تحریر:نعیم الحسن نعیم
اتنی جوان موت تھی، اتنی جوان موت اتنی کہ ہر جوان کی چیخیں نکل گئیں۔وہ کیا خوب زندگی ہے۔جوموت کے بعد بھی مسکرائے۔
کبھی دن کے اجالے میں ،کبھی ڈھلتی رات میں کبھی یاروں کی محفل میں ،کبھی بدلتے موسم میں.یاد بھی ایسی کہ سب کچھ یاد کرادے۔قاید نوجوانان راجہ وقاص نسیم مرحوم کس کو یاد ہوں گے ؟کون بھول چکا ہوگا.راجہ وقاص نسیم مرحوم نوجوانوں کے دلوں میں بسنے والے تھے . اتنا پیار اتنی محبت کسے نصیب میں ملے گی۔باغ شہر اپنی جگہ قائم ہے۔ہاڑی گہل میں موسم آ اور جا رہے ہیں۔
سیاست بھی قائم و دائم ہے.وسطی باغ کے کل ہہ سیاسی حریف آج دوست بن چکے ہیں مگر راجہ وقاص نسیم کبھی نہیں آئیں گے۔سچ کا داعی ،عمل کا پیکر ،یاروں کا یار نوجوانوں کا قائد اصولوں کا پکا دبنگ نوجوان میرا بھائی میرا شیر کے نام سے مخاطب کرنے والا،بہادر اور شجاع.باغ کے ہر چوک چوراہے پہ سیاسی کارکنوں کے حق کی بات کرنے والا سابق وزیر حکومت کرنل نسیم مرحوم کا لخت جگر اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ چکے ہیں.
آج یاد آئی اور بہت آئی. الفاظ نہیں کہ محبت کے پھول نچھاور کروں.جملے ختم ہو گئے۔سوچ میں سوچ امڈ رہی ہے۔وہ ملنسار نوجوان وہ مہربان اور شفیق انسان.وہ کھرا اور بیباک وہ بہادر نوجوان وہ کرنل نسیم کا حقیقی وارث۔راجہ وقاص نسیم جس کا سر ہمیشہ سربلند رہا بلند سوچ.عظیم فکر کاش کہ پہاڑ نہ ہوتے اور ان کا پھیلاو بہت زیادہ ہوتا.بہرحال زندگی گزاری ،خوب گزاری سر اٹھا کر گزاری سچ کے سنگ گزاری۔عزت اور شان سے گزاری غریب اور پسے ہوئے طبقے کے لئے لڑتے ہوئے گزاری.کچھ لوگ دنیا میں ایسے آتے ہیں جو اپنے اخلاق، محبت اور خلوص سے سب کے دلوں میں گھر بنا لیتے ہیں۔ راجہ وقاص نسیم مرحوم انہی میں سے ایک تھے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ صرف وقت نہیں بھر سکے گا، کیونکہ ایسے لوگ یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ان کی محفل میں ایک عجیب سی راحت ہوتی تھی۔ ان کا مسکرانا، محبت سے نام لے کر بات کرنا، اور اپنے ہر دوست و رشتے دار کو یہ احساس دلانا کہ وہ اہم ہے یہ سب ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ وہ خوشیوں میں سب سے آگے اور غم کے وقت سب سے پہلے پہنچنے والے تھے۔
ان کی زندگی ایک کتاب تھی، جس کے ہر صفحے پر اخلاص لکھا تھا۔ ان کے ساتھ گزرا ہر لمحہ آج قیمتی خزانے کی مانند دل میں محفوظ ہے۔ جب کبھی ان کی یاد آتی ہے تو دل بھاری ہو جاتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ سکون بھی ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایسے گزاری کہ ہر دل ان کا گواہ ہے۔بلا کی انرجی، بلا کا جوش ، زبردست یاداشت، گفتگو میں کمال، چاروں طرف رابطے، ہر بات پر نظر ، بھرپور زہانت اور جرات، زندہ دل وقاص نسیم سے تعلق سیاست سے بڑھ کر زاتی ہو گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف ضلع باغ کے صدر بنے تو انکے ساتھ جدوجہد مل جل کر کی، میں ہمیشہ ان سے کہتا رہتا تھا یہ انرجی بچا کر رکھو بڑھاپے میں کام آئے گی تو کہتے تھے کے جس طرح لوگ میرے پیچھے پڑے ہیں مشکل ہے بڑھاپا دیکھ سکوں.قدرت کو شاید یہی منظور تھا. 15 اگست کا دن ہماری زندگی میں وہ زخم دے گیا جو زخم مرتے دم تک نہیں بھر سکتا۔
15 اگست 2021 رات کو ہمارے پیارے قائد،ہمارے پیارے بھائی ،دوست راجہ وقاص نسیم اس دنیا فانی سے رخصت ہو کر اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گے تھے۔آج راجہ وقاص نسیم مرحوم کو ہم سے بچھڑے چار سال گزر گئے ۔اس کے باوجود اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے ۔موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن جس جرات ہمت دلیری اور جواں مردی سے راجہ وقاص نسیم نے باغ کی سیاست میں ایک تاریخ رقم کی تھی وہ یاد رہے گی۔وہ چند ساعت کے لیے آیا اور چھا گیا باغ کے گلی کوچے آج بھی راجہ وقاص نسیم مرحوم کی سچائی کی گواہی دے رہے ہیں. وقاص نسیم نے جہاں اپنی سیاست کو وسطی باغ کے گراس روٹ لیول تک منظم کیا۔ وہی میڈیا پر مختلف انٹرویوز کے دروان یہ ثابت کیا کہ وہ باغ کی ایک مضبوط ،طاقت ور جاندار آواز ہیں.ان پر آزمائشوں کے بت گرائے گئے لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ فیک وڈیوز بنا کہ انکو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میرے رب نے انہیں مزید عزت دی مجھ سمیت باغ کے وہ خود دار غیرت مند لوگ جو اس نوجوان کے ساتھ چلے.
وہ ان لمحات کو قابل فخر سمجھتے ہیں.ہمارے لوگ بمشکل باغ تک کسی احتجاج میں جاتے ہیں ۔لیکن راجہ وقاص نسیم کے ساتھ وہ بنی گالا میں بھی پہنچ گئے.جاندار احتجاج کے نتیجے میں جہاں تحریک انصاف کی سیکنڈ لائن قیادت کو ان سے مذاکرات کرنے پڑے وہی مین سٹریم میڈیا پر ان کو مکمل کوریج دی گی وقاص نسیم نے کمال مہارت سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کر اپنے ساتھیوں کو واپس بھیج دیا.ایسے سیاسی فہم و فراست کہتے ہیں.اسلام آباد ،مظفرآباد اور باغ کی سیاست میں وقاص نسیم کا اپنا ایک سیاسی تعلق تھا جو یہ ثابت کر تھا کہ وقاص نسیم آنے والے دور میں آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے جا رہا ہے.لیکن شاید کچھ لوگوں کو وقاص نسیم مرحوم جیسا نوجوان لیڈر قبول نہیں تھا وقاص نسیم کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ کرنل نسیم مرحوم کا خون تھا.جس کے خون میں جھکنا بکنا نہیں تھا جس کی زبان پہ صرف سچ تھا جس کا دل صاف تھا جس نے بغض حسد اور گالم گلوچ سے پاک سیاست کی بنیاد رکھی جس نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لیے لڑتے ہوئے مر جانا بہتر سمجھا۔
وقاص نسیم کی زندگی میں اس کے سیاسی حریف ،اس کی سیاست کے معترف رہیں۔لیکن بدقسمتی سے اپنوں نے وفا نہیں کی۔قرب قیامت کے نزدیک مکافات عمل میں دیر نہیں لگتی۔دیکھ لو زمینی خدا آج زمین بوس ہو چکے ہیں.وہ جو اپنے آپ کو سیاسی طور پر نا قابل تسخیر سمجھتے تھے آج اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں وہ جو دولت کی چمک سے لوگوں کو خرید ریے تھےاج رسوا ہو رہے ہیں انکی سیاست ختم ہو چکی ہے. وقاص نسیم تو زندہ و تابندہ ہے۔اللہ تیری قبر کو منور کرے.
شاعر نے شاید راجہ وقاص نسیم مرحوم جیسی شخصیات کے لیے ہی کہا تھا کہ
وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پے واجب ہے
تمام عمر اس کے بچھڑنے کا غم کیا جائے.
آج ہم راجہ وقاص نسیم مرحوم کو محبت، عزت اور دعاؤں کے ساتھ یاد کر رہے ہیں۔ان کی یادیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی نیک سیرت اور خدمتِ خلق کا جذبہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔کرنل نسیم مرحوم کے نظریات کے پیروکار نوجوانوں کے قائد سابق صدر پاکستان تحریک انصاف ضلع باغ راجہ وقاص نسیم مرحوم کی چوتھی برسی کے موقع انکی سیاسی و سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں دعاگو ہوں کہ اللہ رب العالمین راجہ وقاص نسیم مرحوم کی مغفرت فرمائے. آمین ثم آمین.
اے بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نے ۔
پنچھی وہ اُڑائے جو اُڑنے کے نہیں تھے۔
دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے مالک۔
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے.