نجیب الغفور خان (جموں و کشمیر لبریشن سیل)
بابائے پونچھ کے کردار اور کارناموں کی شکل میں جموں کشمیر کا یہ آزاد خطہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ہر سال 11 نومبر کو ان کی برسی منائی جاتی ہے۔خطہ سدھنوتی(پونچھ) میں سیاسی جذبہ اور احساس ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں موجود رہا ہے۔ اس خطے کے لوگ ہمیشہ جانی و مالی قربانی دیتے رہے ہیں۔ اس کا منظم و عملی مظاہرہ 1832-36 کے دوران سردار شمس خان، سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان جیسے عظیم حریت پسند وں کی قیادت میں اپنی کھالیں کھینچوا اور گردنیں کٹوا کر کیا۔ یہ ولولہ آزادی سکھوں کی صوبہ سرحد میں 1832 کے دوران شکستوں سے پیدا ہواتھا۔ رنجیت سنگھ نے صوبہ سرحد میں مہمات ملتوی کر کے علاقہ پونچھ میں شورش کو فوری دبانے کاحکم دیا۔ گلاب سنگھ ایک بڑے لشکر کے ساتھ پونچھ پر حملہ آور ہوا اور دو اہم مراکز منگ اور پلندری کو اپنی یلغار کا ہدف بنایا اور بے گناہ عوام کا بے دریغ قتل عام کیا۔ ڈوگرہ شاہی کا دور پونچھ کی عوام کے لئے زیادہ مصیبت اور مفلسی کا دور تھا بالخصوص سدھن قبیلے کے لئے، کیونکہ یہی وہ قبیلہ تھا جس نے ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ سے ٹکر لی تھی۔ یہ دور پونچھ کا وہ دور تھا جس میں اہل پونچھ اپنی زندگیوں کو جبر وتشدد، ظلم و افلاس میں گزارنے پر مجبور تھے کہ اللہ نے ان کے درمیاں مرد حق ومجاہد خان محمد خان کی شکل میں پیدا کیا۔جن کی طویل جدوجہد کے بعد 1947ء میں کشمیر کا یہ خطہ آزادی سے ہمکنار ہوا۔
بابائے پونچھ خانصاحب کرنل خان محمد خان یکم جنوری 1882 کو پونچھ موجودہ ضلع سدھنوتی کے گاوں چھے چھن میں الحاج سردار محمد مہندا خان کے گھر پیدا ہوئے۔ خان صاحب نے قرآن پاک کی تعلیم اپنے گھر میں مولوی علی بہادر موضع بارل (بلاں ناڑ) سے حاصل کی اور دس سال کی عمر میں کہوٹہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پرائمری تعلیم کی تکمیل کے بعد خان صاحب نے 23 ستمبر 1902 کو 102گرینڈئیر میں سپاہی کی حیثیت سے برطانوی ہند کی فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ملازمت حاصل کی۔ 1916 میں صوبیدار کے عہدے پر ترقی حاصل کی۔ خان صاحب نے جنگ عظیم اول 1914-1918 میں عملی حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی انکی مثالی کارکردگی کی بنیاد پر برطانوی حکومت نے انہیں ”خان صاحب“کے خطاب سے نوازا۔ 1932 ء میں سماجی تنظیم سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیادرکھی، جسکا مقصد ریاست میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ اور اصلاح معاشرہ تھا۔ خان صاحب ایک نیک، جہاندیدہ عمل کو کردار کے پیکر اور عبادت گزار شخصیت تھے۔ خان صاحب نے اپنی عوامی زندگی کا آغاز سماجی و معاشرتی اصلاح اور عوام کی فلاح و بہبودکے پروگرام کی ترتیب سے کیا۔ مٹھی آٹا فی گھر سے بطور فنڈ جمع کرنے کی تحریک شروع کی اور پلندری میں تعلیم القران کے نام سے ایک دارلعلوم کی بنیاد رکھی۔ تعلیمی پسماندگی دورکرنے کے لئے انہوں نے سدھن ایجوکیشن کانفرنس کا قیام بھی عمل میں لایا۔
جس کے پلیٹ فارم سے انہوں نے جدوجہد شروع کی اور معاشرے میں رائج فضول رسومات مقدمہ بازی، چائے، تمباکوکے فضول اخراجات کے خا تمے کیلئے سخت جدوجہد کی۔ ڈوگروں کے خلا ف جنگ کرنے اور ریاست کو آزاد کرانے کے لئے خان صاحب نے پلندری کے مقام پر اعلیٰ آفیسران پر مشتمل ایک وار کونسل قائم کی۔ جس کے وہ خود نگران تھے اور صدر شیر احمد خان تھے۔ وار کونسل کاکام تمام جنگی محازوں کا کنٹرول حاصل کرنا، فوجیوں کو منظم کرنا، محاذوں پر بھیجنا اور جنگی سامان پہنچانا تھا۔ اس دوران بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان نے کئی مرتبہ کوٹلی اورراجوری کا سفر کیا اور اکثر جگہوں پر وہ دشمن پر حملے کے وقت موجود رہتے۔جنگی خدمات کے صلہ میں خان صاحب کو کرنل کا خطاب دیا گیا اور غازی کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ خان صاحب نے تعلیمی، عسکری محاذوں پر خدمات انجام دینے کے بعد 1934 میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھی عوام کی بھر پور نمائیدگی کی۔ خان صاحب غیر معمولی سیاسی بصیرت کے مالک تھے۔ ڈوگرہ راج ختم کرانے، آزاد کشمیر کے علاقہ کو آزاد کرانے اور آزاد کشمیر کی حکومت قائم کرانے میں ان کا کردار اہم تھا۔24 اکتوبر 1947ء کو جب آزاد کشمیر کی حکومت سر زمین پلندری میں قا ئم ہوئی تو خان صاحب ان دنوں جہاد کشمیر میں مصروف عمل تھے، اس عظیم جدوجہد میں خان صاحب کے کردار اور قربانیوں کے صلہ میں 1947ء میں فتح و کامیابی ملی۔
اس جنگ میں سدھنوتی کے بہادر لوگوں نے آزاد کشمیر کا بیشتر علاقہ فتح کیا۔ اتنے بڑے دشمن کو شکست فاش دینے میں بابا ئے قوم کرنل خان محمد خان کی محنت اور راہنمائی کا بہت بڑا عمل دخل تھا اورتحریک آزادی کو مرتب کرنے میں ان کے کارہائے نمایاں سر فہرست ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جنگ آزادی کا آغاز 1832-36 کے پر آشو ب دور سے ہی ہو چکاتھا۔جب سدھنوتی کے غیوروں نے ڈوگرہ حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں 40 ہزار کی آبادی میں سے 15ہزار افرادنے جام شہادت نو ش کیا۔سدھنوتی کے لوگ پسماندہ مگر بہادر،محنتی اور جفا کش تھے۔ صدی کے آغاز سے ہی لوگ انڈین آرمی میں بھرتی ہونا شروع ہوگئے تھے۔تحصیل سدھنوتی میں جنگ آزادی کا آغاز 12 اکتوبر کو لچھن پتن جس کاموجودہ نام آزاد پتن ہے سے ہوا۔ جہاں کیپٹن حسین خان شہید کے زیر ہدایت راجہ سخی دلیر اور ان کے ساتھیوں نے اس وقت ڈوگرہ فو جوں پر فا ئر کھولا۔جب وہ پٹرول چھڑک کر پل نذر آتش کر رہے تھے۔ راجہ سخی دلیر اور ان کی پارٹی کی فائرنگ سے پل پر متعین ڈو گرہ فوج کا دستہ خوف زدہ ہو گیا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ ان پر بڑا حملہ شروع ہو گیا۔پلندری کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے وہ رات کو بد حواسی اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں پلندری پہنچے اور وہاں کے ڈو گرہ کمانڈر کو حملے کی اطلاع دی آخرکار ڈو گرہ فوج کوپسپائی اختیار کرنی پڑی۔
یہ خان صاحب کی کمال ذہانت، فہم و فراست اور دور اندیشی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اس خطے کے ہزاروں لوگوں کو برطانوی فوج میں بھرتی کروایا۔ ان لوگوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ بے پناہ عسکری صلاحیتوں او ر شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ یہی وہ تربیت یافتہ لوگ تھے جنہوں نے 1947میں ڈوگرہ افواج کے ساتھ لڑ کر آزادکشمیر کا یہ خطہ آزادکروایا۔ خان صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ انہوں نے اس خطہ پونچھ کی دو مرتبہ جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کی۔ اور جب 1947میں ڈوگرہ کے خلاف تحریک آزادی شروع ہوئی تو وہ پیرانہ سالی کے باوجود جنگ آزادی میں خود شریک ہوئے۔ بابائے پونچھ11 نومبر 1961 ء کو انتقال فرماگئے۔ خان صاحب ہمیشہ لوگوں میں صلح جوئی، بھائی چارگی، محبت اور یگانگت کا درس دیتے رہے۔ ان کی کامیاب مہم سے خطے کے تمام نوجوان اور عمر رسیدہ لوگوں نے نسوار کا استعمال چھوڑ دیا۔ کرنل خان محمد خان جیسی شخصیات قوموں کی زندگی میں چراغ راہ کی حیثیت بھی رکھتی ہیں اور نشان منزل بھی ہوتی ہیں۔ خان صاحب سستی شہرت کے کبھی طالب نہ رہے۔ انہوں نے قومی خدمت اور ملی تگ و دو کے لیے سیاست کی بجائے علم اور اصلاحِ معاشرہ جیسے دشوار لیکن پائیدار شعبوں کا انتخاب کیا۔ پونچھ اور اہلِ پونچھ کی ترقی کے ہر میدان میں خان صاحب کی شخصیت کا اثر اولین محرک نظر آتا۔
انہوں نے تعلیم کی بنیادی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کردی اور ایک ایسے متوازن اور موثر نظام تعلیم کی تشکیل کی جس کے مثبت اثرات پونچھ میں ہی نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر میں مینار نور بن کر روشن ہوئے۔ پونچھ کی ماضی قریب کی پُر آشوب تاریخ سے واقفیت کے بغیر نہ تو خان صاحب کی پُر عزم کاوشوں، بے لوث خدمات اور قابلِ صد ستائش کارناموں کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے اور نہ ہی ”آپ راجی اورڈوگرہ شاہی،، کے طویل دور میں عوام پر ظلم و استبداد کے ہولناک واقعات اور حالات سے آگاہی ہوسکتی ہے۔ خان صاحب نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مملکت پاکستان کا بھی ایک قومی اثاثہ تھے۔ آج بھی پونچھ اور اہل کشمیر کی ترقی کے ہر میدان میں بابائے قوم کی شخصیت کا اثر اولین محرک نظر آرہا ہے۔ اصلاح معاشرہ میں بھی بابائے قوم درد دل کے ساتھ مصروف رہےاور ان ہی کی کوششوں سے لوگوں کو متعدد تباہ کن رسومات سے نجات ملی جبکہ سیاسی میدان میں بھی خان صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ بابائے پونچھ کی مختلف شعبہ ہائے جات میں خدمات کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے بلاشبہ وہ ہرمیدان میں نمایاں رہے, اللّٰہ تعالیٰ درجات بلند فرمائیں آمین