سکڑتا جنگلات کا رقبہ ماحولیاتی خطرات اورپونچھ میں کے ڈی ایف کی درخت لگاؤ مہم

122

تحریر :شوکت علی
کسی بھی ملک میں جنگلات کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اور جنگلات کو اس ملک کی معیشت میں بھی اہم تصور کیا جاتا ہے۔آج دنیا ایک ایسے مقام پہ کھڑی ہے جہاں ماحول،ماحولیات، جنگلات، درجہ حرارت اہم موضوع ہیں اوراس مسئلے کو انتہائی حساس مسئلے کے طور پر سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کسی بھی ملک میں بیس سے پچیس فیصد جنگلات ہونے چاہییں لیکن بدقسمتی سے ہم جنوبی ایشیا کے ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں چار سے پانچ فیصد جنگلات رہ گئے ہیں جس کو باقی دنیا میں خطرناک حد تک کم کہاجاتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کے درخت یمارے لیے اور انسانی بقا کیلیے ضروری ہیں، ان کو کاٹ کر ہم اپنی نسلوں کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں ۔اگر ہم اپنی نسلوں کو ایک بہتر مستقبل نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کو سانس لینےکے مواقع تو دے سکتے ہیں۔

کسی ملک کی متوازن معیشت کیلیے بھی ضروری ہے کے وہاں پچیس فیصد سے زائد جنگلات ہوں اور اس کیلیے اس وقت تک کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔جنگلات آب و ہوا کو تر و تازہ بناتے ہیں، زیرزمین پانی کوتازہ رکھتے ہیں،درجہ حرارت کو اعتدال پہ رکھتے ہیں اور زمین کی زرخیزی کو بھی قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جنگلات یا ایک درخت سے ہزاروں دیگر کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کی زندگی بھی جڑی ہوتی ہے اور اس حصہ داری کے باعث اس ماحول پہ مثبت اثرات پڑتے ہیں جو ہمارے ماحول کیلیے سود مند ہے۔فضا میں پائی جانیوالی خوشگواری اور خوشگوار احساس  جنگلات کا ہی مرہون منت ہے۔جیسے اس ماحول کیلیے جنگلات ضروری ہیں بالکل اسی طرح اس کائنات میں ہائے جانیوالےجانور بھی اس ماحول کیلیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ جنگلات ہوں گے تو جانوروں کو بھی آزادانہ رہنے کا ماحول میسر ہو گا اور جنگلات کے کٹاو کے باعث جہاں ماحولیات پہ منفی اثر پڑتا ہے وہییں جانوروں اور دیگر حشرات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اس لیےجانوروں کو بھی اگر بچانا ہے تو جنگلات کو بچانا ہو گا۔

سانس لینے کیلیے ہوا یا لکڑی استعمال کرنے کیلیے جنگل،جڑی بوٹیوں سے حاصل کی جانیوالی ادویات یازمین کا کٹاو،اس کائنات کا حسن ہو یا پہاڑوں پر پڑنے والی برف کو جلد پگھلنے سے روکنا،انسانوں اور جانوروں کو آندھیوں اور طوفانوں سے بچانا ہو یاماحول کو خوشگوار رکھنا غرض ہمیں ہر حال میں جنگلات کی ضرورت ہے۔کیا ہم جانتے ہیں کے ؟؟؟آزاد جموں و کشمیر کا کل رقبہ 13,297 مربع کلومیٹر ہے اور 2020 میں آزاد جموں کشمیر کی آبادی تقریبا 43,61000 نفوس پر مشتمل تھی ،جس میں شہری اور دیہی آبادی کا تناسب 83:17 ہے ۔ %51 آبادی خواتین پر مشتمل ہے ۔2020تک آزاد کشمیر کا کل %42.63 رقبہ قدرتی جنگلات پر مشتمل تھا ۔ اس میں سے صرف %14.10 محفوظ جنگلات کی کیٹگیری کے تحت  مختص ہے اور باقی تجارتی مقاصد کے لیے حکومت کے زیر استعمال ہیں یا عنقریب لائے  جائیں گے ۔

2017-2019 کے دوران محکمہ جنگلات نے 17,41,286 مکعب فٹ درخت کاٹ کر 36.825 ملین روپے میں فروخت کیے ۔ اگرچہ ان تین سالوں میں 3,000,572 پودے لگائے گئے لیکن ان میں سے کتنے اب بھی موجود ہیں اور کتنے جنگلات میں لگنے والی آگ، بے ہنگم سڑکوں کے جال اور لینڈ سلائیڈنگ میں تباہ ہوگے اس کا کوئی حساب نہیں ۔آزاد کشمیر میں صرف 2021 میں 16012 کنال سے زائد علاقے پر لگے درخت جل چکے ہیں ۔10دسمبر 2018 سے 6 دسمبر 2021 کے درمیان آزاد جموں و کشمیر کے جنگلات میں کل 490  (فائر الرٹس ) آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں ۔آج جب دنیا نئے جنگلات اگانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے تو وہیں آزاد جموں کشمیر میں جنگلات کی کٹائی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اس میں بااثر شخصیات کی مداخلت کے باعث خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔  اس حوالے سے مختلف بہانے تلاش کیے جاتے ہیں کے کیسے ان جنگلات کو کاٹا جائے۔ گرمیوں کے شروع ہوتے ہی اکثر جنگلات میں آگ لگا دی جاتی ہے جس سے نہ صرف پہلے سے موجود درخت جل جاتے ہیں بلکہ نئے پیدا ہونے والے پودے بھی جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں اور یوں موقع پرست جو پہلے سے تیار بیٹھے ہوتے ہیں وہ اپنی مشینیں لے کر پہنچ جاتے ہیں اور جو درخت نہیں بھی جلے ہوتے ان کا بھی صفایا کر دیا جاتا ہے۔

جنگلات کے کٹاو کے نقصانات
جنگلات کے کٹاو سے موسمی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آنیوالے وقت میں اس میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائیگا۔ بارشوں کے باعث جو فضا میں خوشگوار ماحولیاتی تبدیلیاان رونما ہوتی تھیں فوری طور پر اس کو خطرہ ہے۔مقامی لوگوں کو جنگلات کے کٹاو کے باعث صاف پانی کے بہاو کی قلت کے ساتھ ساتھ قحط اور سیلابوں جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق جنگلات کی کٹائی کے باعث پچھلی صدی میں تیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور ہر سال اٹھارہ ملین ایکڑ زمین جنگلات سی خالی ہو رہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق بڑھتی آبادی کے باعث خوراک کی بڑھتی مانگ بھی ایک وجہ ہے کیونکہ فصلوں کو کاشت کرنے کیلیے جنگلات کو کاٹنا پڑتا ہے ۔آلائیو اسٹاک  اس وقت دنیا میں چودہ فیصد جنگلات کے کتاو کا باعث ہیں۔ کسان چارے کیلیے اور جنگلات کاٹ کر جانوروں کو آزادانہ گھومنے کی سہولت بھی مہیا کی جاتی ہےلیکن اس کے دیرپا نقصان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔

آزادکشمیر کا شمار دنیا کے ان خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے جو اپنے برف پوش پہاڑوں، ہری بھری وادیوں ، بڑے بڑے گلیشئیرز، بل کھاتی ندیوں اور بلندیوں سے گرتی آبشاروں کیوجہ سے مشہور ہے۔اس خوبصورتی میں درختوں کا مرکزی کردار ہے، درختوں کی اہمیت و افادیت سے پوری دنیا واقف ہے اور دنیا کے ہر حصے میں ان کی اہمیت یکساں ہے۔جنگلات اور برفانی پہاڑوں کیوجہ سے ہی پانی دریاوں میں آتا ہے جس سے ہماری زمینیں سیراب ہوتی ہیں۔دنیا میں کٹنے والے درختوں کے منفی اثرات پوری دنیا پہ پڑتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے آزادکشمیر میں جنگلات کی تیزی سے کٹانی نے بے شمار مسائل کو جنم دیا ہے۔ یہ کرہ ارض انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں اب اپنی بقا کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے نہ صرف ماحول پہ منفی اثر پڑ رہا ہے بلکہ درختوں کی کٹائی سے زمین کی سطح کمزور ہو جاتی ہے جس سے حادثات اور انسانی  جانوں کی ہلاکتیں ایک معمول بن چکا ہے۔ مقامی لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا کر حکومتی اور انسانی  بے حسی کا رونا  روتے ہیں ۔ ایسے لیے یہ وقت کی ضرورت ہے کے  اسکولوں ،مدرسوں اور یونیورسٹیوں تک آگاہی مہم شروع کی جائے اور پھر نئے درخت لگائے جائیں جوماحول دوست بھی ہوں اور ان سے روڈ سیفٹی بھی ممکن ہو سکے۔

گزشتہ بیس سالوں میں آزادکشمیر کے درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور وہ تمام علاقے جہاں ہر سال برفباری ہوتی تھی لیکن نہ صرف اس کی مقدار کم ہو گئی ہے بلکہ ان علاقوں میں لوگوں کو اب گرمی روکنے کیلیے پنکھوں یا ائیر کنڈیشنز کی ضرورت ہے ، ایسے میں درختوں سے درجہ حرارت کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔آزادکشمیر چونکہ پہاڑی علاقہ ہے اس لیے زمینی کٹاو کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جس سے ہر سال بےشمار حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ، بڑے پیمانے پہ اگر شجرکاری کی جائے شاہراوں کے گرد تو اس سے زمینی کٹاو کو روکنے میں مدد ملے گی اور تودے گرنے سے جو حادثات ہیں ان کو بھی کم کیا جا سکتا ہےجموں کشمیر کا بیشتر حصہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں پھیلا ہوا ہے،  قطبین کے بعد سب سے زیادہ گلیشئیرز ہمالیہ میں ہیں ۔کرہ ارض کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھنے کی وجہ سےگلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے آنیوالے وقت میں سیلابی ریلوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ درختوں سے ہم درجہ حرارت کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں اور جب درجہ حرارت میں کمی ہو گی تو گلیشئیرز کے پگھلنے میں بھی کمی واقع ہو گی۔ ہم شجرکاری سے نہ صرف جموں کشمیر بلکہ ہورے ہمالیہ اور آس پاس کے ممالک کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

واٹرٹیبل کی سطح میں کمی
درختوں کے بے دریغ کٹائی اور اس کے نتیجےمیں ہونے والی کمی کے باعث زیرزمین پانی کی سطح میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے،چونکہ اس خطے میں پانی کو محفوظ کرنے کیلیے باقاعدہ حکومتی سطح پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی اس سلسلے میں عوام کے اندر کوئی آگاہی مہم چلائی گئی ہو جس عوام میں یہ شعور پیدا ہو کے انفرادی سطح پر بھی اس میں اپنا کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔جنگلات کو محفوظ کرنے اور نئے درخت لگانے سے زیر زمین پانی کی سطح کو کم ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث جب زور سے بارش ہوتی ہے تو وہ زمین میں جذب ہونے کے بجائے پانی بہہ جاتا ہے اور ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندر میں گر جاتا ہے جبکہ درختوں کی صورت میں پانی پتوں سے ہوتا ہوا زمیں پہ گرتا ہے جس سے وہ زیادہ تر زمین میں جذب ہو جاتا ہے اور اس سے پانی کی زیرزمین سطح میں اضافہ یوتا ہے۔

حادثات
آزادکشمیر ایک دشوارگزار پہاڑی علاقہ ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ہی لوگوں کو روڈز کی سہولت ملنا شروع ہوٙئی اور ابھی بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں لوگوں کی رسائی سڑکوں تک نہیں ہے۔ جہاں حکومت بمشکل سڑکیں پہنچا رہی ہے وہاں سیفٹی کے حوالے سے کوئی پلاننگ نہیں ہے اس لیے آئے روز حادثات سے ہر سال سینکڑوں  لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ آزادکشمیر میں صرف 2018_19 میں  897 ٹریفک حادثات ہوئے جن میں 349 افراد ہلاک اور 1710زخمی ہوئے۔ان حادثات کی زیادہ وجہ اونچی پہاڑیوں سے گاڑیوں کا نیچے لٰڑھکنا ہی رہا اور ان حادثات سے نہ صرف سینکڑوں لوگ مرتے ہیں بلکہ ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں ۔اگر سڑکوں کے دونوں اطراف یا جس طرف ڈھلوان ہو اس ایک طرف شجرکاری کیجائے تو آئندہ چند سالوں میں, زمینی کٹاو کو روکنےچمیں مدد ملے گی اوران حادثات سے ہونے والا نقصان کم ہو سکتا ہے ۔ شجرکاری سے ماحول پر بِھی مثبت اثر پڑے گا۔

آزاد جموں کشمیر میں جنگلات کی ترقی اور حفاظت کے لیے عوامی ایکشن مہم کا آغازگرین کشمیر کے نام سے کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں چند دوستوں کی مدد سے اس کا آغاز ہوا اور اس کا دائرہ ایک گاوں سے دوسرے گاوں کے درمیان سڑک ہی تھی جس کے دونوں اطراف چنار کے ہودے لگائے گئے اور اس مہم کو مقامی لوگوں تک رکھا گیا تاکہ وہاں کے نوجوان اس میں شرکت کریں اور اس کے بعد اگلے گاوں یا شہر تک وہاں کے نوجوان آگے بڑھائیں ۔ اگر دس میل کا فاصلہ تھا تو اس کیلیے اس مرحلے پہ پانچ سو پودوں کی ضرورت تھی۔ اس کیلیے سب سے پہلے وہاں کے کمیونٹی سرگرم افراد سے رابطہ کیا گیا اور جب انہیں اس منصوبے سے آگاہ کیا گیا کے اس میں معاونت بھی آپ نے کرنی ہے اور شامل بھی مقامی افراد کو ہی کرنا ہے تاکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی وہی لیں ۔ البتہ شروع سے آخر تک ان کو مکمل رہنمائی گرین کشمیر کی طرف سے دی گئی.

سوشل میڈیا اور عام رابطوں سے اس کو مہم کو کافی  پذیرائی ملی اور عام افراد کی طرف سے سراہا گیا۔ کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا میں جب ان سرگرمیوں کو دیکھا تو ان کی طرف سے رابطہ کیا گیا کے یم اپنے علاقوں میں بھی اس کام کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں جس کا فائدہ ہم سب کو ہے اور نوجوانوں کو بھی ایک مثبت سرگرمی ملے گی ۔ گرین کشمیر مہم میں جن علاقوں میں پودے لگاے گے ان کے نام یہ ھیں۔داتوٹ ، پانیولہ،راولاکوٹ، چہڑھ ،چک دھمنی ،کھائگلہ، نامنوٹہ، علی سوجل، چھوٹا گلہ، بنجونسہ ، میرالگلہ، کوٹیڑہ ، تراڑکھل، پپے ناڑ ،ڈنہ پوٹھی میر خان،ٹنگی گلہ، قلعاں ، پھلجڑی، نڑیولہ، دیوی گلی ،جنڈالی اور تتہ پانی.

مسائل
چونکہ پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اس لیے مقررہ وقت تک ہودے حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اوران کو  ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانے میں بھی مشکلات درپیش تھیں۔تازہ شجرکاری مہم ۔ گرین کشمیر کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے محکمہ جنگلات آزاد کشمیر کے ساتھ مل کر منظم طریقے سے شجرکاری مہم کا ارادہ کیا ۔ کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے دسمبر 2021 سے عوام کے اندر ایک آگاہی مہم شروع کی ۔ درختوں کی اہمیت اور افادیت اجاگر کرنے کے لیے عوام سے ایک  عہد نامہ پے دستخط لیے جو کہ انتہائی کامیاب مہم رہی ۔آزاد کشمیر کے شہر تراڑکھل  میں انٹرنیشنل سطح پر کام کرنے والے ادارے کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اس سال 14فروری کو شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا ۔جس میں کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سردار آفتاب خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر بوائز ڈگری کالج تراڑکھل کے  ہال میں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پرائیویٹ  اور سرکاری اسکول و کالجز کے طلباء و طالبات  ، انجمن تاجران کے  وفد، اساتذہ کرام اور سول سوسائٹی نے بھرپور شرکت کی ۔

تقریب کے مہمان خصوصی سردار آفتاب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں جنگلات کی اہمیت افادیت سے لوگوں کو درست طور پر آگاہی فراہم کرنا ہے ۔آزاد جموں وکشمیر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے درخت لگائیں اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنائیں ۔آزاد جموں و  کشمیر کا شمار دنیا کے ان خوبصورت علاقوں میں ہوتا ہے جو اپنے برف پوش پہاڑوں ہری بھری وادیوں گلیشئرز بل کھاتی  ندی نالوں اور بلندیوں سے گرتی آبشاروں کی وجہ سے مشہور ہے ۔ درخت ہماری فضا میں صاف آکسیجن کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہیں جس سے ہمارے سانس اور دلوں کی دھڑکن برقرار رہتی ہے ہماری زمین سیراب  سرسبزوشاداب ہوتی ہیں پہاڑوں پر برف پڑتی ہے جس سے دریاؤں میں پانی آتا ہے اور بجلی بنتی ہے جس سے ہمارے گھر روشن اور کاروبار زندگی چلتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری لاپرواہی حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے آزاد کشمیر میں صاف پانی کے ذخائر اور جنگلات شدید خطرات سے دوچار ہیں ۔

کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیرانتظام شجرکاری مہم کے پہلے مرحلے میں نیریاں ، مرشد آباد ، ٹھل کنیاٹ، پندی ، مجوماں ، ناڑ ، بریوٹ ، ٹنگی گلہ ، قلعاں ، پھلجھڑی ، نڑیولہ ، دیوی گلی ، جنڈالی ،گاہی ، بنجوسہ ، کوٹیڑہ ، ترپی ، پپے ناڑ ، اور سب ڈویژن تراڑکھل سے منسلک چار یونین کونسلوں میں پھلدار ، پھول دار اور سایہ دار پودے لگائے گئے ہیں ۔ تراڑکھل بوائز ڈگری کالج ، گرلز ڈگری کالج ، پرائیویٹ کالجز ،مساجد ،قبرستان اور دیگر جگہوں میں پودے لگائے گئے ہیں ۔کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شجرکاری مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز یکم مارچ کو کیا گیا ۔ اس شجرکاری مہم میں راولاکوٹ کمیونٹی کے زیر اہتمام کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ذمہ دار تیمور ایاز خان نے راولاکوٹ کمیونٹی کے رضاکاروں اور عملہ کوٹ کی سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر صابر شہید اسٹیڈیم  راولاکوٹ میں چنار کا پودا لگا کر دوسرے مرحلے کی مہم کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر کشمیر ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے پروجیکٹ ڈیولپمنٹ آفیسر تیمور ایاز خان نے صحافیوں اور سول سوسائٹی سے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ لوگ اس آگہی مہم  میں ہماری مہم کا حصہ بنیں تاکہ ہم ہر گھر میں ایک چنار کا پودا لگا کر اپنے ملک آزاد کشمیر کو مزید خوبصورت بنا سکیں ۔ اس موقع پر راولاکوٹ شہر اور گردونواح کے علاقوں کے لیے چنار  کے پودے تقسیم کئے گئے اور لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ آپ اپنے اپنے علاقوں میں جا کر ہمارے اس مہم کا حصہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ پودے لگوائیں ۔ گردونواح کے علاقوں سے مختلف وفود کی شکل میں سماجی تنظیموں نے پودے حاصل کیے ۔ ان علاقوں میں علی سوجل ، کھائی گلہ ، دوتھان ، دهمنی ، چہڑھ ، عید گاہ ، دھیر کوٹ ، ہجیرہ ، تتہ  پانی ، بٹل ، دھر بازار کے علاقے شامل ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں