تحریر:راجہ ظفر حیات خان
دھیرکوٹ کی منجمند سیاست میں اس وقت بہت ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ لوگوں کی نظریں پاکستان کے انتخابات پر مرکوز ہیں . چند روز میں پاکستان میں عبوری حکومت قائم ہونے جا رہی ہے۔ عبوری حکومت کے قیام سے پہلے ہی کچھ آثار واضح ہو نا شروع ہو گئے ہیں کہ مستقبل میں کیا نقشہ بننے جا رہا ہے۔ وہ نقشہ پورے پاکستان سمیت آزاد کشمیر میں بھی اثر انداز ہو گا اور اس کے اثرات دھیرکوٹ کی سیاست پر بھی پڑیں گے۔یہی وجہ ہے کہ جوں جوں پاکستان عبوری حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے تو آزاد کشمیر سمیت دھیرکوٹ میں بھی سیاست میں طوفان بڑھ رہا ہے۔
دھیرکوٹ آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک زمانے میں نقطہ آغاز ہوتا تھا لیکن سردار عبدالقیوم خان کے وصال کے بعد دھیرکوٹ کی وہ مرکزی حثییت اس طرح نہیں رہی .تا ہم سردار عتیق خان چوتھی مرتبہ اس حلقہ انتخاب سے الیکشن جیت کر نا قابل تسخیر ہیں۔ ان کو بچھاڑنے کے تمام تر حربے بے سود جا رہے ہیں۔ دھیرکوٹ میں سردار عتیق خان کے مقابلے میں قد آور سیاسی رہنماء اپوزیشن کی سیاست میں موجود ہیں۔ جن میں راجہ افتخار ایوب خان ، میجر لیطیف خلیق سمیت دیگر لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن یہ حلقہ گزشتہ پچاس سال سے مسلم کانفرنس کی سیاست کا گڑھ بنا ہو ا ہے۔ ایک زمانے میں راجہ آصف علی خان اس علاقے میں اپوزیشن کی علامت سمجھے جا رہے تھے لیکن ان کی وفات نے اپوزیشن حلقوں کو کمزور کیا ہے ۔ ان کے بعد دھیرکوٹ میں راجہ افتخار ایوب خان اور میجر لطیف خلیق نے یہ محاذ مضبوطی سے سنبھال کررکھا ہوا ہے۔
سردار عتیق خان کی جماعت مسلم کانفرنس اس وقت پورے آزاد کشمیر مین سکڑ کر صرف ایک حلقہ تک محدود ہو چکی ہےلیکن یہاں اپوزیشن کی مناسب حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے عتیق خان کو کوئی خاس مشکلات درپیش نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت محفوظ سمجھتے ہیں۔ پہلی بار وہ انوار حکومت کا حصہ نہیں بنے اور اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حالانکہ قبل ازیں وہ ہر حکومت میں شامل رہنا ضروری سمجھتے رہے ہیں۔ دھیرکوٹ کی مضبوط اپوزیشن ہونے کے باوجود سردار عتیق خان کو حکومت سے باہر رکھنے میں ناکام رہی۔ یہاں کے باسیوں کی شدید خواہش رہی کہ کسی طرح سردار عتیق حکومت کا حصہ نہ بنیں لیکن اس میں بر ی طرح ناکامی رہی ۔
دھیرکوٹ کی سیاست جو کافی عرصہ سے منجمند تھی اس میں اس وقت ہلچل پیدا ہوئی جب سردار ساجد عباسی نے انٹری ماری۔ سردار وساجد عباسی ایک متوسط خاندان کے پس منظر کے حامل شخصیت ہیں لیکن ذاتی طور پر عرصہ دراز سے متحدہ عرب آمارات میں مقیم ہیں .وہ بہت بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیوں کے مالک ہیں ۔ وہ ارب پتی انسان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت انسانیت کا احترام کرنے والے انسان ہیں۔ انھوں نے علاقے کی پسماندگی کا احساس کرتے ہوئے حلقے میں تعمیر وترقی کے لیے انقلابی اقدامات کرنے شروع کیے تو اپوزیشن سمیت سردار عتیق خان کو بھی کافی تشویس میں مبتلاء کر دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ سردار عتیق خان کو ایک انٹرویو میں کہنا پڑا کہ پیسے کا سیاست سے تعلق نہیں ورنہ حبیب بنک کا مالک ملک کا وزیر اعظم ہوتا۔
سردار ساجد عباسی نے حلقہ دھیرکوٹ میں پسماندگی کا احساس کرتے ہوئے ہر یونین کونسل کو ٹارگٹ کرنا شروع کیا ہے اور ہر یونین کونسل کے لیے قریب قریب ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کر کے علاقے کی تعمیر و ترقی کی بنیاد رکھنی شروع کی ہے۔ ساجد عباسی کے ان اقدامات نے دھیرکوٹ میں اپوزیشن کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں لیکن ان کی یہ ساری کوشش کاوش اس وقت کار گر ثابت ہو گی جب وہ کوئی باضابطہ سیاسی جماعت میں جانے کا فیصلہ کریں گے۔ اس وقت تک وہ کوئی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ۔ اس وقت وہ اس بات پر پور غور کر رہے ہیں کہ کون سی سیاسی جماعت میں جا کر وہ عوام کی خدمت کے لیے اپنی خدمات پیش کریں۔ اس حوالے سے ان کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ مشورے جا ری ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ساجد عباسی کو اس وقت حلقہ غربی باغ میں بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہے . یہ عوامی مقبولیت ان کے سیاسی مستقبل کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن ایسے موقع پر انھیں بہت سنجیدگی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی ضرور ت ہے۔ایک وقت میں اس حلقہ میں اپوزیشن رہنماء کے طور پر راجہ آصف علی خان کو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی لیکن آزاد کشمیر کی ساری مرکزی لیڈر شپ نے مل کر انھیں اس طرح کچلنے کی کوشش کی کہ آخری انتخابات میں ان کو پارٹی ٹکٹ سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس وقت ساجد عباسی کو حلقہ بھر میں اس سے بڑ ھ کر مقبولیت حاصل ہے اور لوگ جوق در جوق ان کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں ۔ اس کے پیچھے عوام کی دیگر اپوزیشن سے مایوسی کا عنصر بھی موجود ہے۔
لوگ اپنی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں خشک نعرے عوام کے دکھوں کا مداوعا نہیں کرسکتے۔ لوگ سیاسی جماعتوں اور روائتی سیاسی لیڈر شپ سے اکتا چکے ہیں۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ۔ لوگ ایک ایسی لیڈر شپ چاہتے ہیں جو ان کی پسماندگی کو دور کر سکے جو ان کے مسائل کے حل کے لیے یقینی کردار اداء کر سکے۔ اس لیے لوگوں میں آئے روز مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ِدھیرکوٹ میں اپوزیشن کی معروف شخصیات میں راجہ افتخار ایوب خان کو یہ افادیت حاصل ہے کہ وہ مرکز میں رہتے ہیں اور ہر وقت عوام کو میسر رہتے ہیں لیکن وہ عمر کے ایک ایسے حصے میں کہ جہان وہ زیادہ سرگرمیاں کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں . اس کے باوجود آزاد کشمیر کی سیاست میں اور بیوروکریسی میں ان کا بہت اثر رسوخ ہے۔ ان کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر سمیت پاکستان میں مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ میں بھی بہت با اثر ہیں۔
ذرائع اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ آمدہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ انہی کے پاس رہے گا۔سردار عتیق خان کے بعد حلقہ میں ان کو راجہ اشراف خان سمیت زبردست ٹیم کا ساتھ حاصل ہے بلخضوص گاوں کوٹلی سے تعلق رکھنے والے راجہ عابد علی عابد رنگلہ یونین کونسل سے راجہ نواز، ہلسرنگ سے سید فاروق شاہ،مسرور عباسی ،چڑالہ سے جنت حسین عباسی اور کلس سیسر سے ایس پی ریٹائرد ریاض احمد عباسی،ملوٹ سے راجہ فیصل آزاد سابق امید وار اور سمیت ایک مضبوط ٹیم میسر ہے۔ ٹکٹ حاصل کرنے کے باوجود وہ کیا کارکردگی دیکھاتے ہیں۔ یہ وقت بتائے گا۔
میجر لیطیف خلیق بھی اپنی سیاسی اننگز کھیل چکے ہیں۔ اب وہ مزید کسی سرگرمی کو پرجوش انداز سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ البتہ سیاست میں ان کی خدمات اور اثر رسوخ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔وہ خود تو کئی الیکشن لڑنے کے باوجود کامیابی حاصل نہ کر سکے لیکن کسی کی کامیابی کے لیے ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مبشر اعجاز پیپلز پارٹی کے رہنماء ہیں لیکن پارٹی میں ان کی گرفت اس طرح نہیں ۔ انھیں پارٹی کے اندر کافی مزاحمت کا سامنا ہے۔ بلخصوص حلقہ دھیرکوٹ مین انھوں نے بلدیاتی انتخابات میں اپنی یونین کونسل سے ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا جس میں ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ ا جس کے بعد ان کی سیاسی پوزیشن پہلے سے کافی کمزور ہو چکی ہے۔ اسی طرح اگر اپوزیشن کے دیگر کرداروں پر نظر ڈالی جائے تو وہ کافی کمزور ہو چکے ہیں ایسے میں ساجد عباسی نے دھیرکوٹ کی سیاست میں اپنی موجودگی کا احساس دلا کر دھیرکوٹ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مستقبل کا اگر تجزیہ کیا جائے تو آزاد کشمیر مین مسلم لیگ ن کی جب سے نئی تنظیم سازی ہوئی ہے تو ابھی تک مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اس طرح اپنی پوزیشن کو مستحکم نہیں کر سکی ۔ راجہ فاروق حیدر خان اور شاہ غلام قادر میں کافی دوری پائی جا رہی ہے۔راجہ فاروق حیدر خان کے چاہنے والوں نے شاہ غلام قادر کی صدارت کو ابھی تک اس طرح قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی پوزیشن کو دھچکا لگ سکتا ہے ۔ایسے میں آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کا مستقبل مستحکم نظر آرہا ہے۔
دھیرکوٹ میں اگر پیپلز پارٹی کو ایک مستحکم لیڈر شپ میسر ہو تو آنے والے وقت کا فائدہ اٹھا کر دھیرکوٹ کی سیاست میں ایک انقلاب بر پا ء کیا جاسکتا ہے۔
مسلم لیگ مقامی سطح پر بہت انتشار کا شکار ہے۔ لوگ مسلم لیگ کی مقامی لیڈرشپ سے بہت مایوس ہیں. اس لیے لوگوں کی نظریں اب پیپلز پارٹی کی طرف جا رہی ہیں۔اس لیے وقت اور حالات کا احساس کرتے ہوئے ساجد عباسی کو درست فیصلہ کر نے کی ضرورت ہے۔ تا کہ حلقہ میں اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر اور میجر لطیف خلیق سمیت پسے ہوئے طبقات کو ساتھ کھڑا کر کے اگر الیکشن میں جایا جائے تواس بات کے امکانات بہت بڑھ جا تے ہیں کہ ساجد عباسی جس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں وہ ان کو حاصل ہو جائے۔ساجد عباسی نے حلقے میں حقیقی اپوزشن رہنماء کا کردار سنبھال لیا ہے تو آنے والے وقت کے لیے درست سیاسی راستے کا انتخاب ضروری ہے۔ اس لیے ساجد عباسی کو دل سے نہیں بلکہ دماغ سے سوچ کر پوری حکمت عملی سے اگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔