سہولت کار اور غدارانِ ایکشن کمیٹی

148

تحریر:عابد علی عابد
عوامی مقبولیت کے زعم میں مبتلاء عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل غلط فیصلے کر رہی ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں پر غداری اور سہولت کاری کے فتوئ لگائے جا رہے ہیں۔ انتہائی برے الفاظ اور القابات سے نوازا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کا شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو ان مطالبات کے خلاف ہو جو ایکشن کمیٹی کے ہیں۔ بشمول میرے ہر شخص ان مطالبات کا نہ صرف حامی ہے بلکہ ان کی حصول کے لیے پر عزم بھی۔ لیکن اگر ایکشن کمیٹی کے طریقہ عمل ہر اختلاف کیا جائے تو سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور غداری کے فتوے ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن مجھے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ بطور قلم کار اور ایک سیاسی کارکن میری ذمہ داری بنتی ہے کہ جن تحفظات کا مجھے ادراک و احساس ہے یا میرے ذہن میں کھٹکتے ہیں ان کا کھلم کھلا اظہار کروں۔ اگر کوئی منطق اور دلیل سے بات کرے گا تو اپنی اصلاح کروں گا۔ ورنہ جذباتی باتیں ،غداری کے فتوئے اور گالم گلوچ مجھے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے پریشان نہیں کر سکتے۔

گزشتہ روز سے مختلف وڈیوز کلپ میں دیکھ رہا تھا کہ شوکت نواز ضرورت سے زیادہ گھمنڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ ایسے فیصلے صادر کر رہے ہیں جیسے ساری عوام ان کا اشارہ ابرو پر جان قربان کرنے کو تیار ہو۔ اور بظاہر ان کے سامنے کھڑے نوجوانوں کے جذبات اور ان کے اظہار سے لگتا بھی یہی ہے کہ بڑی سے بڑی قربانی کے لیے تیار ہیں ۔چونکہ ان معصوم نوجوانوں کو جن خوش کن نعروں کے پیچھے لگا کر جو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں ان کا فطری رد عمل ہونا بھی ایسے ہیں چاہیے۔عوامی مقبولیت اور طاقت کے زعم میں مبتلا قیادتیں اپنے فیصلے کس حد تک درست کرتی ہیں پاکستان میں اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔

کاروباری طبقہ برے طریقے سے یر غمال بن چکا ہے۔ ان کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ ان کے کاندھے پر بندق کس نے رکھی ہے اور فائر کون کرے گا۔ انھیں یہ وہم ہے کہ یہ تحریک انھوں نے عوامی بنائی ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ تاجر طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی ہے۔ ان کے دوکانیں بند کرنے کے عمل نے اس تحریک کو جلاء بخشی۔ اور اسی کے نتیجہ میں لوگ بھی کھڑے ہو گیے لیکن اس تحریک سے مقاصد کون حاصل کرنا چاہا رہا ہے اس سے وہ بے خبر ہیں۔

تاجروں اور سول سوسائیٹی کی مشترکہ اس تحریک کے نتیجہ میں یقینا کشمیری عوام کو نہ صرف اٹے اور بجلی پر بہت بڑی رعایت ملی ہے بلکہ دنیا میں کشمیری عوام کا ایک امیج بھی بلند ہوا ہے جس پر عوامی ایکشن کمیٹی کی تحسین نہ کی جائے تو زیادتی ہے۔ لیکن اب یہ تحریک آہستہ آہستہ ایک نئی شکل اختیار کرنا شروع ہو چکی ہے۔ وہ ایسی شکل ہے کہ جس سے فوائد کم اور نقصانات کا زیادہ اندیشہ ہے۔ حالیہ تحریک ایک متنازع آرڈیننس کی وجہ سے شروع ہوئی۔ وہ آرڈیننس حکومت آزاد کشمیر نے جاری کیا جس پر ایکشن کمیٹی نے احتجاج شروع کیا اور ہڑتال کی کال دی۔ اس آرڈیننس کو آزاد کشمیر کی ساری سیاسی جماعتوں، بار کونسلز، سماجی تنظیموں سمیت ہر مکتب فکر نے مسترد کیا۔ لیکن ایکشن کمیٹی نے اس پر غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاون کی کال دے دی۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو معطل کر دیا لیکن اس کے باوجود نہ تو حکومت نے اسے واپس لیا اور نہ ہی عوامی ایکشن کمیٹی نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

سوال یہ ہے کہ جھگڑا ہمارا آزاد کشمیر کی حکومت سے ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سے ہے لیکن ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے انٹری پوائینٹس بند کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی کیا جوازیت ہے؟ کیا میں سوال کر سکتا ہوں کہ اس فیصلے کا مقصد ایسا تو نہیں کہ ہم کسی بیرونی قوت کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے لوگ پاکستان سے تنگ ہیں۔ ؟ یا پھر ایکشن کمیٹی حکومت پاکستان کو براہ راست چیلنج کرکے اسے براہ راست مداخلت کا موقع فراہم کرنا چاہا رہی ہے۔ یہ دھرنا یا احتجاج آگے بڑھاتے ہوئے اگر اسمبلی کے سامنے لے جایا جاتا تو پھر بھی بات سمجھ میں آتی لیکن انٹری پوائنٹس بند کرنے کے فیصلے سے دماغ میں الجھتے ہوئے سوالات سلجھنے لگ گئے ہیں۔

ایکشن کمیٹی میں اڑھائی درجن لوگوں کی ایک کور کمیٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس کور کمیٹی میں بھی چند لوگ زیادہ با اثر ہیں جو اپنی مرضی سے فیصلے کرواتے ہیں باقی اس کور کمیٹی میں بھی یس سر والے بیٹھے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے میرا یہ خیال پختہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں جن قوتوں کو آزاد کشمیر کا یہ اسٹیٹس ہضم نہیں ہو رہا اور مسلسل راولپنڈی ڈوئژن سے اس کی آبادی کو کم قرار دے کر اس سٹیٹس کے خاتمے کے متمنی ہیں۔ (اور ایکشن کمیٹی بھی وہی مثال دے رہی ہے)وہی نہ صرف وزیر اعظم کی پشت پر ہیں بلکہ ایکشن کمیٹی کے بعض لوگ بھی وہیں سے ہدایات لے کر اگے بڑھ رہے ہیں۔ اور پوری ایکشن کمیٹی خفیہ ہاتھوں میں یرغمال بن چکی ہے۔

انہی قوتوں نے رات کے ایک بجے انوار الحق کی حکومت قائم کروائی۔ اس میں ساری جماعتوں کو کابینہ میں نمائندگی دلائی۔ سیاسی جماعتیں نہ اس حکومت کی اوونرشپ لے رہی ہیں نہ اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ سیاسی لیڈر شپ کو حالات سے دور کر کے عوامی ایکشن کمیٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ نتیجتاً سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں نہ صرف عوامی معاملات سے ہی دور ہو گئیں بلکہ غیر مقبول بھی ہو چکی ہیں۔ اس وقت آزاد کشمیر صرف عوامی ایکشن کمیٹی کے رحم و کرم پر ہے۔ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ آزاد کشمیر جو چند سال پہلے پر امن علاقہ تھا اور جہاں سیاسی و سماجی رواداریوں کی انتہاء تھی اب وہاں غداری اور سہولت کاری کے فتوے تقسیم ہو رہے ہیں۔ نفرتوں کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اطلاعات ایسی بھی آ رہی ہیں کہ افغانستان سے تربیت لے کر بھی کچھ لوگ واپس پہنچ رہے ہیں۔ اور مقتدر حلقے ان پر سے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں ریاست کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہونا تو پڑتا ہے اور جتنے بھی سنجیدہ فکر لوگوں سے بات ہوتی ہے انھیں ریاست کا مستقبل داو پر لگا نظر آ رہا ہے۔ اور وہ متفکر نظر آتے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سنئیر سیاسی قیادت کی زبان بندی کی وجہ سے ریاست حکومتی اور عوامی اعتبار سے غیر سنجیدہ اور غیر جہاں دیدہ ہاتھوں میں چلی گئی ہے لہذا سیاسی قیادت کو اپنی مقفل زبانوں کو کھولنا پڑے گا۔ اور آگے بڑھ کر اپنا کردار اداء کرنا پڑے گا ورنہ جلد یا بدیر اس صورتحال کے وہ نقصانات اٹھانے پڑیں گے کہ جن کا خمیازہ ہماری نسلیں بھگتیں گیں۔ ہماری غداری اور سہولت کاری کے فیصلے پھر ت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں