین اور حقیقی رہنما کے تصورات کے امین تھے ۔وہ مزید فرماتے ہیںان کی ایک دوسری بڑی خوبی ان کی بردباری ، قوت برداشت اور بے لوث پن تھا ۔ فی الواقع رہنما کے کوائف میں ایسی خوبیاں ہی سب سے اعلیٰ شمار کی جاتی ہیں۔۔ اور بد قسمتی سے عہد حاضر میں ہمارے رہنما ئوں میں ان کا شدید فقدان ہے ۔

بطور سماجی رہنما آپ کا کردار ایک علیحدہ مضمون کا متقاضی ہے ۔آپ نے اہل پونچھ میں فضول رسومات، فضول خرچی کو ختم کرنے اور مٹھی بھر آٹا جمع کرنے کے خیال ذریعے بچت ، منصوبہ سازی اور ذاتی ضبط کا جو تصور دیا او ر اسے غازی ملت محمد ابراہیم اور خان حبیب جیسے کردار وں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے استعمال کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ لا فانی اور یادگار رہے گا ۔ سیاست میں اپنی جگہ سردار سردار محمد ابراہیم خان کو ممبر اسمبلی نامزد کر کے پھر خود مہم چلا کر اسمبلی میں پہنچایا۔ یوں وراثتی سیاست کے بت کو پاش پاش کرنا ان کا وہ کارنامہ ہے جسکی مثال کم کم ہی ملتی ہے ۔ خان صاحب ایسے رہنما تھے جو جذبہ ترغیب اور عمل کے دریچے کھولتے تھے۔غازی ملت سردار محمد ابراہیم صاحب ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے خانصاب کی ترغیب اور تلقین پر الیکشن لڑنے کا قصد کیاتو وہ ان کو متعارف کروانے اپنے حلقہ انتخاب میں لے گئے ۔تو جہاں ہم جاتے لوگو ں کا ہجوم امڈ آتا ۔مگر جب وہ سیاست سے دست کشی اور اپنے نئے ارادے کا اظہار کرتے تو لوگوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے اور ان کے چہرے مایوسی سے لٹک جاتے ۔ یوں تمام قبائل میں یکساں توقیر اور تکریم کا مقام پانا صرف خان صاحب کا ہی یگانہ اعزاز ٹھرا۔ آزاد خطہ میں حکومت بننے کے بعد ہربڑا عہدہ آپ کے گھر کی لونڈی تھا مگر اس درویش صفت انسان نے سیا ست سے کنارہ کشی اختیار کی اور دوسروں کو جگہ دی ۔بلآخر ۱۱ نومبر 1962 میں خطہ کشمیر یہ عظیم رہنما اور عہد ساز شخصیت ملک راعی عدم ہوئی ۔ شاید ایسے ہی کردار کے بارے میں شکسپیر نے کہا تھا ٜ
If Nature speaks , it world
say , ‘Yes This was the man’
مقد ور ہوتو خا ک سے پوچھو ں کہ آئے لئیم تو نے و ہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں