شوگری آئٹمز ، الٹرا پراسیسڈ فوڈز کیخلاف “پناہ” کی جنگ

45

تحریر: سید عمر گردیزی
دنیا کے رنگین بازاروں میں ایک خاموش مگر مہلک دشمن گھوم رہا ہے، جس کا نام نہ صرف زبانوں پر آتا ہے بلکہ دل و دماغ میں ایک گھنے بادل کی مانند سایہ فگن ہے۔ وہ دشمن کوئی دشمنِ وطن نہیں، نہ کسی فوج کی صف میں کھڑا کوئی سپاہی، بلکہ وہ ہے وہ میٹھے زہر کی وہ خوشنما قید، جو ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر، جوانوں کی زندگی میں زہر گھول رہا ہے۔ الٹرا پراسیسڈ اشیاء اور شوگری اشیاء، وہ ظاہری چمک دمک کے ساتھ دلوں کو دھوکہ دیتی ہیں، مگر اندر سے ایک ایک کر کے ہمارے رگ و پے میں بیماریوں کی آگ لگا دیتی ہیں۔ یہ وہ کھانے پینے کی چیزیں ہیں جن میں اصل قدرتی زندگی کی خوشبو نہیں، بلکہ مصنوعی رنگ، زہر آلود کیمیکلز اور چینی کی بے تحاشا مقدار شامل ہوتی ہے، جو ہر گھونٹ کے ساتھ ہمارے جسم کی حفاظت کرنے والی فطری طاقت کو ختم کر دیتی ہیں۔

تصور کریں ایک ایسی دنیا جہاں ہر گزرتا لمحہ ہزاروں دلوں کو چیرتا ہے، ہر گھنٹے میں خون کی ندی میں ایک نئی داستانِ غم رقم ہوتی ہے، اور اس غم کا محرک وہی مٹھاس ہے جو بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا بہانہ کرتی ہے۔ شکر کی یہ گھنا سیاہ دھند، جسے ہم نے اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے، اپنے ساتھ وہ موت کی دیوی لاتی ہے جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ دل کے عارضے، شوگر، گردے کی بیماریاں اور دیگر لاعلاج امراض، جو ایک وقت میں دور دراز کی کہانی سمجھی جاتی تھیں، آج ہمارے اپنے گھر کی دہلیز پر دستک دے رہی ہیں۔ ہر روز ہزاروں لاشیں اس بے درد مہمان کی نذر ہوتی ہیں، اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ بیماریوں کا جہان کوئی اتفاق یا قدرت کا کھیل نہیں، بلکہ یہ منافع کی ہوس کا کریہہ چہرہ ہے.

جو ہمیں زندہ رہنے کا حق چھین رہا ہے۔ ہم نے اپنی زبانوں کو زہر سے مٹھاس دی، اپنی صحتمند زندگی کو مہنگی ادویات کے ہاتھوں قربان کر دیا۔ ہر ایک روپے کا جو ہم نے بیماریوں پر خرچ کیا، وہ ملک کی ترقی کے خوابوں کو چھین لے گیا۔ اگر ہم آج اس زہر کے خلاف ایک جہاد نہ کریں، تو کل ہمارے بچے اور ان کے بچے ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہوں گے جہاں صحت کا نام و نشان تک باقی نہ ہوگا۔ یہاں ایک روشن چراغ کی مانند پناہ تنظیم نے اس تاریکی میں امید کی کرن دکھائی ہے۔ سیکرٹری جنرل پناہ، ثناء اللہ گھمن کی دن رات محنت میں اور میجر جنرل مسعود الرحمان کی صدارت میں یہ ادارہ اپنی پوری توانائی اور حکمت عملی کے ساتھ اس لڑائی کو جیتنے کے عزم پر گامزن ہے۔

پناہ صرف ایک تنظیم نہیں، بلکہ ایک محاذ ہے جہاں سے بیماریوں کے اس مہلک حملے کا جواب دیا جا رہا ہے۔آج کا دور جہاں بے شمار ترقی یافتہ سہولتوں اور رنگ برنگی اشیاء کا گہوارہ ہے، وہیں اس کے سایہ میں ایک پوشیدہ اور سنگین مسئلہ بھی پنپ رہا ہے۔ انسانی صحت پر پڑنے والے اس اثرات کی نوعیت اتنی پیچیدہ اور جان لیوا ہے کہ اس کی طرف وقت پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ وبا بن کر سامنے آئے گی۔ ہم جس عیش و عشرت کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، وہی ہمارے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ قدرت نے جو ہمیں خالص اور فطری رزق دیا تھا، اسے ہم نے مصنوعی اور خطرناک اشیاء کے ہاتھوں قربان کر دیا ہے۔

اس مضمون کا بنیادی مقصد ان خطرناک عوامل، خاص طور پر الٹرا پراسیسڈ فوڈز اور شوگری اشیاء کے نقصانات کو اجاگر کرنا اور اس بگڑتی ہوئی صحت کی صورت حال کے خلاف شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دکھانا ہے کہ کس طرح ایک منظم اور پُرعزم محاذ، پناہ، اس عظیم چیلنج کا مقابلہ کر رہا ہے، تاکہ ہمارے معاشرے میں صحت مند زندگی کی روشنی پھر سے لوٹ آئے۔
پناہ کی ٹیم ملک بھر میں آگاہی مہمات چلا رہی ہے، سکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں صحت مند غذا کے حوالے سے شعور بیدار کر رہی ہے، اور اس وبا کے خلاف قانونی و پالیسی سطح پر کام کر رہی ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں ہر فرد کا کردار لازم ہے، جہاں ہر گھر کا ایک سپاہی ہونا ضروری ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صحت مند، خوشحال اور بیماریوں سے آزاد پاکستان دے سکیں۔ جسم و جاں کی صحت کسی بھی قوم کی خوشحالی کی اساس ہوتی ہے۔

ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک مضبوط قوم کی تشکیل کر سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم آج ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری صحت تجارتی مفادات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ مضر صحت غذا، شوگری آئٹمز اور الٹرا پراسیسڈ فوڈز نے نہ صرف ہماری جسمانی صحت بلکہ قومی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے زیر اہتمام ایک حالیہ ورکشاپ میں سیکرٹری جنرل ثناء اللہ گھمن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ PANAH کا بنیادی مقصد عوام کو غیر متعدی بیماریوں (NCDs) سے بچانا اور انہیں صحت مند زندگی کی راہ دکھانا ہے۔ یہ ادارہ 40 سال قبل آرمی فورسز کے تحت قائم ہوا تھا، اور آج بھی اس کا ہیڈکوارٹر آرمی کے ماتحت ہے، جہاں میجر جنرل مسعود الرحمان اس کے صدر ہیں۔

PANAH نہ صرف ہنگامی حالات میں کیمپ لگاتا ہے بلکہ ملک بھر میں سی پی آر (Cardiopulmonary Resuscitation) کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے، تاکہ دل کے دورے اور دیگر امراض قلب کے مریضوں کو فوری مدد دی جا سکے۔ پاکستان میں صحت کی سنگین صورتحال: پاکستان اس وقت دل کی بیماریوں، موٹاپے، ذیابیطس اور گردے کی بیماریوں کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہر روز 2200 پاکستانی ان بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ وہی اعداد و شمار ہیں جن پر ہمیں کووڈ-19 کے دوران ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی، مگر آج جب روزانہ ہزاروں لوگ ان بیماریوں کے باعث انتقال کر رہے ہیں، تو کیوں خاموشی ہے؟

کیا ہمارے حکمرانوں کو ان کی زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں؟ یہ بیماریاں صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں، بلکہ ملکی معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈال رہی ہیں۔ پاکستان ہر سال 2640 ارب روپے ادویات کی مد میں خرچ کرتا ہے، جس میں سے 428 ارب صرف موٹاپے سے متعلق بیماریوں پر صرف ہوتے ہیں۔ یہ رقم آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے قرضے سے بھی زیادہ ہے۔ اگر ان بیماریوں پر قابو پایا جائے تو یہ رقم قومی خزانے میں شامل ہو کر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ یو پی پیز کا کہنا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ فوڈز (UPFs) اور شوگری ڈرنکس غیر متعدی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ اگر ان پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے تو بیماریوں کی شرح میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

پاکستان میں ہر شہری اوسطاً 80 گرام شوگر روزانہ استعمال کر رہا ہے، جو کہ مقررہ 35 گرام حد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح نمک کا استعمال بھی حد سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پناہ نے حکومت کو پالیسی آپشنز اور تجاویز بھیجی ہیں، جن پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت غور کر رہی ہے۔ اس پالیسی پروپوزل میں شامل اہم نکات یہ ہیں کہ شوگری آئٹمز اور الٹرا پراسیسڈ فوڈز پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے۔ تعلیمی اداروں میں مضر صحت غذا پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ ہر خوراکی شے پر وارننگ لیبلز لگائے جائیں تاکہ عوام کو ان کی صحت کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ ہنگامی اور قومی دلچسپی کے اصولوں کے تحت فوری عمل درآمد کیا جائے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے اس پر سنجیدہ غور و فکر شروع کر دیا ہے اور یہ رپورٹ ایف بی آر کو بھیجی جا چکی ہے۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ اس پالیسی کو جلد از جلد منظوری دی جائے تاکہ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش ہو سکے، جہاں سے منظور ہونے کے بعد صدر مملکت کے دستخط سے یہ ایک مضبوط قانون کی شکل اختیار کر سکے۔ یہ صرف PANAH کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے۔ میڈیا، سول سوسائٹی، علما، میڈیکل ایسوسی ایشنز اور تھنک ٹینکس کو مل کر اس تحریک کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ آئندہ نسلیں ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھ سکیں۔ PANAH کا مشن یہی ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کی صحت کی حفاظت کر سکیں۔

منافع کی ہوس نے عوام کی صحت کو رسک پر ڈال رکھا ہے، عوام کی صحت کے دشمن آخر کب تک بے لگام رہیں گے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری حکومت عوام کی صحت کو بچا سکتی ہے؟ منافع کے کھیل کو اب رد کر کے شوگری آئٹمز اور الٹرا پراسیسڈ فوڈز پر بھاری ٹیکس لگا کر ہی نہ صرف منافع خوف مافیا کو شکست دی جا سکتی ہے بلکہ بیماریوں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ ملکی خزانے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ صحت کے اس نہایت سنگین مسئلے کے منظر عام پر آنے کے بعد میڈیا کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ میڈیا نہ صرف خبروں کی دنیا میں پل پل کی تازہ ترین معلومات پہنچانے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ عوام کی آگاہی کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بھی ہے۔ اس لیے میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس خطرے کی درست اور جامع تشہیر کرے.

افواہوں اور غلط فہمیوں سے پاک، حقیقت کی روشنی میں عوام کو آگاہ کرے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف خبروں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ صحت مند زندگی کے لئے رہنمائی، ڈاکٹروں اور ماہرین کی آراء، اور احتیاطی تدابیر کو بھی عام کرے تاکہ ہر گھر میں صحت کی فہم اور حفاظتی شعور پیدا ہو۔ اس طرح ہی یہ اجتماعی بیماری کا سدِ باب ممکن ہو گا۔ حکومت کی ذمہ داری اس صورتحال سے نمٹنے میں نہایت کلیدی اور لازمی ہے۔ ایک فعال اور سنجیدہ حکومتی پالیسی کے بغیر اس بحران کو جڑ سے ختم کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صحت عامہ کے نظام کو مضبوط کرے، الٹرا پراسیسڈ فوڈز اور شوگری اشیاء کی مارکیٹنگ اور فروخت پر کڑی نظر رکھے، اور سخت قوانین نافذ کرے۔ ساتھ ہی صحت کی تعلیم کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہر فرد اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہو۔

سرکاری اور نجی ہیلتھ کمیٹیوں کی موثر نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ہر سطح پر احتساب ہو اور عوام کو معیارِ زندگی بہتر بنانے کے مواقع میسر ہوں۔ پناہ (PANAH) کی ٹیم کو خراج تحسین ہیش کرتے ہوۓ آخر میں، ہم دل کی گہرائیوں سے پناہ کی اس محنت کش ٹیم کا شکرگزار ہیں، جس نے ملک و قوم کی فلاح کے لیے انتھک محنت اور جذبے کے ساتھ اس جنگ میں قدم رکھا ہے۔ ان کی مستقل محنت، قربانیاں اور شعور کی بیداری کا عمل ہمارے معاشرے کی بہتری کی راہ میں ایک روشنی کا مینار ہے۔ پناہ کی ٹیم نے نہ صرف اس بحران کی سنگینی کو سمجھ کر اس کے خلاف محاذ قائم کیا بلکہ اپنی جانفشانی اور لگن سے یہ ثابت کیا کہ جب قوم کے پاس اہل اور مخلص لوگ ہوں، تو ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔

ان کی خدمات ہمارے لیے باعث فخر ہیں اور ہم دعا گو ہیں کہ ان کا یہ سفر کامیابیوں اور تقدیر کی بلندیوں تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، توفیق اور عزم کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔آئیں! ہم سب مل کر اس مشن کا حصہ بنیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا تحفہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں