زکوٰۃ کی بنیاد پر معاشرتی انصاف، معاشی نمو اور فلاح و بہبودِ عامہ کا نظام

148

از قلم: نورالعین بنتِ نصیر
اسلام کا اقتصادی و سماجی نظام محض چند عبادات یا انفرادی اخلاقیات تک محدود نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جس کا مقصد انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤںروحانی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی کو توازن، عدل اور اعتدال کے ساتھ منظم کرنا ہے۔ اس نظام کی بنیاد میں “زکوٰۃ” کا وہ عظیم فریضہ شامل ہے جو نہ صرف روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے بلکہ ایک منصفانہ، باثبات اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کی کنجی بھی ہے۔

لفظ “زکوٰۃ” عربی مادہ زَکَا يَزْكُو سے نکلا ہے، جس کے معنی پاکیزگی، بڑھوتری اور نشوونما کے ہیں۔ اس اعتبار سے زکوٰۃ محض مالی ادائیگی نہیں بلکہ دل اور مال دونوں کی تطہیر ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
قد أفلح من زكّاها
یعنی “کامیاب وہی ہے جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔احادیث میں بھی یہ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے، کیونکہ زکوٰۃ فاسد مال کو ختم کر کے باقی دولت میں برکت پیدا کرتی ہے۔ یوں زکوٰۃ روحانی تربیت اور معاشرتی ذمہ داری دونوں کا مجموعہ ہے۔شرعی اصطلاح میں زکوٰۃ وہ مالی عبادت ہے جو مسلمان کے مال میں مخصوص نصاب پورا ہونے پر، مقررہ حصہ مقررہ مستحقین کو اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ یہ فریضہ انسان کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ مال حقیقی معنوں میں اس کا نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے۔

قرآن کا حکم “خذ من أموالهم صدقة تطهّرهم وتزكّيهم بها” اسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ زکوٰۃ انسان کے مال اور نفس دونوں کو پاک کرتی ہے۔اسلامی اقتصادی نظام کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے، بلکہ اس کی گردش پورے معاشرے میں ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ سرمایہ دن بدن اوپر کے طبقے کے پاس جمع ہوتا جاتا ہے اور نچلے طبقات بڑھتی ہوئی غربت کا شکار رہتے ہیں۔ زکوٰۃ اس عدم توازن کو ختم کرنے کا الٰہی علاج ہے۔

زکوٰۃ دولت کے بہاؤ کو روکتی نہیں بلکہ صحیح سمت میں بستی ہے۔ مالدار طبقے کو سالانہ اپنی جمع شدہ دولت کا مخصوص حصہ غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں، بے روزگاروں، مسافروں اور قرض داروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ اس طرح دولت کے بہاؤ میں رکاوٹ نہیں رہتی بلکہ پورا معاشرہ معاشی سرگرمی میں شامل ہو جاتا ہے۔زکوٰۃ معاشرتی عدل، مساوات اور برابری کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرے میں کوئی فرد بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے:
بھوک اور افلاس کم ہوتی ہے
محروم طبقات کو سہارا ملتا ہے
معاشرتی نفرتیں ختم ہوتی ہیں
اتحاد و ہمدردی کی فضا قائم ہوتی ہے
دولت کا توازن برقرار رہتا ہے

زکوٰۃ انسان کو دوسروں کی فلاح کا ذمہ دار بناتی ہے اور اس کے دل سے بخل، خود غرضی اور حرص کا خاتمہ کرتی ہے۔ یہ صرف غریبوں کی مدد کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی تربیت ہے جو انسان کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔زکوٰۃ کے بارے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ دولت کو غیر فعال (Idle) رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر مال جمع رکھا جائے تو ہر سال اس پر زکوٰۃ دینی پڑتی ہے۔ نتیجتاً سرمایہ کار اس مال کو تجارت، صنعت اور کاروبار میں لگا کر اس سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کا نتیجہ ہوتا ہے:
روزگار کے نئے مواقع
کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ
سرمایہ کاری کا فروغ
نئی صنعتوں کا قیام
یوں زکوٰۃ معاشی نمو کا محرک بنتی ہے اور معیشت میں حرکت، روانی اور مضبوطی پیدا کرتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں زکوٰۃ کا نظام جس قدر خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں مضبوط ہوا، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ:

مستحقین ڈھونڈنے سے نہیں ملتے تھے.لوگ زکوٰۃ لے کر واپس بھیج دیے جاتے تھے کہ کوئی لینے والا نہیں.قرض داروں کے قرض ادا کر دیے جاتے تھے.وگوں کی معاشی حالت اس قدر بہتر ہو چکی تھی کہ بیت المال میں فاضل رقم رہتی تھی.

امام ابو یوسف اپنی کتاب کتابُ الخراج میں لکھتے ہیں:
“عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں زکوٰۃ کے مصارف بخوبی پورے کیے گئے یہاں تک کہ کوئی فقیر باقی نہ رہا۔”

امام ابنِ کثیر البدایہ والنہایہ میں لکھتے ہیں:
“لوگوں کی حالت خوشحالی تک پہنچ چکی تھی؛ زکوٰۃ لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔”
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر زکوٰۃ کا نظام دیانت داری، نظم و ضبط اور عدل کے ساتھ قائم ہو جائے تو غربت ختم ہو سکتی ہے۔

آج کے دور میں بہت سے مسلم ممالک، خصوصاً پاکستان میں، زکوٰۃ کے نظام کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے.زکوٰۃ کی جمع آوری اور تقسیم کا نظام اکثر غیر واضح، غیر منظم اور کمزور منصوبہ بندی کا شکار ہوتا ہے۔

شفافیت کا فقدان
ریکارڈ ناقص ہے، رپورٹنگ مناسب نہیں، اور بدعنوانی کا خدشہ رہتا ہے۔
بہت سے افراد زکوٰۃ کا درست حساب نہیں جانتے، خصوصاً:
بینک بیلنس
اسٹاک اور شیئرز
تجارتی اثاثے
ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن آمدن
کا حساب پیچیدہ ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں زکوٰۃ کی سالانہ مجموعی وصولی آبادی اور معاشی حجم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کا بڑا سبب کمزور حکومتی ڈھانچہ اور ناقص حکمت عملی ہے۔جدید ٹیکنالوجی نے زکوٰۃ کے نظام کو شفاف، مؤثر اور بدعنوانی سے پاک بنانے کے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں:

ڈیجیٹل زکوٰۃ پورٹل
بلاک چین ٹریکنگ (جس سے رقم کا ایک روپیہ بھی ضائع نہیں ہوتا)
مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مستحقین کی نشاندہی
بینکنگ سسٹم میں خودکار کٹوتی
ڈیجیٹل رسیدیں، آڈٹ اور شفاف رپورٹنگ
اگر یہ نظام اپنائے جائیں تو زکوٰۃ کی تقسیم میں بے پناہ بہتری آ سکتی ہے۔زکوٰۃ کا مقصد صرف نقد رقم دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر زکوٰۃ کے فنڈز کو مستقل ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو معاشرہ خود انحصاری کی بنیاد پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مثلاً:
مفت تعلیم اور اسکالرشپس
صحت کے منصوبے
بے روزگاروں کے لیے روزگار اسکیمیں
چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرضے
خواتین کی معاشی خود مختاری
یتیم بچوں کی کفالت
نوجوانوں کی ہنر مندی پروگرامز
اس طرح لوگ مستقل طور پر غریب نہیں رہتے بلکہ خود کفیل ہو جاتے ہیں اگر پاکستان میں زکوٰۃ کے نظام کو جدید تقاضوں، شفافیت، امانت داری اور مضبوط حکمرانی کے تحت استوار کر دیا جائے تو:
غربت میں نمایاں کمی
کاروباری ماحول میں بہتری
سرمایہ کاری میں اضافہ
ٹیکس نیٹ میں وسعت
نوجوانوں کے روزگار کے مواقع
صنعت و تجارت کا فروغ
مجموعی معاشی ترقی
ممکن ہے۔ زکوٰۃ وہ واحد اسلامی فریضہ ہے جو ریاست کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنا سکتا ہے۔زکوٰۃ اسلام کے معاشرتی و معاشی نظام کی بنیاد ہے۔ یہ محض مالی عبادت نہیں بلکہ روحانی تربیت، سماجی انصاف، معاشی استحکام اور ریاستی فلاح کا ہمہ گیر نظام ہے۔ زکوٰۃ دلوں کو پاک کرتی ہے، معاشرے میں عدل و توازن قائم کرتی ہے، دولت کو گردش میں رکھتی ہے اور محتاجوں کو خود کفیل بناتی ہےاگر زکوٰۃ صحیح طور پر ادا کی جائے اور ریاست اسے جدید اصولوں کے ساتھ نافذ کرے تو نہ صرف غربت ختم ہو سکتی ہے بلکہ معاشرہ خوشحالی، مساوات اور انصاف کی اعلیٰ مثال بن سکتا ہے۔

اسلام کا پیغام واضح ہے:
جب زکوٰۃ قائم ہو جائے تو بھوک جرم نہیں رہتی، غربت لعنت نہیں بنتی، اور معاشرہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں