سید نظیر الحسن گیلانی کی خدمات اور صلاحیت

91

نقطہ نظر/سید عامر گردیزی
ممبر الیکشن کمیشن سید نظیرالحسن گیلانی نے سال 1975 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سےگریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ 1977 تک صحافت کے پیشہ سے منسلک رہ کر قومی اخبارات کیلیٸے کالم نویسی کرتے رہے۔ اسی سال انہیں سعودی عرب کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں عربی ذبان اور ادب میں دو سالہ ڈپلومہ کیلیٸےسکالرشپ ملا جس میں انہوں نے یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کرتے ہوئے ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں مقابلہ کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اسلامی قوانین کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے تقابلی مطالعہ میں یونیورسٹی میں اول پوزیشن کے ساتھ 1983 میں ایل ایل بی اور 1986 میں ایل ایل ایم کی ڈگریاں بھی گولڈ میڈلز کیساتھ حاصل کیں اور اسی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے میرٹ پر سکالرشپ حاصل کیا .

مگر 1988 میں گھریلو مجبوریوں کے باعث پاکستان واپس آنے کیوجہ سے اسے مکمل نہ کر سکے۔ انہوں نے آذاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ پورے آذادکشمیر اور مہاجرین مقیم پاکستان کیلیٸے مشتہر ہونے والی سیکریٹری اسلامی نظریاتی کونسل کی سکیل 18 کی آسامی پر اوپن میرٹ پر منتخب ہو کر سال 1989 میں سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔ سال 2001 میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن پشاور اور 2012 میں سٹاف کالج لاہور سے سٹاف کورسز مکمل کیے. انہیں سال 2006 میں سیکریٹری حکومت کی آسامی پر ترقیاب کیا گیا اور سال 2019 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک سماجی بہبود و ترقی نسواں، مذہبی امور ، ذکوة و عشر اور اوقاف کے سیکریٹری کی آسامیوں پر تعینات رہے۔ اسلامی قانون پر انکے 20 سے ذائد تحقیقی مقالے بین الاقوامی شہرت کے حامل تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جن میں سے بعض پاکستان سپریم کورٹ کے اہم ترین فیصلوں میں بھی ریفر ہو چکے ہیں۔

بطور سیکریٹری حکومت آپکی کاوشوں سے بین لاقوامی اداروں کی فنڈنگ کے ذریعے آذادکشمیر کے مختلف اضلاع میں بین الاقوامی معیار کی حامل سوشل ویلفیٸر کمپلکسز اور ویمن ڈویلپمنٹ سنٹرز کی عمارتیں، ایس او ایس ویلیجز اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کئی ایک منصوبے مکمل ہوئے۔ محکمہ اوقاف کے تمام درباروں پر عوامی ضرورت کی تعمیرات اور بالخصوص کھڑی کمپلیکس، سہیلی سرکار کمپلیکس اور بابا شادی شہید کمپلیکس مکمل ہٶے۔ محکمہ امور دینیہ، اوقاف اور ذکوة و عشر کو صاف و شفاف بنیادوں پر منظم کرنے اور سیاسی مداخلت کو روکنے کے لیے قواعد و ضوابط کی ترتیب و تدوین اور انکا سختی سے نفاذ عمل میں لایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں