راجہ ظہیر عزیز ، انسانیت کا قدر دان اور انتہائی باوقار کردار

115

تحریر: ماجد ارشاد
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مٹی میں برابر مقدار میں نم ھہے اور اس میں کمال کی زرخیزی پائی جاتی ھے، ہمارے ان پربتوں کے خطے نے کمال ہیروں جیسے انمول لوگ پیدا کئے جنھوں نے اپنی ذہانت سے ایسے انمول کام کئے جس سے انھوں نے اپنے خطے و معاشرے کو جہاں بھر میں ممتاز کیا اور اپنے سماج و علاقے کو مثالی بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اقبال نے تو ایسے ہی نہیں کہہ دیا کہ فطرت کی امنگوں کی کرتا ھے نگہبانی لالہ صحرائی یا مرد کوہستانی کوہستانوں کی ملکہ کشمیر کے کنارے کے باسی کوہستانیوں میں کمال کے کوہستانی بھی موجود ہیں جن میں شجاعت، بہادری، عزم مصمم ، خوداری، ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا ھے، انھی مرد کوہستانی میں ایک صاحب ذی وقار راجہ ظہیر عزیز بھی موجود ہیں جن کا وجود اطہر، زیرک ذہین اور ایثار بھرا دل خلق خدا کیلئے باعث رحمت ھے، راجہ ظہیر کا تعلق غازیوں و شہداء کی دھرتی عظیم منگ سے ھے، آپ کا گھر موجودہ پونچھ یونیورسٹی منگ کیمپس کے بالکل قریب ھے، آپ مشہور قلعہ منگ کے بالکل قریب کے باسی ہیں، یاد رھے پہ وہ قلعہ ھے جس کے ساتھ کہو زیتون کا ایک قدیم درخت ھے جس کے ساتھ لاھور سکھا شاہی دربار کی فوج نے یہاں کے بہت سے مزاحمت کاروں کی الٹا لٹکا کر زندوں کی کھالیں اتروائی تھیں، راجہ ظہیر عزیز کا مسکن اس متبرک مقام کے ساتھ ھے، جناب محترم راجہ ظہیر عزیز کے والد محترم جناب راجہ عزیز عین شباب میں پاک فوج میں بحثیت ایک معالج ڈاکٹر کے اپنی خدمات سر انجام دیتے رھے فوج سے سبکدوش ھونے کے بعد جناب ڈاکٹر عزیز سعودی عرب چلے گئے اور کنگ فہد ہسپتال میں بحثیت ایک ڈاکٹر کے لمبا عرصہ اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے.

جناب راجہ ظہیر رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے پاکستان میں منسلک ہیں انھوں نے انتہائی دیانتداری سے اپنے زیرک ذہین کو استعمال کرتے ھوئے بہت سے رئیل اسٹیٹ کے پراجیکٹس کو کامیاب بنایا اور بے شُمار غربا کو فائیدہ پہنچایا، راجہ ظہیر کی وجہ سے آج بہت سے احباب کروڑوں کی جائیداد کے وارث بن چکے ہیں، جموں کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کو کامیاب بنانے میں راجہ ظہیر کا اہم اور کلیدی کردار ھے، آج کل راجہ ظہیر راولپنڈی اسلام آباد کے کئی ایک اچھے ہاوسنگ پراجیکٹس پر کام کر رھے ہیں، راجہ ظہیر کا کوئی ایسا ویسا کام نہیں آپ کا نام ایک اعتماد و کامرانی کا برانڈ بن چکا ھے، راجہ ظہیر بہت بڑے انسان اور انسانیت کے قدر دان ہیں، انتہائی پر خلوس اور انسانیت کی خدمت کرنے والے عظیم شخص ہیں، آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا، راجہ ظہیر دھرتی کی پہچان ہیں، آپ کئی ایک فلاحی اداروں کی سرپرستی بھی کر رھے ہیں دکھی نادار بےبس لوگوں کی دلجوئی میں ہمہ وقت پیش پیش رہتے ہیں، غیرت حمیت سخاوت و انسان دوستی میں راجہ ظہیر اپنا ثانی نہیں رکھتے، آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کئی ایک زبانوں پہ عبور رکھتے ہیں، وطن کی ترقی اور خوشحالی کیلئے راجہ ظہیر اپنا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے، منگ کی جراتوں کی امین سر زمین کے باسی راجہ ظہیر کی صفات و اچھائیاں بیان کرنے کیلئے ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں جو ان کی شان و عظمت کی سنہری داستان بیان کر سکے، دعا ھے کہ اللّٰہ پاک وطن کی ترقی کیلئے کوشاں راجہ ظہیر کو صحت تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے اور تادیر خدمت انسانیت کی توفیق عطا فرمائے آمین .

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مٹی میں برابر مقدار میں نم ھے اور اس میں کمال کی زرخیزی پائی جاتی ھے، ہمارے اس پربتوں کے خطے نے کمال ہیروں جیسے انمول لوگ پیدا کئے جنھوں نے اپنی ذہانت سے ایسے انمول کام کئے جس سے انھوں نے اپنے خطے و معاشرے کو جہاں بھر میں ممتاز کیا اور اپنے سماج و علاقے کو مثالی بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اقبال نے تو ایسے ہی نہیں کہہ دیا کہ فطرت کی امنگوں کی کرتا ھے نگہبانی لالہ صحرائی یا مرد کوہستانی کوہستانوں کی ملکہ کشمیر کے کنارے کے باسی کوہستانیوں میں کمال کے کوہستانی بھی موجود ہیں جن میں شجاعت، بہادری، عزم مصمم ، خوداری، ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا ھے، انھی مرد کوہستانی میں ایک صاحب ذی وقار راجہ ظہیر عزیز بھی موجود ہیں جن کا وجود اطہر، زیرک ذہین اور ایثار بھرا دل خلق خدا کیلئے باعث رحمت ھے، راجہ ظہیر کا تعلق غازیوں و شہداء کی دھرتی عظیم منگ سے ھے، آپ کا گھر موجودہ پونچھ یونیورسٹی منگ کیمپس کے بالکل قریب ھے، آپ مشہور قلعہ منگ کے بالکل قریب کے باسی ہیں، یاد رھے پہ وہ قلعہ ھے جس کے ساتھ کہو زیتون کا ایک قدیم درخت ھے جس کے ساتھ لاھور سکھا شاہی دربار کی فوج نے یہاں کے بہت سے مزاحمت کاروں کی الٹا لٹکا کر زندوں کی کھالیں اتروائی تھیں، راجہ ظہیر عزیز کا مسکن اس متبرک مقام کے ساتھ ھے، جناب محترم راجہ ظہیر عزیز کے والد محترم جناب راجہ عزیز عین شباب میں پاک فوج میں بحثیت ایک معالج ڈاکٹر کے اپنی خدمات سر انجام دیتے رھے فوج سے سبکدوش ھونے کے بعد جناب ڈاکٹر عزیز سعودی عرب چلے گئے اور کنگ فہد ہسپتال میں بحثیت ایک ڈاکٹر کے لمبا عرصہ اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے.

جناب راجہ ظہیر رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے پاکستان میں منسلک ہیں انھوں نے انتہائی دیانتداری سے اپنے زیرک ذہین کو استعمال کرتے ھوئے بہت سے رئیل اسٹیٹ کے پراجیکٹس کو کامیاب بنایا اور بے شُمار غربا کو فائیدہ پہنچایا، راجہ ظہیر کی وجہ سے آج بہت سے احباب کروڑوں کی جائیداد کے وارث بن چکے ہیں، جموں کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کو کامیاب بنانے میں راجہ ظہیر کا اہم اور کلیدی کردار ھے، آج کل راجہ ظہیر بحریہ ٹاؤن اور دیگر کئی ایک پراجیکٹس پر کام کر رھے ہیں، راجہ ظہیر کا کوئی ایسا ویسا کام نہیں آپ کا نام ایک اعتماد و کامرانی کا برانڈ بن چکا ھے، راجہ ظہیر بہت بڑے انسان اور انسانیت کے قدر دان ہیں، آپ کے در سے کوئی خالی نہیں جاتا، راجہ ظہیر دھرتی کی پہچان ہیں، آپ کئی ایک فلاحی اداروں کی سرپرستی بھی کر رھے ہیں دکھی نادار بےبس لوگوں کی دلجوئی میں ہمہ وقت پیش پیش رہتے ہیں، غیرت حمیت سخاوت و انسان دوستی میں راجہ ظہیر اپنا ثانی نہیں رکھتے، آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کئی ایک زبانوں پہ عبور رکھتے ہیں، وطن کی ترقی اور خوشحالی کیلئے راجہ ظہیر اپنا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے، منگ کی جراتوں کی امین سر زمین کے باسی راجہ ظہیر کی صفات و اچھائیاں بیان کرنے کیلئے ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں جو ان کی شان و عظمت کی سنہری داستان بیان کر سکے، دعا ھے کہ اللّٰہ پاک وطن کی ترقی کیلئے کوشاں راجہ ظہیر کو صحت تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے اور تادیر خدمت انسانیت کی توفیق عطا فرمائے آمین .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں