سال 2024 اور 9 دسمبر کی تلخ شام

139

تحریر:ملک اخترشہباز
سال 2024 جہاں اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا وہاں آخری مہینے کی نویں شب کو جگر بھی چھلنی کرگیا۔ ایسا روگ لگا دیا کہ ان آنکھوں کے بہتے نالوں ، ان کی آہ زاریوں نے آسمان کا کلیجہ شق کر دیا ، چار بھائیوں اور دوبہنوں میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے بھائی , ایک دکھیاری ماں کے سب سے چھوٹے بیٹے ، ایک نوجوان خاتون کے رفیق سفر اور دومعصوم بچوں کے بابا کو یزیدی ٹولے نے بے گناہ شہید کردیا ۔ عاطف شہید نہ صرف اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کیلئے ایک سرمایہ تھا فخر تھا، بچپن سے ہی بہت ہونہار ، ذہین ، محنتی ، خوش خصال و خوش لباس تھا ، اس کے اطوار میں نفاست تھی ، وہاں اس کا کردار جگمگاتا تھا ، اس کے لہجے میں ادب تھا ، بڑوں کا احترام ، چھوٹوں سے شفقت اور دوستوں سے یارانہ اس کی گھٹی میں پڑا تھا ۔

عاطف شہید کی جدائی اتنا بڑا غم ہے کہ زندگی میں کبھی کم نہیں ہوگا۔ جن یزیدیوں نے عاطف کو شہید کیا آج وہ شادیانے بجارہے ہوں گے لیکن اس درد کی کیفیت ہر اس شخص نے محسوس کی جس کے سینے میں درد محسوس کرنے والا دل ہے۔ اس ناحق قتل پر مرد و زن ، بچے بوڑھے ، پیر و جواں، اپنے پرائے سب ہی درد سے کراہ رہے ہیں ۔ سب کے دل زخمی ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے سب کا اپنا بچھڑ گیا ہو ، آنکھوں سے بہتے نالوں نے دل کے نازک تاروں کو چھیڑ دیا ہے، چشمگان درد نے آج بھی دل کے نازک آبگینوں کی بلائیں لیں تو آہ و فغاں کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں ۔

اور پھر بھائی تو بھائی ہوتے ہیں ناں ان کا درد فطرتی امر ہے ۔ اور وہ بھائی جو سب سے چھوٹا بھی ہو اور ناز نخروں سے پلا بھی ہو۔ مگر اس کی جدائی پر یوں لگ رہا تھا جیسے سب ہی اس کے بھائی ہوں ،
ایک ذات ، چھوٹی سی عمر مگر اتنی محبتیں سمیٹ کے دنیا سے گیا کہ اس کی ذات پر رشک آتا ہے ۔
کم وبیش 12 سال قبل میں عاطف کو گاوں سے نکال کر اپنے ساتھ راولپنڈی لے آیا تھا دکھ اس بات کا ہو رہا ہے 12 سال بعد اپنے پیارے بھائی کی بکسہ بند لاش لیکر واپس گاوں لوٹا۔ انتہائی فرمانبردار بھائی تھا ۔ ادب واحترام کا عالم یہ تھا کہ مجھے باپ کادرجہ دیتا تھا۔ جب کبھی میں پریشان ہوتا وہ مجھے حوصلہ دیتا۔ زندگی کے ان 12 برسوں میں اپنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھا اور بہت سرعت رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرتا چلاگیا گیا۔ اس کی ذاتی زندگی سے جس حد تک واقف ہوں اس میں اس کا اخلاق نمایاں نظر آتا ہے ، رفاہی کاموں ، غریبوں ،بیکسوں کی خفیہ انداز میں مدد سے اس کے کردار کا پتا چلتا ہے ، بقول اس کے
” یہ میری طرف سے مگر میرا نام نہیں آنا چاہیے ” یہی اس کا توشہء آخرت ہے ،جہاں دکھاوا نہیں اخلاص ہے ، جہاں اِنسانیت کی تحقیر نہیں توقیر ہے۔ عاطف دل کا سخی تھا ، رحمدل تھا ، لوگوں کی مدد کرتا تھا ، عزت و احترام دیتا تھا .بس وہ اُجلا اُجلا سا عاطف ، سج دھج سے رہنے والے عاطف کے چہرے پر تو کیا کبھی قمیض میں بھی شکن نظر نہیں آئی ، کبھی اس کے جوتے خاک آلود نہیں ہوئے ، اس کی پوشاک میں نفاست تھی ، اس کے لہجے میں ترنم تھا ، وہ لوگوں کی بات توجہ سے سنتا تھا پھر مشکل سے مشکل مسلہ کا حل فوری نکالتا تھا ، وہ لوگوں کو مشکلات میں مبتلا نہیں کرتا تھا بلکہ مشکلات کا ازالہ کرتا تھا۔

شہادت سے چند دن پہلے اس نے مجھ سے فون پہ گفتگو کی تھی کہ اپنے علاقے کے بے کس ، نادار اور مستحق افراد کی امداد کیلئے ایک بڑا اقدام کرنے جارہا ہوں دعا کرنا اللہ پاک استقامت عطا فرمائے ۔ مجھے کہہ رہا تھا آپ کی سرپرستی میں سب کچھ کرپاوں گا. اتنے پیار سے اس نے یہ لفظ ادا کئے کہ اس کے لہجے کی شیرینی ابھی تک کانوں میں رس گھولتی ہے ۔ اور آج اس کی آواز سننے کو میرے کان ترس گئے ہیں۔ ذرا سوچئیے بظاہر یہ ایک قتل ہے ، لیکن حقیقت میں پوری انسانیت کا قتل ہے۔ آج لوگوں کی گواہی عاطف کی بخشش کی گواہی بن گئی ہے ، وہ فرشتہ نہیں انسان تھا ، اس سے کوتاہیاں اور لغزشیں ہوئی ہوں گی مگر اتنی لغزشوں کے حصار میں اس کی نیکیاں غالب آ گئی ہیں ، اس کی شہادت کی موت نے اس کے گناہوں کے داغ کو دھو دیا ہے اور اس کے جسم سے بہتے لہو نے اس کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کر دیا ہے .

ایک ماں ، چار بھائیوں ، دوبہنوں ، ایک رفیقہ حیات ، دو معصوم بچوں اور اہل خانہ کا مان ٹوٹ گیا ہے ، والدہ کو جگر گوشے کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا، ایک سہاگن نے بیوگی کی چادر اوڑھ لی ،ایک خاندان پر قیامت ٹوٹ گئی، ایک علاقہ ایک نفیس شخص کی صحبت سے محروم ہو گیا، ایک لائق” ناظر” نظروں سے اوجھل ہو گیا ، یہ تقدیر ہے ، رب کی منشا اور رضا ہے کہ سب نے لوٹ کر ادھر ہی جانا ہے مگر فرق یہ ہے کہ عاطف اتنی سج دھج سے مقتل کو چلا کہ اگر وہ لوگوں کی محبت کا منظر دیکھ پاتا تو بار بار موت کو گلے لگانے کی کوشش کرتا ، بظاہر یہ انسانوں کی بستی کی بارات تھی مگر اصل میں فرشتوں نے اس کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا ، رحمتوں اور برکتوں کی بارش برس رہی تھی اور جنت الفردوس خوش اخلاق ، خوش اطوار ، خوش خصال عاطف کو جنت کی پوشاک پہنانے کو بےتاب تھی۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ پاک عاطف کے یتیم بچوں کی آہ و بقا ضرور سنے گا اور عاطف کے قاتلوں اور قتل کی سازش میں شامل تمام کرداروں کو دنیا اور آخرت میں ذلیل ورسوا کرکے نشان عبرت بنائے گا۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ عاطف کی لغزشوں کو بھی نیکیوں سے مبدل فرما کر بہشت بریں میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے آمین یارب العالمین ۔
موت اس کی جس کا زمانہ کرے افسوس
یوں تو سب ہی چلے آتے ہیں مرنے کے لئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں