آتالیق، باسط علی
سال2020 ء میں آسٹریلیاء کےجنگلات میں آگ لگتی ہے۔ اس آگ نے جہاں جنگلات کو راکھ کا ڈھیر بنایا وہیں جانوروں کو بھی بھُن کے رکھ دیا۔ چونکہ آسٹریلیاء ایک ڈویلپٹڈ مملکت ہے۔ آگ پہ قابو پانے کے لئے پورا سسٹم حرکت میں آگیا۔ جدید ٹیکنالوجی سے مزین فائر ایکسٹنگشورز کا استعمال کیا گیا۔ ماہر فائر فائٹرز کی مدد لی گئی۔ جانوروں کو ریسکیو کرنابڑا چیلنج تھا ۔ معصوم جانوروں کو بچانےکےلئے گورنمنٹ میشنری کے شانہ بشانہ سویلین رضاکاروں نے بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ لوگ اپنی گاڑیاں لے کے جنگلات کی جانب نکل پڑتے اور جہاں کہیں نھنے ہرن، کینگرو، گلہریوں جنگلی بلیوں سمیت کوئی نھنا جانور دیکھتے اسے اٹھا کر فوراً ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کرتے۔ بڑے جانور جیسے ہاتھی زیبرا گھوڑے سور وغیرہ کو ٹرکوں کے زریعے ہاسپٹل منتقل کیا جاتا۔
ہاسپٹلز میں ایمرجنسی نافذ تھی۔ تمام سٹاف جانوروں کو طبعی امداد دینے میں مشغول تھا۔ کہیں جلے جانوروں کو مرہم پٹیاں کی جاتیں، کہیں انتہائی نگہداشت روم میں سیریس مریض جانوروں کا فوری آپریشن کیا جاتا۔ انہیں خوراک دی جاتی پانی پلایا جاتا اور زندہ رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی۔ ادھر تمام ٹیلی وژن چینلز پہ جھلسے جانوروں کو دیکھایا جاتا ہے۔ کہیں گوری چمڑی والی دوشیزہ کسی جلی گلہری کو ہاتھوں میں لئے رو رہی ہے۔ کہیں کوئی آنٹی کسی زخمی ہرن کو سہلا کر پھوٹ پھوٹ کہ رو رہی ہیں۔ کہیں جنگل میں جلے درختوں کے نیچے کسی کینگرو کی جلی لاش دیکھا کر پوری دنیا کے لوگوں کی سوئی ہوئی غیرت کو جھنجوڑا جاتا ہے۔ کہ ان بے زبان جانوروں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟کافی دن تک اس گھٹنا کا ووایلا مچارہا۔ بی بی سی، سن ٹی وی، الجزیرہ، سکائی نیوز، فاکس نیوز، ڈی ڈبلیو سمیت تمام چھوٹے بڑے الیکٹرنک و پرنٹ میڈیاء نے اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کہ حصہ لیا.
سرکاری سطح پہ ایک ہائی پرو فائل تحقیقاتی کمیشن بنا جس نے اس آگ کی وجہ ماحولیاتی آلودگی قرار دی۔ ملکی اور غیر ملکی سطح پہ ماحولیاتی آلودگی پہ سیمنار منعقد ہوۓ۔ ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کے انسداد کے لئے ماہرین متحرک ہوۓ۔ سیاسی رہنماء اور قائدین نے دوسرے ممالک کو بھی پابند کرنے کی صلاح دی۔ یو این جنرل اسمبلی میں بھی گرین ہاوس گیسز ایمیشن کے انسداد کو لے کر بڑی لمبی چوڑی بحث ہوئی۔ اور معصوم بے زبان جانوروں کا قاتل بنی نوع کی نسل نو کو قرار دیا گیا۔ آگے بنی نوع کو پابند کیا گیا کہ مزید ایسی حرکتوں سے باز رہے جو چرند پرند کے نقصان کا باعث بنے۔
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔ گذشتہ دو ماہ سے غزہ میں لگی آگ سے ہزاروں بچے لقمہ اجل بنے۔ بے گناہ بچے عورتیں بوڑھے اور معصوم بے دردی سے قتل کیے جاتے۔ کہیں انسانی غیرت جاگنے کا نام نہیں لیتی۔ ہر ایک گھنٹے میں ایک معصوم بچے کو شہید کیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں پہ بم گرا کر مریضوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پناہ گزینوں کے کیمپوں پہ آگ برسائی جاتی ہے۔ لاکھوں انسانوں کا محاصرہ کر کے انہیں بھوک پیاس سے مارا جارہا ہے۔ کہیں کسی بھی انسان کو خیال نہیں آتا اس ظلم کے خلاف آواز حق بلند کی جاۓ۔ اس ظلم کو روکا جاسکے۔ پوراعالم میڈیا بے غیرتی سے مجرمانہ چپ سادھے بیٹھا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں، این جی اوز، چیریٹیز، عیسائی، ہندو، مسلمان،سکھ تمام مٹھی بھر یہودیوں کے چیلے بن چکے ہیں۔ کوئی بھی صہیونی بدمعاش کو لگام ڈالنے کی جسارت نہیں کرتا۔
امریکہ، جیسی سپر پاور، انگلینڈ، یورپ اسٹریلیاء اور پوری مغربی دنیا الغرض عالمی میڈیا یہودیوں کی رکھیل بن چکے ہیں۔ اس ظلم کے سامنے ساری دنیا نے جیسے آنکھیں موند لی ہوں۔ اپنے کتے بلیوں کا مہینوں مہینوں سوگ بنانے والے ڈھونگی انسانی حقوق کے علمبردار ادھر توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ دو ارب کے لگ امت مسلمہ جن میں معاشی طور پہ مستحکم عرب، اٹامک سپر پاور پاکستان، ترقی یافتہ ترکی، ملیشیاء، انڈونیشیاء اور مراکش سمیت تمام عالم کی طرح خاموش تماشائی بن کر اس قتل عام کا نظارہ کر رہے ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب الہامی و آسمانی کتابیں محبت اور امن کا درس دیتے ہیں۔ تورات، زبور، انجیل، قرآن مجید گیتا سمیت کوئی بھی ایسی مذہبی کتاب جس میں امن و محبت کا پیام نہ دیا گیا ہو۔ مگر چشم فلک اس دھرتی پہ اس جرم کا مرتکب ہر ہر مجرم کو دیکھ رہا ہے.
سوئی ہوئی امت مسلمہ کو کوئی بتا دے کہ ظلم کی پہ اس حالت میں جہاد فرض ہوتا ہے۔ اگر ایسے ہی خاموشی کا پیکر بنے رہے تو جلد کوئی چینگیز خان اللہ کے قہر کی صورت میں تمھاری خبر گیری کرنے آۓ گا۔ پھر بغداد اور دمشق کے آرام پسندوں کی طرح ہر ایک آرام پسند اس عذاب الہی کا حقدار ٹھہرے گا۔پوری دنیا سے سوال ہے کہ ان معصوموں اور بے گناہوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے۔ ان کےلئے بھی کوئی تحقیقاتی کمیشن بنے گا؟