تحریر: محمد شہباز
21 نومبر 2025 کو دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کا تیجس لڑاکا طیارہ فضائی کرتب دکھاتے ہوئے زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔جس کے نتیجے میں طیارے کا پائلٹ ونگ کمانڈر سمن سیال بھی ہلاک ہوگیا۔ تیجس طیارہ بھارتی فضائیہ کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارہ تھا، جس کی تیاری یا پروڈکیشن سے متعلق بھارت نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ یہ حادثہ نہ صرف بھارتی فضائیہ کی ناقص صلاحیتوں پر سوالات اٹھاتا ہے، بلکہ بھارت کی دفاعی صنعت میں چھپی اس کرپشن اور جنگی سازوسامان کی تیاری میں معیار کی کمی کو بھی بے نقاب کرتا ہے،جس کا بھارتی فضائیہ کو برسوں سے سامنا ہے۔یہی وجہ کہ دفاعی ماہرین اس حادثے کو بھارت کی دفاعی ساکھ کیلئے ایک سنگین دھچکا قرار دیتے ہیں اور یوں بھارت کی دفاعی پالیسی، خود انحصاری اور عالمی سطح پر ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔تیجس طیارہ بھارتی دفاعی اداروں بالخصوص بھارتی فضائیہ کیلئے ایک اہم منصوبہ تھا جو 1980 کی دہائی میں شروع کیا گیا۔ اس طیارے کا مقصد بھارتی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور دفاعی صنعت میں خود انحصاری کو فروغ دینا تھا۔ بھارت کے دفاعی اداروں نے تیجس لڑاکا طیارے کو اس لیے بھی تیار کیا تھا تاکہ وہ اپنے سوویت دور کے MiG-21 طیاروں جنہیں اڑتے تابوت کہا جاتا تھا کو تبدیل اور اپنی فضائی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرسکے۔
تیجس طیارہ ایک سنگل انجن والا طیارہ ہے، جس میں 50 فیصد سے زیادہ حصے بھارت میں تیار کیے جاتے ہیں،جس کا مقصد بھارتی فضائیہ کو جدید ترین لڑاکا طیاروں سے لیس کرنا تھا تاکہ وہ اپنی دفاعی تقاضوں کو پورا کر سکے۔مگر تیجس طیاروں نے جن MiG-21 طیاروں کی جگہ لینی تھی،وہ دبئی ائیر شو میں آگ کے شعلوں میں جب جل رہاتھا،تو گویا بھارتی چیتا کا پورا منصوبہ ہی آگ میں جل بن کر زمین بوس ہوگیا۔ تیجس طیارے کی تیاری میں بھارت کو پہلے ہی کئی مشکلات درپیش ہیں، اور اس کی ترسیل بھی سست رفتاری کا شکار ہے۔ اس طیارے کا پہلا یونٹ 2016 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا تھا، اور اسے “میک ان انڈیا” کے تحت بھارتی دفاعی صنعت کی کامیابی کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔تاہم ابتدا میں ہی اس طیارے کی کارکردگی اور صلاحیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے۔ 2019 میں ایک تیجس طیارہ پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا، جس سے بھارتی فضائیہ کی کارکردگی اور دفاعی صنعت کی تیاری پر اس وقت بھی سوالات اٹھے تھے۔ اس کے بعد مارچ2024 میں بھارتی ریاست راجستھان کے جیسلمیر میں ایک اور تیجس طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ حادثات اس بات کی جانب اشارہ تھے کہ بھارت کی دفاعی صنعت میں ابھی بھی کئی بنیادی تکنیکی مسائل ہیں جن پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ بھارتی ادارے بشمول “ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ ” HAL کی کارگردگی ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی آلات میں خود کو منواسکیں،جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ 21 نومبر 2025 کو دبئی ایئر شو کے دوران تیجس طیارہ نے ایک فضائی کرتب دکھانے کی کوشش کی، لیکن اس دوران طیارہ 1.6 کلومیٹر دور زمین پر منہ کے بل آ گرا۔ طیارہ زمین پر گرنے کی دیر تھی کہ اس نے فورا آگ پکڑ لی،آگ کے شعلے اس قدر بلند تھے کہ طیارے کا پائلٹ سمن سیال اسی آگ کی نذر ہو گیا۔ یہ حادثہ اس ایئر شو کے آخری دن پیش آیا، جس میں مختلف ممالک کے طیارے اور دیگر دفاعی سازوسامان کی نمائش کی جارہی تھی۔حادثے کے ساتھ ہی ایئر شو کو معطل کر کے ریسکیو آپریشن کیا گیا۔جب بھارتی تیجس طیارہ تباہ ہوا،تو اس وقت دبئی کا المکتوم سٹیڈم لوگوں سے بھرا پڑا تھا اور انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سارا منظر دیکھ لیا۔یہ خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بھارتی فضائیہ نے بعد ازاں اس حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق تیجس طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ بھارتی فضائیہ کا کہنا تھا کہ یہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا، لیکن ابھی تک اس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔اس حادثے سے قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بنی،جس میں یہ دیکھا گیا کہ مذکورہ طیارے کے فیول ٹینک سے تیل کا اخراج ہوتا رہا۔جس سے بھارتی فضائیہ اور بھارتی حکومت نے فیکٹ چیک کے ذریعے غلط قرار دیا تھا۔
بھارت نے تیجس طیارے کو ایک کامیاب منصوبہ قرار دیا تھا، اور اس پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی تھی تاکہ اس کے ذریعے بھارت کی دفاعی صنعت کا معیار اور صلاحیت کو جانچا جاسکے۔ لیکن یہ حادثہ بھارت کے دفاعی دعووں کو چیلنج کرتا ہے، خاص طور پر ان دعووں کو جو بھارت نے اپنی دفاعی خود انحصاری اور برآمدات کے بارے میں کیے تھے۔یہ حادثہ عالمی سطح پر بھارت کی سبکی کا باعث بنا ،کیونکہ مودی اور اس کی دفاعی صلاحیتیں دھڑام سے زمین بوس ہوگئیں۔ سوشل میڈیا کے علاوہ عالمی میڈیا پر اس حادثے کی بھرپور کوریج کی گئی ہے، اور بھارتی فضائیہ کی کارکردگی پر پے در پے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کئی دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ تیجس طیارے کے حادثے نے بھارت کی فضائی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر مشکوک بنا دیا ہے، اور اس کی برآمدات کے امکانات بھی اب ختم ہو گئے ہیں۔ خود بھارت کے ایک دفاعی ماہر اورحال ہی میں ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ کمپنی چھوڑ نے والے سابق ایگزیکٹوڈائریکٹر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دبئی حادثہ نے فوری برآمدات کے امکانات ختم کردیے۔
بھارتی دفاعی صنعت کے اندر کرپشن اور معیار کی کمی کی خبریں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں، اور اس حادثے نے ان مسائل کو مزیدبے نقاب کیا ہے۔بھارتی حکومت نے تیجس طیارے کی تیاری کے حوالے سے اپنی دفاعی پالیسی میں کئی تبدیلیاں کی تھیں، لیکن ان تبدیلیوں کے باوجود تیجس طیارہ کئی تکنیکی مسائل کا شکار رہا۔ عالمی دفاعی مارکیٹ میں تیجس طیارے کی برآمدات کے امکانات پہلے ہی محدود تھے اور اس حادثے کے بعد ان امکانات کو مزید دھچکا پہنچا ہے۔ کئی ماہرین نے کہا ہے کہ اس حادثے کے بعد بھارت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کے حوالے سے کئی ممالک از سر نو غور و خوض کریں گے،جبکہ آرمینا نے بھارت کیساتھ تیجس طیاروں کے سودے کی ڈیل منسوخ کی ہے۔ اس حادثے کے فورا بعد بھارتی فضائی کمپنی کے شیئرز میں 2.06 فیصد تک کمی دیکھنے کو ملی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس حادثے کا نہ صرف بھارتی فضائیہ کی ساکھ بلکہ اس کی دفاعی صنعت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔امریکی میچل انسٹی ٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے اس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حادثات بھارتی فضائیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور عالمی سطح پر اس کے دفاعی سازوسامان کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیجس طیارہ جسے بھارت نے اپنے دفاعی منصوبوں کا سنگ میل سمجھا تھا، اب عالمی سطح پر منفی تشہیر کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ حادثہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فضائی کشیدگی کے پس منظر میں بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں کئی فضائی جھڑپیں ہو چکی ہیں،جن میں 27فروری 2019 کو دو بھارتی مگ 21اور رواں برس 06اور 07مئی کی درمیانی رات کو 04فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت 07بھارتی جنگی طیارے پاک فضائیہ کے شاہنوں نے زمین بوس کرکے بھارت کی جنگی عددی برتری کے بت کو پاش پاش کرڈالاہے۔اسی دبئی ائیر شو میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ اور عملہ پاک فضائیہ کے پویلین کے پاس پاکستان کے تیار کردہ جنگی جہاز جے ایف 17تھنڈر کے سامنے کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے رہے۔اس موقع پر دونوں جانب سے مختصر بات چیت کا تبادلہ بھی ہوا اور پاک فضائیہ کے عملے نے بھارتی فضائیہ کو چائے کی پیشکش بھی کی تھی ،لیکن اس نے پانی پر ہی اکتفا کیا تھا۔حالانکہ پاک فضائیہ فنٹاسٹک ٹی پلانے میں دنیا بھر میں مشہور ہے۔جو بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتاری کے بعد پلائی گئی تھی۔حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کی فضائیہ کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر جانچا اور پرکھا گیا ہے۔ بھارت کے تیجس طیارے کا حادثہ پاک فضائیہ کیلئے ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرسکیں۔اس حادثے نے بھارتی ائیر فورس کے پائلٹوں کی پیشہ وارانہ مہارت کو بھی داغدار کیا ہے۔تیجس طیارے کی تباہی پربھارتی اداکاربرادری نریندر مودی پر برس پڑی،وہیں اس حادثے کے بعد بھارتی ائیر چیف کے مستفعی ہونے کے مطالبات میں بھی شدت آگئی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔بدنام زمانہ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی اور سابق بھارتی فوجی آفیسر جی ڈی بخشی پاگل پن کی حد تک تیجس طیارہ حادثے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔ دبئی ایئر شو کا یہ حادثہ بھارتی فضائیہ کیلئے ایک سنگین دھچکا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ اور اس کے جنگی ساز و سامان کی تیاری کے حوالے سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے، جو بھارتی حکام کیلئے ایک چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ بھارت کو اپنے دفاعی منصوبوں، فضائیہ کی کارکردگی اور دفاعی سازوسامان کی تیاری پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے اور بھارت کی دفاعی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔