راچی کی بسمہ سولنگی اور بہالپور اسلامیہ یونیورسٹی سکینڈل، خدا راہ تعلیم کے ساتھ کھلواڑ بند کرو

98

مولف: باسط علی
طلباء کو لیپ ٹاپ بانٹ کر والدین سے ووٹ بٹورنے والے حکمران، جانتے ہیں کہ اس جاہل معاشرے کے اندھے بہرے لوگ صرف ایک آدھ روٹی کی مار ہیں۔ پندرہ ہزار کا یہ ناکارہ براۓ نام لیپ ٹاپ غریب عوام کو لاکھوں میں پڑھتا ہے۔ یہی نہیں تعلیم کے نام پہ ہونے والی بدعنوانیوں کی ایسی انگنت داستانیں ہیں۔ تعلیم ریاستی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس معاشی بحران زدہ معاشرے میں اب تعلیم بھی غریب بچوں کی دسترس سے کوسوں دور چلی گئی۔ بہالپور پولیس نے دوران ڈیوٹی ناکے پہ ایک مشکوک گاڑی روکی۔ ڈرائیور جو وضع قطع سے نشے کی حالت میں نظر آرہا تھا۔ پولیس اہلکاران کی مزید تلاشی پہ گاڑی سے آئس برامد ہوئی۔ سروس کارڈ دیکھنے پہ پتا چلا کہ موصوف بہالپور اسلامیہ یونیورسٹی میں چیف سیکیوریٹی آفیسر ہیں۔ اور بھاری مقدار میں منشیات لئے کہاں جارہے ہیں؟

اس کا جواب دینے سے قاصر تھے۔ مزید تلاشی لینے پہ اس آفیسر کے بٹوے سے تین اے ٹی ایم کارڈز ،ممنوعہ جنسی ادویات ،موبائیل فون اور لیپ ٹاپ کی چیکنگ کی گئی تو اس میں جو مواد پولیس کے ہاتھ لگا اسے دیکھ کے انسانیت کا سر شرم سےجھک جاتا ہے۔ اس شخص کے پاس تقریباً چھ ہزار نازیبا عریاں اور غیر اخلاقی سینکڑوں لڑکیوں کی ویڈیوز تھیں۔
اٹھارہ بیس سالہ لڑکیوں کو ہراساں کرنا اور ان کی نازیبا ویڈیوز اور مواد دکھا کر بلیک میل کرنے جیسے مکروہ دھندوں میں ملوث یہ شخص اور اس سےجڑے مزید کردار جوں جوں کھل کر سامنے آرہے تھے، انسانیت اور اخلاقیات کا جنازہ بہت دھوم دھام پاک سر زمین، امت محمدیہ (ص) کے دیس اور اسلام کے قلعے سے رخصت ہو رہا تھا۔ سو شل میڈیا پہ خبر عام ہوئی تو کئی متاثرہ لڑکیوں نے زبان کے قفل توڑے اور اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیم یافتہ شیطانوں کے چہروں سے انسانیت اور شرافت کے نقاب نوچ پھینکے۔

ابھی تو متعلقہ آفیسر تین دن کہ ریمانڈ پہ ہے۔ دوران تفتیش سامنے آنے والے حقائق کیا کیا سفاکی اور درندگی سامنے لائیں گے یہ کہانی ابھی باقی ہے۔ مجبور لاچار باپ مزدوری کر کے بھوک پیاس برداشت کر کے جس طرح سے بچیوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ انہیں کیا خبر یہاں معلم نہیں لٹیرے ہیں۔ جو ان کی بچیوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کرنشے اور بدکاریوں کے عوض ڈگری کی خراج دیتے تھے۔فیل ہونے کے ڈر سے کئی طالبات عصمت لٹانے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی۔ کچھ والدین کی عزت کو بچاتے بچاتے ایسے دلدل میں دھنستی جا رہی تھی جو ان کےضمیر اور پاک دامنی کو تاحیات داغ دار کر رہاتھا۔

ایک اتفاقیہ چیکنگ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ کیا ایک عرصے سے ہونے والے اس مکروہ دھندےسے حکام بے خبر تھے؟ کئی طالبہ لڑکیوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس حوالے سے بارہا وی سی صاحب کو شکایت بھی کی گی لیکن جناب نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ کراچی کی ایک تیرہ سالہ نو عمر طالبہ بسمہ سولنگی نے ایک ایسا چشمہ ایجاد کیا جسے پہن کر ڈرائیور کو نیند نہیں آۓ گی۔ چشمے میں ایسے سینسر لگے ہوۓ ہیں جو انسان کو سونے نہیں دیتے۔ ایک نھنے ذہن کی اتنی بڑی تخلیق کی حوصلہ افزائی کے لئے ہمارے حکمرانوں کے پاس وقت کہاں تھا؟ ادھر تیرہ جماعتی پی ڈی ایم عمران خان پہ جھوٹے کیسز بنانے اور انہیں نااہل کرانے میں مگن تھا۔ ادھر ناسا نے نھنھی بسمہ کی ایجاد کو سنجیدہ لیتے ہوۓ اسے امریکہ بلا لیا۔

انصاف پہ قائم اور تعلیم دوست کفار نے بسمہ میں مستقبل کےآئین سٹائن، نیوٹن اور سٹیفن ہاکنگ کو پہچان لیا تھا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ اور کریٹیویٹی کی قدر ہوتی تو پچھلے ایک سال کے دوران آٹھ لاکھ اعلی تعلیم یافتہ لوگ ملک چھوڑ کہ کیوں جاتے۔ آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لے کے جانے والے لوگ ٹیکنالوجی اور ریسرچ کو فروغ دیتے تو آج ملک و قوم ہر شعبے میں خود کفیل اور دنیا میں عزت دار ہوتی۔ یہاں جامعات میں عزتیں محفوظ نہیں، یہاں ریسرچ کی وقعت نہیں، یہاں تعلیم کی عزت نہیں، یہاں معلم کا مقدس پیشہ بدنام ہے اور یہاں درسگاہیں تہذیب کو نہیں بد تہذیبی کو فروغ دیتی ہیں۔ خداراہ تعلیم کے ساتھ یہ کھلواڑ بند کرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں