تحریر:حاجی سید رضوان حیدر رضوان
”بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“
نیلے آسمان کی بیقرآر وسعتوں میں بھٹکے ہوے پرندے اپنی اپنی منزل کو تلاشنےمیں سرگرداں ہیں کچھ اپنی منزل پا لیں گے اور کچھ رات کی سیاہی میں سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گے بلکل ویسے ہی اللہ رب لعزت نے بنی نوحِ آدم کو اشرف المخلوقات بنا کے تاجِ خلافت سے نوازا ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر فردِ بشر کو اسکی حثیت و اوقات کےمطابق منصب عہدے اور مراتب عطاء کیے ۔ کچھ صاحبِ مرتبہ و منصب اپنے عہد میں رہتے ہوۓ عہدے کا جائز اوردرست استمال کر کے خلقِ خدا کے دل میں گھر کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ اپنے اخلاق باختہ کردار و اطوار کے سبب قصئہ پارینہ بن کر معاشرے کے بدبو دار کوڑا دان میں فنا ہو کر اسلاف و اخلاف کے لیے بدنامی اور دشنام طرازی کا باعث بنتے ہیں ۔
آذاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کا دُور اُفتادہ ، لا وارث و یتیم خطۂ حویلی کو کشمیر کے کینوس پہ بطورِ ”فیسٹیول نیل فری“ کے اجاگر کرنے کا سہرا اس وقت کے ڈیبٹی کمشنر حویلی محترم و مکرم جناب چوہدری ساجد اسلم صاحب کے سر جاتا ہے ۔ان کے پرموشن کی خوشی کے ساتھ ساتھ ان سے جدائی کا دکھ بہر حال حویلی کے ہر خیر خواہ کو ہے اور رہے گا۔چوہدری ساجد اسلم صاحب نے اپنی تعیناتی کے اس مختصر عرصے میں اپنی انتھک محنت لگن علاقے سے محبت اور اپنے فرآئضِ منصبی سے ہر مخلص باسی کو اپنا گرویدہ اور دعا گو بنا لیا ۔
دعا ہے ربِ کعبہ سے کہ وہ برادرِمحترم ساجد اسلم صاحب جیسےفرض شناس معاملہ فہم ایماندار آفیسر کو مزید عزتوں سے نوازتے ہوے دآئم اپنی امان میں رکھے آمین ثم آمین۔ہم حویلی والوں کی کم نصیبی کہ موصوف کا ساتھ ہمیں زیادہ دیر نہ نصیب ہوا جسکا خطۂ حویلی کی تعمیر وترقی میں نقصان کی صورت میں ہوا ۔ البتہ موصوف نے جتنا عرصہ اپنے فرآیض حویلی میں سرانجام دیے اس دور کو بلا شبہ سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ حالانکہ یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے اس پوسٹ پر برجمان ایسی شخصیت سے اس پولیو زدہ معاشرے کے تمامی افراد متفق نہیں رہ پاتے کیونکہ ہمارے اس سماج میں ہر نسل و نصب کےلوگ رہتے ہیں جن میں اچھے برے امیر غریب قانون کے پاسدار وقانون شکن خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار اور حرص و ہوس میں جکڑےہوے راشی اور مکار جھوٹے عوامی خدمت گاز الغرض ہر طرح کا باسی اس معاشرے کا حصہ ہے.
جہاں اور بہت سے اچھے کام ڈیبٹی کمشنر صاحب کے مرہونِ منت ہیں وہیں نیل فری فیسٹیول کی کامیابی اور دیگر پروگرامز کا سہرا بھی سیول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ جناب کے سر جاتا ہے۔ اللہ پاک موصوف کے اقبال بلند کرے اور ہر آفیسر کو ساجد صاحب کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوے ملک و ملت کی بے لوث خدمت کی توفیق دے آمین ثمہ آمین