رمضان المبارک کی آمد ناجائز منافع خوری

34

تحریر:نعیم الحسن نعیم
رمضان المبارک کا آغاز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھیانک معاشی ماحول میں ہورہا ہے۔ ملک بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ جس کے نتیجے میں مہنگائی کا سیلاب بلا خیز ہے کہ دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہر چیز چاہے وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں یا پہننے کے کپڑے ، روزمرہ استعمال کی دیگر چیزیں ہوں، بجلی ، گیس ، پیٹرول ہو یا ادویات، ہر چیز عام آدمی کی پہنچ اور قوت خرید سے باہر ہے، قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ غربت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ملک کی کثیر آبادی اس وقت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تنخواہ دار و دہاڑی دار طبقہ اس ساری بدحالی سے بہت زیادہ متاثر اور شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ عام آدمی کی جو حالت ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال میں سب سے زیادہ مشکل سفید پوش طبقے کی ہے۔ جو’’پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ معاشرے کی یہ معاشی حالت صرف ’’جگ بیتی ہی نہیں بلکہ ’’آپ بیتی‘‘ جیسی ہے۔ غرض یہ کہ معاشرے کا ہر طبقہ اس معاشی بدحالی سے دو چار اور بد حال ہے۔اس بدترین معاشی ماحول اور انتہا کو پہنچی ہوئی مہنگائی کے عالم میں رمضان المبارک ٓکا آغاز ہونے جا رہا ہے ۔

خدشہ اس بات کا ہے کہ شاید اس معاشی بدحالی کے عالم میں غریبوں کو سحر و افطار کے وسائل بھی میسر نہ ہوں۔ لاکھوں نہیں تو ہزاروں روزے دار ایسے ہوں گے جو پانی سے روزہ رکھنے اور پانی ہی سے افطار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ہر چند کے رمضان جہاں روحانی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں ، مغفرتوں اور سعادتوں کا حامل ہے۔ وہاں مادی اعتبار سے بھی بڑی برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق جس طرح بندوں کے اعمال اور نیکیوں کے اجر و ثواب کو ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے ،اسی طرح اللہ اپنے روزے دار بندوں کے رزق میں بھی برکت اور دسترخوان پر وسعت عطا فرماتا ہے۔ اس تمام معاشی اور روحانی پس منظر میں رمضان المبارک کی سماجی و معاشرتی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔رسول ﷺ نے رمضان المبارک کو’’ شہر المواسات‘‘ ہمدردی و غم خواری اور ایثار و قربانی کا مہینہ بھی فرمایا اور اس میں کسی روزے دار کو روزہ افطار کرانے پر اُس روزے دار کے برابر اجر کی نوید بھی سنائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔

رمضان المبارک عبادت صبر ہمدردی اور خیرخواہی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے، نہ کہ انہیں لوٹنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سچا، امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین (سچے لوگ) اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔اسلام میں ناجائز منافع خوری سختی سے منع ہے۔ آپ ﷺ نے بازار میں دھوکہ دہی اور قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے والوں کی مذمت کی اور فرمایا:جس نے ذخیرہ اندوزی کی، وہ خطاکار ہے. (صحیح مسلم)رمضان میں قیمتیں بڑھانا صرف تجارتی بددیانتی ہی نہیں، بلکہ عبادت کے اس مہینے کی روح کے خلاف بھی ہے۔ یہ وقت زیادہ منافع کا نہیں، بلکہ زیادہ ثواب کمانے کا ہے۔رمضان برکت اور رحمت کا مہینہ ہے، مگر کچھ لالچی لوگوں کے لیے یہ صرف لوٹ مار کا سیزن بن چکا ہے.جس قوم کے تاجر رمضان میں بھی غریبوں کی جیبیں خالی کرنے پر تُلے ہوں، وہاں برکت کیسے آئے؟یہاں لوگ روزے کے ساتھ صبر کرتے ہیں، اور دکاندار بے رحمی کے ساتھ قیمتیں بڑھاتے ہیں. یہاں عبادت کے نام پر لمبی لمبی دعائیں اور تقریریں تو ہیں، مگر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر کسی کو شرم نہیں آتی!”ایسے تاجروں کے لیے لعنت ہی کافی ہے جو روزہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے ان کی مشکلات بڑھاتے ہیں.حکومت اور انتظامیہ آنکھیں بند کیے بیٹھی جاتی ہے،اور منافع خور عوام کی کھال اتار رہے ہوتے ہیں.

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سال رمضان کی آمد پر اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز اس مقدس مہینے کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، جس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرے، اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سبسڈی اور سستے بازاروں کا انتظام کرے۔ ورنہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا، اور عام آدمی روز بروز مشکلات کا شکار ہوتا جائے گا۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں تاجر برادری بھی لوگوں کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کرے انتظامیہ کے ساتھ مل کر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے.رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم صرف اپنی عبادات کو نہیں بلکہ اپنے اخلاق، کردار اور معاشرتی رویوں کو بھی بہتر بنائیں۔

اس مبارک مہینے میں جہاں ہم خود بھوک اور پیاس کا سامنا کرتے ہیں، وہیں ہمیں دوسروں کی بھوک اور ضرورتوں کا بھی احساس کرنا چاہیے۔تمام تاجر برادری اور دکانداروں کو چاہیے کہ غریبوں اور مستحق افراد کے لیے اشیاء خورد و نوش کو مناسب قیمتوں پر دستیاب رکھیں۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے بچیں، کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:”جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا، اس کے لیے بھی روزہ دار جتنا ثواب ہے، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کچھ کمی ہو۔” (ترمذی)سوچیے! اگر ہم کسی ضرورت مند کو سستی چیزیں دے کر اس کی مدد کریں، تو اس کا فائدہ صرف اسی کو نہیں، بلکہ ہمارے لیے بھی باعثِ رحمت بن جائے گا۔ جوں ہی پہلا روزہ قریب آتا ہے، پھلوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں، جیسے روزہ داروں کو عبادت کے ساتھ مہنگائی کا کفارہ بھی ادا کرنا ہے.

یہ وہی ذخیرہ اندوز اور منافع خور ہیں جو ہمارے جذبات اور ضروریات کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ہم خود ان کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں! ہم شکوہ کرتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں، لیکن اگلے ہی لمحے انہی قیمتوں پر خریداری کر کے ان کی جیبیں بھر دیتے ہیں۔کیا ہم واقعی مجبور ہیں؟بالکل نہیں! اگر ہم اجتماعی شعور کا ثبوت دیں اور رمضان کے پہلے دس دن پھل نہ خریدیں، تو یہی ذخیرہ اندوز اپنا مال بیچنے کے لیے ترسیں گے۔ ان کی کمائی کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے، اور اگلے سال یہ حرکت کرنے سے پہلے دس بار سوچیں گے!یہ کام کیسے ممکن ہے؟صرف 10 دن پھل چھوڑنے کا عزم کریں۔گھروں میں متبادل غذاؤں پر انحصار کریں۔سوشل میڈیا اور اپنے حلقوں میں اس بائیکاٹ کا پیغام پھیلائیں!جو دکاندار جائز منافع پر بیچیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔اگر ہم آج قربانی نہیں دیں گے، تو ہمیشہ لٹتے رہیں گے! ایک عشرہ پھلوں کے بغیر گزارنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن اگر ہم یہ کر گزرے تو یہ ذخیرہ اندوز ہمیشہ کے لیے محتاط ہو جائیں گے۔سوچیں، فیصلہ کریں، اور ایک قوم بن کر مہنگائی مافیا کو شکست دیں.

اس تمام گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ملک عزیز کے موجودہ بدترین معاشی حالات میں رمضان کے سماجی پہلو اور مواسات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس مہینے میں غریبوں ، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے ان کی کفالت کا انتظام کریں، تاکہ اُن کے چہروں کی اداسی اور احساس محرومی کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اس رمضان میں خصوصی طور پر اپنے پاس پڑوس ، رشتے داروں اور دوست احباب کی خبر لیں۔ اُن میں جو مستحق زکوٰۃ ہو، اسے باعزت طریقے سے زکوٰۃ دیں۔
عام طور پر باوقار اور شریف لوگ اپنی سفید پوشی کی خاطر خود نہیں مانگتے ،حالاں کہ وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ انہیں ہم اس لئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے دروازے پر مانگنے نہیں آتے ،ہمارا یہ رویہ کسی طرح درست نہیں، بلکہ خود اُن کے دروازے پر جاکر انہیں رازداری سے اللہ کی دی ہوئی دولت میں سے ان کا حق اور حصہ دیں ،اس کے لئے ضروری نہیں کہ زکوٰۃ ہی کی رقم سے مدد کی جائے۔ ہر کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی ،بلکہ ہم عمومی ذرائع آمدنی سے بھی یہ مواسات قائم کر سکتے ہیں۔ عام طور سے رمضان میں بڑی بڑی افطار پارٹیاں کی جاتی ہیں، جن میں صرف مالدار لوگوں عزیز رشتے داروں اور دوست احباب ہی کو مدعو کیا جاتا ہے اور غریب و محتاج مستحق افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے.

چاہے وہ ہمارا بھائی ہی کیوں نا ہو ۔ جبکہ افطار کے حق دار یہی مسکین و محتاج رشتے دار ہیں۔لہٰذا غم گساری کے اس مہینے میں صدقہ، خیرات، مساکین کو کھانا کھلانے ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے، بیواؤں کی حاجت روائی کرنے، ننگے بدن کو کپڑا پہنانے اور بیماروں کی دوا کی فکر کرنا اپنا مشغلہ بنالیں اور دوسروں کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے کا ذریعہ بن جائیں۔آئیے، اس رمضان محبت، اخلاص اور سخاوت کو فروغ دیں!اللہ ہمیں اس ماہ مبارک میں سچائی، ایمانداری اور خیر خواہی کے ساتھ کاروبار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان نیک اعمال کا حصہ دار بنائے جو ہمارے لیے آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنیں۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں