زبان خلق بذبان شوکت جاوید میر

47

تحریر: سردار مشعل یونس
شوکت جاوید میر کا آج کا بیان محض کوئی روائیتی سیاسی بیان نہیں ہے بلکہ رائج الوقت گندی سیاست کے گدی نشینوں کے  گھناونے اور مکروہ عمل پر زوردار طمانچہ ہے کے، جس کے باعث دہائیوں سے عام عوام اس ظلم کا شکار ہیں۔ شوکت جاوید میر گراس روٹ لیول سے  سیاست میں پروان چڑھا اور امیداوار اسمبلی بنا، اس طویل سیاسی جدوجہد میں روائیتی قیادت کے کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری رویے کو نہایت قریب سے دیکھنے کے بعد بلاآخر غیر ارادی طور پر وہ سچ اپنے منہ پہ لانے کی جرات کر بیٹھا، جس سچ کو چھپانے کے لیے یہاں کے سارے سیاستدان اور ان کے حواری دن رات جھوٹ بولتے ہیں۔

سردار تنویر الیاس خان کے نظریے کے مطابق مقامی حکومتوں  کے نظام میں لوکل کونسلر کا اختیار اور حیثیت کسی صورت یورپ اور امریکہ میں دئیے جانے والے اختیارات سے کم نہیں ہوں گے، باقی ڈسٹرکٹ کونسلر، مئیر میونسپل کارہوریشن، چئیرمین ضلع کونسل یا ڈسٹرکٹ کونسلرز کے قد کاٹھ اور اختیارات سے ایک نئے عوامی اور حقیقی عہد کا آغاز ہونا تھا۔ بدقسمتی سے ایک گھناونی سازش کے تحت عدلیہ کے کندھوں کا استعمال کرتے ہوے ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔ وگ آج کہتے ہیں کہ ، کاش عدل کے منصب پہ براجمان ناحق قتل، رشوت خوری، کرپشن، بدمعاشی اور تمام محکمہ جات میں جاری عوامی امیدوں کے قتل عام کے دہائیوں سے جاری سلسلے کے خلاف بھی زنجیر عدل ہلتی، سوئی ہوئی غیرت جاگتی اور عام آدمی کو انصاف ملتا۔

لیکن ایک دفعہ پھر عدل کا ہتھوڑا کسی پڑھے لکھے طالب علم کی امیدوں پہ پڑا، ہتھوڑےکا نشانہ عوامی خواہشات کے مطابق بننے والے منتخب نمائندے بنے، بوڑھے بے بس  اور کمزور ریاست کے باسی جو تنویر الیاس کو کسی صورت میں کسی مسیحا کے منتظر تھے، اسی ہتھوڑے کی زد میں آئے۔ آج بھی وہی نسل در نسل سیاسی کارکنوں کو اپنا اور اپنی اولادوں کا نوکر سمجھنے والا سیاستدان کامیاب قرار پایا، بد دیانت اکثریتی بیوروکریٹس فاتح قرار پاے اور جعلی امیر مملکت مخصوص اشاروں پہ شب و روز محو رقص ہے۔ آپس کی بات ہے ، عام  سیاسی کارکنوں کو جنھیں یہ وزیراعظم اور وزیر پہلے انسان نہیں سمجھتے تھے، تنویر الیاس خان جیسا وزیراعظم انہی لوگوں کو ان کے برابر بٹھانے کی جسارت کرے اور جب وہی تنویر الیاس زیر عتاب آے تو انہی منتخب نمائندگان نے جو بے حسی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا، مورخ تاریخ کے اوراق کھنگالنے کے بعد بزدلی اور احسان فراموشی
کی ایسی کوئی دوسری مثال دینے سے قاصر ہے۔

تنویر الیاس خان آزادکشمیر کی سیاست کی حقیقت بھی اور روائیتی سیاست کے خلاف مزاحمت کا سب سے مستند اور مضبوط استعارہ بھی ہے۔ جلد یا بدیر وہ دوبارہ اسی منصب پہ عوامی تائید سے فائز ہوں گے، لیکن ان تمام احسان فراموشوں اور ابن الوقت نام نہاد سیاسی لوگوں کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کے مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔ اللہ اپنی مخلوق کے معاملے میں غیور ہے اور کسی کمزور اور ناتواں کی دعاوں کے طفیل ریاست کے سیاسی افق پہ یہ ستارہ پوری شان و شوکت سے جگمگاے گا،

ارشاد باری تعالی ہے
وتلک الایام نداولھا بین الناس
“وہ لوگوں کے مابین دنوں کو پھیرتا ہے”

شوکت جاوید میر کا سچ آنے والے دنوں میں ممبران اسمبلی بھی بولیں گے، بلدیاتی نمائندگان بھی بولیں اور خلق خدا تو پہلے دن سے ہی اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔بہرحال شوکت جاوید میر کے بے اختیار کلمات نے ٹھہرے ہوے پانی میں جو ارتعاش پیدا کیا ہے، اس کی شدت کا اندازہ صاحبان عقل و فہم کو بہت اچھے طریقے سے ہے، اپنی سیاسی گدیوں کی بقاء کی جنگ لڑنے والے سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں کے مابین فیصلہ کن لڑائی اب دنوں کی دوری پہ ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں