سردارانور ایڈوکیٹ نے صدراوروزیراعظم آزادکشمیر کو نااہل قرار دیتے ہوئے پرامن مزاحمتی تحریک کی حمایت کر دی

38

امریکا(سٹیٹ ویوز)امریکی ریاست یوٹا میں مقیم جموں کشمیر کمیونٹی کی میٹنگ جس میں پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے جاری پرامن مزاحمتی تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے سردارانور ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک طرف ساڑھے چار ہزار میل پرمشتمل کالونی میں نااہل صدر وزیر اعظم 36 وزیروں کی فوج ظفر موج درجن بھر مشیرز سیکرٹریز ججز بیوروکریٹ کی ریاستی وسائل کی لوٹ مار اور عیاشیاں کر رہےہیں. جن کا علاج بیرون ممالک مفت بچوں کی تعیلم مفت پٹرول مفت دوسری طرف عوام آٹے اور بجلی اور پینے کے صاف پانی سے محروم جو اس جدید عہد میں غلامی کی بدترین مثال ہے اتنے وزیر اور مشیر آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین اور پچاس ریاستوں پر مشتمل امریکہ میں نہیں ہیں.

پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں 3000 سےزائد میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہےاور 9000سے زائد پیدوار مزید پیدا کرنے کی گنجائش موجود ھونے کے باوجود عوام 354 میگاواٹ بجلی سے محروم ہیں جب بیرون ممالک مقیم لاکھوں ریاستی باشندے محنت مزدوری کر کے اپنے خانداوں کی کفالت بھی کر رہے ہیں اور اربوں روپے کا زر مبادلہ بھی لیکن عوام کو پھر مہنگے داموں تعلیم صحت انصاف اور اشیاء خوردونوش خریدنے پرمجبور ہیں اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عوام مفت بجلی فراہم کی جاے بے جا ٹیکسز کا خاتمہ کیا جاے آٹے پر سبسڈی بحال کی جائے.

حکمران طبقات کی مراعات ختم کر کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جاے نیشنل گریڈ سٹیشن کا قیام عمل میں لایا جاے اجلاس میں امریکہ کی باقی ریاستوں میں مقیم ریاستی باشندوں سے رابطہ کر کے جموں کشمیر پیپلز رائٹس موومنٹ کے ذریعے عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے پر بھی غور کیا گیا اگر عوام کی پر امن اور ح جدوجہد کو ریاستی اور غیر ریاستی قوتوں طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کی گی تو بیرون ممالک مقیم ریاستی باشندے اقوام متحدہ انسانی حقوق کی تنظموں اور پاکستان کے سفارتخانوں کے باہر بھر پور احتجاج کریں گے 5 ستمبر کی عوام حقوق کے لیے عوام کی ہڑتال جدوجہد کی نئی سمتوں کا تعین کرے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں