تحریر:نعیم الحسن نعیم
آزاد کشمیر جسے ہندوستان کے قبضے سے آزاد ہوئے 77 سال ہو گے.آج بھی ایک عام آدمی بنیادی سہولیات سے محروم ہے. آزاد کشمیر میں اس وقت درجنوں بڑے سرکاری ہسپتال موجود ہیں اس کے علاوہ بعض شہروں میں سی ایم ایچ بھی موجود ہیں مگر پھر بھی عام آدمی صحت جیسی سہولیات سے محروم ہے. 1947 سے لے کر آج تک کئی حکمران آئے چلے گئے حکومتیں تبدیل ہوئی تعمیر و ترقی یافتہ دعوے کیے جاتے رہے مگر افسوس عملی کام کسی دورے حکومت میں نہیں ہو سکا.صحت اور تعلیم جو ریاست کی ذمہ داری اور شہریوں کا حق ہوتا ہے آزاد کشمیر کے لوگ 77 سالوں سے صرف جھوٹے دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں.سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار ایسی ہے کہ ایک عام آدمی کے لئے سر درر کی گولی بھی دستیاب نہیں ہوتی.
جو سرکاری ہسپتال علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں-ان ہسپتالوں میں علاج معالجے کی جو سہولتیں حاصل ہیں وہ انتہائی کم اور ناکافی ہیں۔ اگرچہ آزاد کشمیر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کا بھی جال بچھا ہوا ہے، تاہم یہاں صرف صاحب ثروت لوگ ہی بڑی بڑی رقوم خرچ کر کے اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں وہی آتا ہے جو مڈل کلاس یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔آزاد کشمیر میں جتنے بھی سرکاری ہسپتال ہیں۔ وہ صرف نام کے سرکاری ہسپتال ہیں۔ یہاں صفائی ستھرائی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ واش روم بہت گندے اور انتہائی بدبودار ہیں۔ یہاں ڈاکٹروں کی ایسی تعداد بھی ہے جو ڈاکٹر کم اور مافیا زیادہ نظر آتے ہیں۔ اس ساری کشمکش اور معاملے میں جو سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ بیچارا مریض ہے۔ پیرا میڈیکل سٹاف کا رویہ بھی مریضوں اور اْن کے لواحقین کے ساتھ انتہائی شرم ناک حد تک گرا ہوا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر بھی پیرا میڈیکل سٹاف سے خوفزدہ اور اْن کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ کسی شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔
غور وفکر کا مقام ہے کہ جن سرکاری ہسپتالوں میں شہر کے نوے فیصد لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔ انہیں کن قباحتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال ہو جائے تو ا OPD سمیت اکثر اوقات ایمرجنسی بھی بند کر دی جاتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروانا ایک عام شہری کا خواب بن چکا آزاد کشمیر میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔اول تو میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد ہی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے اور جو ہیں وہ سہولتوں سے محروم ہیں۔ کہیں بستروں کی کمی کا سامنا ہے-کہیں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں کہیں ادویات میسر نہیں بلڈ بنک سے بلڈ نہیں مل رہا-آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے دو بڑے ہسپتال سی ایم ایچ اور ایمز جہاں دن کو ہزاروں لوگ علاج کروانے آتے ہیں صحت جیسی سہولیات دینے سے قاصر ہیں وہیں اضلاع کے بڑے ہسپتالوں اور وہاں میسر سہولتوں کی حالت انتہائی ناقص ہے۔ اگر دارالحکومت میں ہسپتالوں کا یہ حال ہے تو دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں موجود بی ایچ یو یا ڈسپنسری کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صحت کا شعبہ حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔
ہر علاقے میں دیکھیں تو بیشمار شدید ترین سینیئر سیاسی رہنما اور وزراء کے آگے پیچھے گھوم رہے ہوتے ہیں مگر حالت یہ کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب کو سر درد کی گولی تک نہیں ملتی-
سرکاری ہسپتالوں کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔چوکیدار سے لے کر ایم ایس تک ہر ایک اپنی کرسی کے زور بدمعاشی کررہا ہے-سرکاری ہسپتال میں پرچی بنانے والے ملازم اپنی کرسیوں سے غائب ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں کے بجائے پرائیویٹ کلینک پہ موجود ایکسرے مشین خراب سچ تو یہ ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے. سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سلوک کیا جاتا ہے. نہ ڈاکٹر دستیاب نہ میڈیسن اور نہ ہی کوئی مسیحا.جو دکھی انسانیت کو حوصلہ دے.ڈاکڑ اور نرس پرائیوٹ ہسپتالوں میں جاب کرتی ہیں اور بعض نے تو اپنے ذاتی کلینک بنائے ہیں۔جہاں غریب افراد کی کھال اتاری جاتی ہے.زیادہ تر عملہ تو سفارش کی بنیاد پر بھرتی ہوا ہے۔اور وہ سرکاری ہسپتال میں نوکری برائے نام کرتا ہے۔ممبران اسمبلی کی سوشل میڈیا کمپین یا خوش آمد میں مصروف ہوتا ہے.صرف تنخواہ اور مفادات کےلئے ہسپتال آتے ہیں.
ڈیوٹی کرنا تو ان کے فرائض میں شامل نہیں ہے.ہسپتال میں موجود عملا مریضوں کے ساتھ انتہائی توہین آمیز سلوک کا کرتا ہے جو مریض تھوڑا بیمار ہو. وہ ذہنی مریض بن کر نکلتا ہے ، ڈاکڑ کا کام ہوتا ہے کہ وہ مریض کو حوصلہ دے تا کہ مریض جلد صحت یاب ہو. ہسپتال میں لیبارٹری کی سہولیات ہونے کے باوجود اپنی پسندیدہ اورمخصوص لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں مخصوص میڈیکل سٹور سے میڈیسن لینے پہ زور دیا جاتا ہے تا کہ ان سے کمیشن لیاجائے۔ ڈاکڑ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو اپنے پرائیوٹ ہسپتال کاراستہ بتاتے ہیں تاکہ ان کی جیب پر ہاتھ صاف کیے جائیں ۔ایم ایس اور ڈی ایم ایس صاحبان پورا دن ہیٹر اور اے سی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں ہیں مگر یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنے ادارے کی حالت اور سٹاف کے روئیے کو دیکھ لی.اگر کسی مسئلہ پر توجہ مبذول کروائی جائی تو فرماتے ہیں کہا جاتا ہے یہاں سیاست نہ کی جائے سفارش اور رشوت کاچلن عام ہے مریضوں کو دیا جانے والا کھانا بھی غیر معیاری ہوتا ہے۔ بلڈ بنک کی تختی موجود ہوتی ہے لیکن خون کو محفوظ کرنے کا کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا اگر انتظام ہو بھی تو ضرورت کے وقت کسی کو خون نہیں ملتا.
بدتمیز اور سفارشی سٹاف کی وجہ ہسپتال وہ رزلٹ نہیں دے پا رہے جس کی امید کی جا سکتی ہے۔
سابقہ اور موجودہ حکومت کے ذمہ داران کوصرف اپنی تختی لگوانے کا شوق ہے۔ نئی گاڑیاں بھی زاتی استمال میں ہوتی ہیں. ہسپتالوں میں کھڑی ایمبولنس ںاکارہ ہو چکی ہیں.ڈرائیور حضرات نے اپنی پرائیویٹ ایمبولینس رکھی ہوئی ہیں.ڈاکٹرز نے اپنے اپنے کلینک بنا رکھے ہیں،جہاں ملازمین دوسرے اوقات میں جاب کرتے ہیں.اسطرح کے حالات میں عوام کا اللہ ہی حافظ۔اس صورت حال کو کنڑول کرنا حکومت کا کام ہے. اس صورت حال میں سرکاری ڈاکٹرز کا پرائیوٹ ہسپتال میں علاج کرنے پر پابندی ہونی چائیے اگر کوئی سرکاری ڈاکٹر کسی پرائیویٹ کلینک پہ موجود ہو تو اس کا لائسنس معطل کیا جائے. رفائی اداروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے الخدمت اور پیما ہسپتال جیسے ہسپتال میں مزید سہولیات کے لیے حکومت انکی سرپرستی کرے. مافیاسے عوام کو نجات دلائیں۔ حکومت اپنی زمہ داری کو پورا کریں تو عوام کو صحت کی سہولیات میسر آسکتی .
ہمارے ہسپتالوں کی حالت بہتر نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تمام چھوٹے بڑے سیاست دان ،بیوروکریٹس اور ان کی فیملیز کا علاج الشفاء یا اس جیسے دوسرے بڑے ہسپتالوں میں حکومتی بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسے پر ہوتا ہے۔ایک سیاست دان یا بیوروکریٹ کے زکام کا علاج بھی ملک کہ مہنگے ہسپتال سے ہوتا ہے جبکہ ایک کینسر زدہ غریب اپنے کینسر کا علاج بھی ایک بیسک ہیلتھ یونٹ، رورل ہیلتھ سنٹر یا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سے کروانے پہ مجبور ہے۔ایک بیوروکریٹ کو دل کا اٹیک آۓ تو فوری ایمبولینس مہیا کی جاتی جبکہ ایک غریب کے لیے streptokinase جیسا انجکشن بھی مہیا نہیں ہو سکتا۔غصہ تو تب آتا ہے جب یہی عوام سہولیات کی عدم دستیابی پر ڈاکٹرز یا دوسرے ہاسپٹل سٹاف سے دست وگریباں ہوتے ہیں اور ڈاکٹرز کو یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمارے نوکر ہو ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہو ۔اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور اس سادہ لوح بھولی عوام کی سادگی یہ ہے کہ پھر اُن ہی سیاستدانوں کا رعب بھی جھاڑتے ہیں جو اس سب خرابی کے ذمہ دار ہیں.
ہمارے ہسپتال اس وقت تک کبھی بھی بہتر نہیں ہو سکتے جب تک یہاں صرف کمزوروں اور غریبوں کا علاج ہو گا۔جب تک یہ سیاست دان تگڑے بیوروکریٹس اور ان کی فیملیز کھانسی زکام کے علاج کے لیے راولپنڈی اسلام آباد جاتے رہیں گے۔جب تک شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی نہیں پیتے یہ نظام نہیں بدلنے والالہذا اگر آپ عوام نظام کی بہتری چاہتے ہو تو ہسپتالوں میں آکر ڈاکٹرز کے گریبان پکڑنے کے بجاۓ ان کاغذی شیروں کی ناک میں نکیل ڈالیں اور انہیں اسی گھاٹ سے پانی پینے پہ مجبور کریں جس سے عوام پیتی ہے.
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اگر گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو تو اس وقت ہمیں سڑکوں حالت زار یاد آتی ہے جب بچے فیل ہوتے ہیں تو تعلیمی نظام یاد آتا ہے. جب کوئی بوقت علاج نہ ملنے پر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو اس وقت ہسپتالوں کی حالت پہ ماتم کرتے ہیں.ہمیں الیکشن کے وقت کیوں یاد نہیں آتا کسی کو اس وقت کیوں ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ ہمارا امیدوار اس قابل بھی ہے کہ وہ کسی سرکاری پوسٹ پر کام کر سکتا ہے. اگر میٹرک پاس وزیر صحت لگوا کر بھنگڑے ڈالنے سے نظام بدلتے تو بہت پہلے بدل چکے ہوتے. صرف برادری کی بنیاد پر پارٹی کی بنیاد پر تعلقات کی بنیاد پر وزیر مشیر آئیں گے تو مسائل مزید بڑھیں گے نہ کہ حل ہوں گے.
پتہ نہیں ہمارے ہسپتالوں کا نظام کب ٹھیک ہوگا.روزانہ مریض ہسپتالوں میں ذلیل خوار ہوتےہیں. مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہیں.آخر کب تک لوگ ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے مرتے رہیں گے-کب تک ایک سفید پوش انسان سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے نام پہ دھکے کھاتا رہے گا.خدارا ان اس مخلوق پر رحم کریں. انسان کی بنیادی ضروریات میں تعلیم اور صحت سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن دونوں چیزوں کی طرف ہماری توجہ نہیں۔ حکومت ہی نہیں، ہم میں سے ہر کوئی اس کارِ خیر میں اپنا حصّہ ڈال سکتا ہے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ہم تمام معاملات میں سنجیدہ ہو جائیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں پائے جانے والے گھمبیر مسائل کو حل کرے۔