تحریر:عبدالباسط علوی
قرضوں کے خلاف تھے لیکن خیبرپختونخوا کے ذمے 997 ارب کا قرض چھوڑا ۔ 350 ڈیم بنانے کا وعدہ کیا لیکن عملی طور پر ایک بھی ڈیم بنانے میں ناکام رہے۔ کے پی کے میں 70 یونیورسٹیوں کا وعدہ لیکن حقیقت میں ایک بھی نئی یونیورسٹی نہ بنا سکے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کتنے کالج بنائے ہیں، کالج کا نام اور مقام بتائیں؟ کے پی کے میں بننے والے کسی نئے ہسپتال کا نام اور مقام؟ پی ٹی آئی کی حکومت میں کے پی کے میں لڑکیوں کے 16 کالج کیوں بند کیے گئے؟ خیبرپختونخوا میں 355 پرائمری اور مڈل سکولز یہ کہہ کر بند کر دیے گئے کہ یہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہیں، انہیں بند کر کے کیا حاصل ہوا؟ پشاور میٹرو بس 8 ارب میں بننے والی تھی، 97 ارب تک پہنچ گئی، 6 اسٹیشن مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بس اسٹیشن کے اندر نہیں جا سکتی، اس لیے بس کو اسٹیشن کے اوپر سے اڑانے کی کوشش کی گئی، جو کہ ممکن نہ ہوسکی، اس لیے تمام اسٹیشنز کو گرا کر نئی لاگت 122.35 ارب سے زائد بتائی گئی۔
کپتان کے مطابق ملتان میٹرو 64 ارب کی لاگت سے بنائی گئی بعد میں ان کی حکومت نے اس کی شفافیت پر رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ میٹرو منصوبے میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی اور یہ 27 ارب کی لاگت سے بنائی گئی۔ پی ٹی آئی رہنما نذر گوندل پر سرکاری خزانے سے 82 ارب کی کرپشن کا کیس تھا، انہیں کس میرٹ پر پارٹی میں لیا گیا اور کیس کے ساتھ کیا ہوا؟ بابر اعوان کے نندی پور پراجیکٹ میں 284 ارب کی کرپشن کا کیا ہوا؟ علیمہ خان کے پاس 140 ارب کہاں سے آئے؟ کپتان کے , کے پی کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کے معاملے کا کیا ہوا؟ مالم جبہ کیس میں وزیراعلیٰ کے پی کے کی 34 ارب کی کرپشن کا کیا ہوا؟ ان کو کیا سزا ملی آپکی ریاست مدینہ میں؟ پرویز خٹک اور ان کے بھائی کی کرپشن کی لمبی داستان اور 46 ارب کا کیا ہوا؟ کے پی کے میں 5 سال سے آپ کی حکومت تھی، اس کا خزانہ کیسے خالی ہوا؟ خیبر بینک کے ڈوبنے کا ذمہ دار کون؟ انکوائری کیوں بند کی گئی؟
پھر KPK نیب کی اصلاحات پر 80 کروڑ خرچ کرنے کے بعد منصوبہ کیوں روک دیا گیا؟ کے پی کے نیب کے دروازے کیوں بند کیے گئے؟پی ٹی آئی سپیکر اسد قیصر کا 35 کروڑ کا اسلام آباد والا بنگلہ کہاں سے آیا اور انکوائری کا کیا ہوا؟ پچھلی حکومتوں میں ڈالر بڑھنے سے نقصان ہوا لیکن آپ کی حکومت میں فائدہ کیسے؟ پہلے تھر کے کوئلے سے آلودگی پھیلتی تھی لیکن آپ کے دور میں اس تھر کے کوئلے نے کیسے تقدیر بدلنی تھی؟ (دونوں بیانات آپ کے ہیں)۔ دن رات ٹیکسوں کی باتیں کرنے والے کپتان نے الیکشن کمیشن میں 2 ارب 34 کروڑ روپے نقد، 322 کنال کا بنی گالہ ہاؤس اور لگژری گرینڈ حیات ہوٹل اسلام آباد میں 28 فلیٹس ظاہر کیے اور صرف 1 لاکھ 5 ہزار کا ٹیکس کیوں ادا کیا؟
پچھلی حکومتوں میں تو قرض تھا لیکن آپ کے دور میں پیکج کیسے ہو گیا؟ اگر کپتان کی حکومت پچھلی حکومتوں کے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرضے لے رہی تھی تو قرضےکم کیوں نہیں ہو ئے، بڑھتے ہی کیوں رہے؟ آپ کی حکومت سالانہ ٹیکس کے ہدف وصول کرنے میں کیوں ناکام رہی؟ جی ڈی پی کیوں کم ہوئی؟ آپ نے پی آئی اے اور سٹیل ملز کی نجکاری کا منصوبہ کیوں بنایا جبکہ پہلے آپ کے وزیر خزانہ کہہ رہے تھے کہ پی آئی اے کا خسارہ کم ہوا ہے؟ ایف بی آر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود علیمہ خان نے جرمانہ کیوں ادا نہیں کیا؟ کپتان کی دوسری بہن عظمیٰ خانم کے پاس 60 ارب کہاں سے آئے؟
کپتان کی حکومت کو 4 سال ہونے والے تھے، عوام کی ضروریات میں سے کوئی 3 چیزیں بتائیں جو سستی ہوئیں اور عوام کو ریلیف ملا؟ کپتان کے مطابق ملک میں 12 ارب کی کرپشن ہوئی جو روک دی گئی تو پھر قرضے کی کیا ضرورت تھی؟ اسد عمر نے کہا کہ ن لیگ نے ہمیں خزانے میں 18 ارب ڈالر دیے، کپتان نے کہا کہ خزانہ خالی ہے، ان میں جھوٹا کون تھا؟ کیا کپتان نے اپنے ظاہرشدہ اثاثوں پر ٹیکس چوری کیا؟ یہ بہت مستند نکات ہیں جو مجھے ایک بہت ہی معتبر ذریعے سے موصول ہونے والی پوسٹ سے بھی حاصل ہوئے۔ بلاشبہ کپتان کے جھوٹ اور یوٹرن کی مکمل فہرست بہت طویل ہے اور اس کا احاطہ کرنے کے لیے کئی صفحات اور دنوں کی ضرورت ہے۔
پھر وہ بھی زیادہ دور کی بات نہیں جب اسرائیل کو پاکستان کے انسانی حقوق کی یاد ستانے لگتی ہے ۔ حکومت پاکستان نے بھی انسانی حقوق کے معاملے پر ہمارے ملک پر تنقید کرنے پر تل ابیب کی مذمت کی تھی۔یہ سفارتی معاملہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے کی وجہ سے شروع ہوا جس نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان میں حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عادل فرزون نے پاکستان پر جبری گمشدگیوں، تشدد، پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کا الزام لگایا۔ “اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ ضروری ہے کہ پاکستان من مانی گرفتاریوں، ٹارچر اور دیگر ناروا سلوک کو روکنے کے لیے تمام مناسب اقدامات کرے اور اس طرح کی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور سزائے موت کے وسیع پیمانے پر استعمال کو ختم کرے، خاص طور پر بچوں اور معذور افراد کے خلاف”۔
فرزون نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق “ہم جنس کی سرگرمیوں کو غیر مجرمانہ قرار دے” اور اس سلسلے میں “جامع امتیازی قانون سازی” اپنائے۔ اسرائیل کے سفیر نے جنوری میں پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو سخت کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے ترامیم کی منظوری پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، جس پر اس کا دعویٰ تھا کہ “اکثر مذہبی اور دیگر اقلیتی گروہوں کو نشانہ بنانے اور انہیں اذیت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے”۔ اس کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا سیاسی طور پر محرک بیان سیشن کے مثبت لہجے اور ریاستوں کی اکثریت کے بیانات سے بنیادی طور پر مختلف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “فلسطینیوں پر جبر کی اسرائیل کی طویل تاریخ کو دیکھتے ہوئے، پاکستان یقینی طور پر انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں اس کے مشورے کے بغیر عمل کر سکتا ہے۔”
سوال یہ ہے کہ اسرائیل جیسا پاکستان کا بدترین دشمن جو ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں، مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف بات کرتا ہے اور اس کے ظلم و ستم کی ایک طویل تاریخ ہے وہ اب پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کیوں کر رہا ہے؟ اس معاملے کو ہلکے سے نہیں لیا جائے۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے جسے ریاست اور عوام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔قوم نے یہ بھی دیکھا کہ 9 مئی کو کپتان اور اس کی پارٹی نے کیا کیا۔انہوں نے ملک بھر میں سویلین اور فوجی تنصیبات پر براہ راست حملے کئے۔ انہوں نے وہ کر دکھایا جو ہمارے دشمن 75 سالوں میں نہ کر سکے۔
پھر آتے ہیں کپتان کے سائفر ڈرامے کی طرف۔ واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے پیغامات یا سائفرز کی بنیاد پر اپنی حکومت کے خلاف سازش کی داستان ظلم و ستم بیان کی تھی جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی حکومت کے سائفر سے متعلق موقف کی تردید کردی گئی۔ سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سائفر کو ڈرامائی شکل دینے کی کوشش کی گئی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔
یہ ڈرامہ ایک سیاسی سٹنٹ ثابت ہوا کیونکہ کپتان کی اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ مبینہ گفتگو نے سب کٹھا چٹھا کھول کر رکھ دیا جس میں انہیں پی ٹی آئی حکومت گرانے کی “امریکی سازش” کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ لیک ہونے والی آڈیو میں عمران خان کو اپنے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری کو یہ ہدایت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ امریکہ کا نام لیے بغیر سائفر کے معاملے سے کھیلیں، “آئیے اس کے ساتھ کھیلیں،” عمران خان نے مبینہ طور پر آڈیو میں کہا، جس پر اعظم خان نے مشورہ دیا کہ وہ اسے ریکارڈ پر لانے کے لیے امریکی سائفر پر میٹنگ کریں۔
حال ہی میں ایک اور چونکا دینے والے انکشاف میں کپتان کے اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے جھوٹے بیانیے کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تحریک عدم اعتماد سے توجہ ہٹانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ سابق پرنسپل سیکرٹری کے اعترافی بیان سے عمران خان کی رائے عامہ کو تبدیل کرنے اور اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن دونوں کے خلاف بیانیہ تیار کرنے کی مبینہ حکمت عملی کے بارے میں تمام تفصیلات منظرعام پر آ گئی ہیں۔
اعظم خان کے بیان کے مطابق جب انہوں نے عمران خان کو سائفر پیش کیا تو پی ٹی آئی کے سربراہ نے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور استعمال ہونے والی زبان کو “امریکی بلنڈر” کہا۔ تاہم اسے ایک خفیہ دستاویز ماننے کے بجائے کپتان نے بظاہر سیاسی فائدے کے لیے اس کے مواد سے فائدہ اٹھانے کا ایک موقع دیکھا۔
اعظم خان نے انکشاف کیا کہ سابق وزیراعظم نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں “غیر ملکی مداخلت” کو نمایاں کرکے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سائفر کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ عمران خان نے مبینہ طور پر مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال کو غیر ملکی سازش کے طور پر پیش کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جب اعظم خان نے دستاویز کی رازداری کے افشاء پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے مندرجات کو عوام کے سامنے ظاہر نہ کرنے کا مشورہ دیا تو عمران خان نے ایک متبادل حکمت عملی تجویز کی۔ پی ٹی آئی رہنما نے ایک اجلاس بلایا جس میں اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اس وقت کے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود شامل تھے۔ اعظم نے مزید کہا کہ اس ملاقات کے دوران قریشی اور محمود کو عمران خان کو بحث کے منٹس فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، کیونکہ وہ سفارتی کیبل کی اصل کاپی “گم” کر چکے تھے۔
قارئین، کپتان کی گھناؤنی سازش کا اثر ملک پر یہ ہوا ہے پکہ جب کوئی وزیراعظم امریکہ جیسے ملک پر جھوٹی سازش کا الزام لگاتا ہے تو اس کی قیمت مستقبل کے وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ اور ملک کو بھگتنا پڑتی ہے۔قومی سلامتی اور بیرونی ممالک سے تعلقات کے حساس ترین معاملات پر کپتان بار بار غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا جرم سائفر والے معاملے کا تھا۔ کپتان نے جس طرح سائفر پر ایک بیانیہ بنایا اور اس بیانیے سے بار بار یو ٹرن لیا وہ قابل مذمت ہے۔ اعظم خان نے جو کہا اور ان کے مطابق سابق وزیر اعظم نے جو کیا اس پر ریاست پاکستان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے۔ حکومت پاکستان کو ہونے والے ناقابل تلافی نقصان اور اس سنگین غداری کو ہرگز درگزر نہیں کرنا چاہیے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ریاست مخالف جرم پر سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔