اسلام آباد(سٹیٹ ویوز،کاشف میر)حکومت پاکستان کی منظوری سے نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل اکیڈمک بورڈ کی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ کی منظوری سے قائم ہونے والے اس اہم بورڈ میں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو نمائندگی سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا۔ پاکستان بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز بارے پالیسی مرتب کرنے والے اس بورڈ میں نمائیندگی نہ دیئے جانے کی وجہ سے آزادکشمیر کے تینوں میڈیکل کالجز اور گلگت بلتستان کے طلباء متاثر ہوں گے۔
اس بورڈ میں چیئرمین پاکستان ہائر ایجوکیشن، صدر کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان اور آرمی میڈیکل کالج کے پرنسپل ممبران ہوں گے. صوبہ پنجاب کے میڈیکل کالجز سے چار ممبران صوبہ سندھ کے میڈیکل کالجز سے چار ممبران، صوبہ خیبر پختون خواہ سے چار ممبران اور صوبہ بلوچستان سے چار ممبران مختلف میڈیکل کالجز سے لیے گئے ہیں.
ذرائع کے مطابق آزادکشمیر میں وزیر اعظم انوار الحق اور ان کے اتحادیوں کی عدم توجہی اور لاپرواہی کی وجہ سے میڈیکل کالجز اور ڈینٹل کالجز کے بورڈ میں وفاقی حکومت نے آزادکشمیر کو نمائیندگی نہیں دی ہے۔ یاد رہے کہ آزادکشمیر میں تین میڈیکل کالجز میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ میں قایئم ہیں جن میں 15 سو کے قریب طلباء زیر تعلیم ہیں،ہر سال تین سو کے قریب طلباء آزادکشمیر سے گریجویٹ ہوتے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے ان طلباء کو پوسٹ گریجویشن سمیت اپنی تعیناتیاں کرانے میں مشکلات پیش آتی ہیں،آزادکشمیر کے میڈیکل کالجز میں اوورسیز پاکستانیوں سمیت مقبوضہ جموں کشمیر کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد بھی تعلیم حاصل کرتی ہے۔
ان میڈیکل کالجز سے اور ریاستی حکومتی کی طرف سے نمائیندگی نہ ہونے کی وجہ سے اہم پالیسیوں میں مشاورت تک بھی نہیں لی جائے گی۔ دوسری جانب گلگت بلتستان میں ابھی تک کوئی میڈیکل کالج قائم نہیں ہوا اور وہاں کے طلباء کو وفاقی حکومت اپنے میڈیکل کالجز میں کوٹہ دیتی ہے .