شہید جمہوریت تیری عظمت کو سلام”

119

تحریر:نعیم الحسن نعیم
حیران ہوں کہ ایک بھی گواہی نہ مل سکی
حالانکہ کہ ایک ہجوم میں مارا گیا مجھے
دنیا میں آئے دن سانحات رونما ہوتے رہتے ہیں،کچھ وقت اور حالات کی گرد میں زہن انسانی سے محوہوجاتے ہیں اور کچھ اپنی یادوں کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جن کو بھلانا بھی چاہیں تو نہیں بھلاسکتے انہی سانحات میں سے ایک سانحہ 27دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈ ی میں پیش آیا۔جب دنیائے اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کو جلسہ عام سے خطاب کے فوراً بعد ملک دشمن عناصر نے خاک و خون میں غلطاں کردیا۔جس کے نتیجے میں وہ راہی ملک عدم ہوگئیں۔یوں تو جو بھی دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن اس جہان فانی سے کوچ کرجانا ہے، لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کی شخصیت پاکستان کے مظلوم اور ستم رسیدہ عوام کی امیدوں کی وہ آخری کرن تھی جس کا مداوا شاید کبھی ممکن نہ ہوسکے۔

یہی وجہ ہے نہ صرف مملکت پاکستان میں بلکہ دنیائے عالم میں ان کی کمی کو نہایت شدت کے ساتھ 17 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی محسوس کیا جارہا ہے۔شہید محترمہ کودنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ان کے والد محترم شہید ذوالفقار علی بھٹونے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تو شہید بی بی نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا۔یہ دونوں ایسے کام ہیں جس کے سبب پاکستان دشمن قوتیں سراسیما ہیں اور پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہیں۔اس تمام صورتحال اورجانی نقصان کے خدشہ کے باوجود بی بی کے حوصلے پست نہ ہوئے اور وہ سانحہ کے دوسرے ہی دن زخمیوں کی عیادت اور شہداء کے خاندان سے تعزیت کے لئے نکل گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ بی بی نے خطرات کی پرواہ کئے بغیر انتخابی مہم کوجاری و ساری رکھا۔

اسی جوش و جزبہ کو جاری و ساری رکھتے ہوئے محترمہ نے 27 دسمبر کو پاکستان کے تاریخی مقام لیاقت باغ راولپنڈی سے عوام سے خطاب کا فیصلہ کیا اور یہ دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ثابت ہوا پر ہجوم جلسہ گاہ سے واپسی کے دوران قاتلانہ حملہ کے نتیجے میں بینظیر بھٹو نے جام شہادت نوش کیا اور یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ بدترین خون آشام دن تھا جس کے نتیجے میں ملک و قوم پرتاریکی کے سیاہ بادل منڈلانے لگے، جس کے اثرات آج بھی ملک و قوم پر واضع طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔جمہوریت کی کشتی لاکھ کوششوں کے باوجود ڈاما ڈول ہے، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے لے کر آج تک 14 برس گزرنے کے باوجود ایسا کوئی بھی سیاسی رہنما نہیں ہے جس پر پوری قوم متفق ہو۔

27 دسمبر کا یہ سانحہ دنیا کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتایہی وجہ ہے کہ ہر سال بی بی کی شہادت کی یاد بھرپور طریقے سے منائی جاتی ہے اور شہید بی بی کے جانثار اپنے لہو سے شمعیں روشن کرتے ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں
محترمہ کی شہادت کو ایک سیاہ باپ کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ اس سانحہ عظیم کے بعد سیاست میں خوفناک خلا پیدا ہوا جو 17 سال گزرنے کے بعد بھی پر نہ کیا جا سکا۔ نہ ہی ہم نے اس قومی نقصان سے کوئی سبق سیکھنے کی کوشش کی۔ اس دن کی مناسبت سے لکھاری حضرات کالم اور مضامین لکھ کر شہید بی بی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ کارساز پر خودکش حملے کے بعد اگر کوئی اور سیاستدان ہوتا تو اس نے ملک چھوڑ دینا تھا۔ لیکن وہ بینظیر بھٹو تھیں، بہادری کا درخشندہ ستارہ تھیں، جرات کا نشان تھیں۔ انہوں نے دہشت گردوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی رابطہ عوام مہم جاری رکھی۔ اور شہید ہو کر امر ہو گئیں وہ جانتی تھیں کہ موت کا ایک وقت اور مقام متعین ہے۔

اصل دکھ اس بات کا ہے کہ ان کی شہادت کے 17 سال بعد بھی ان کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے۔ حالانکہ ان کی شہادت کو لے کر وسیع پیمانے پر تحقیقات کی گئیں۔ قومی اداروں کے علاوہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی تحقیقات کیں مگر بی بی کے قاتل نامعلوم ہی رہے اور نہ ہی ان کے کیس میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔ ‏اللہ کریم محترمہ بے نظیر کو غریق رحمت کرے۔ ان کی شہادت سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے باعث غیر جمہوری رویہ رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ اور چند سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔شہید وزیراعظم کی سب سے بڑی خوبی ان کا عام پارٹی ورکرز کے ساتھ رابطہ رکھنا تھا۔ وہ ہر قومیت، رنگ و نسل کے کارکن کو ایک نظر سے دیکھتی تھیں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتیں۔ انہوں نے اپنے اور غریب پارٹی کارکن کے درمیان کسی کو بھی حائل نہیں ہونے دیا۔

اسی وجہ سے آج ملک کے کونے کونے سے لوگ جوق در جوق گڑھی خدا بخش پر واقع ان کے مزار کا رخ کرتے ہیں۔ میں آپ کو یہ بات بھی یاد کراتا چلوں کہ سانحہ کارساز میں قاتلانہ حملے میں بے شمار بے گناہ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، محترمہ نے ایسے تمام لاوارث شہداء جن کی باڈی شناخت کے قابل نہ تھی، انہیں بھٹو قرار دے کر گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں مدفون کرانے کے احکامات جاری کیے۔محترمہ بینظیر بھٹو شہید جیسی درد دل رکھنے والی خاتون کو پاکستان نے ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں احساس ہی نہیں ہے کہ ہم کتنا خسارہ اٹھا چکے ہیں۔

27 دسمبر کا دن اب ہمیشہ کے لیے کرب، دکھ اور غم کا دن بن گیا ہے کیونکہ اس دن جس پاپا کی پنکی کو موت کی نیند سلایا گیا تھا اس نہتی لڑکی نے بندوقوں والوں کو ڈرا دیا تھا، ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ڈرایا۔ یہی وجہ تھی کہ انہی بندوقوں والوں نے چھپ کر اس پر وار کیا کیونکہ وہ اس کی ہمت، حوصلے اور جذبے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ مگر بی بی کی سوچ کو وہ ختم نہ کر سکے کیونکہ آج بی بی میرے جیسے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہی کچھ حسن مجتبیٰ صاحب کی نظم کے ان ٹکڑوں میں کہا گیا ہے:

وہ لڑکی لال قلندر تھی
قریہ قریہ ماتم ہے اور بستی بستی آنسو ہیں
صحرا صحرا آنکھیں ہیں اور مقتل مقتل نعرہ ہے
وہ قوم کی بیٹی تھی
جو قتل ہوئی وہ خوشبو ہے
وہ عورت تھی یا جادو تھی
وہ مردہ ہوکر زندہ ہے
تم زندہ ہوکر مردہ ہو
وہ دکھی دیس کی کوئل تھی
وہ لڑکی لال قلندر تھی !
وہ لڑکی لال قلندر تھی
جو قریہ قریہ ماتم ہے
اور بستی بستی آنسو ہے
صحرا صحرا آنکھیں ہیں
اور مقتل مقتل نعرہ ہے
سنگ ستاروں کے لیکر
وہ چاند چمکتا نکلے گا
جو قتل ہوئی وہ خوشبو ہے
تم کتنا رستہ روکو گے
وہ اک ایسا جادو تھی
جو سر پر چڑہ کر بولے گی
ہر زنداں کے ہر مقفل کو
وہ چابی بن کر کھولے گی
شور ہواؤں کا بن کر
وہ آنگن آنگن ہولے گی
تم زندہ ہوکر مردہ ہو
وہ مردہ ہوکر زندہ ہے
’وہ دریا دیس سمندر تھی
جو تیرے میرے اندر تھی
وہ سوندھی مٹی سندھڑی کی
وہ لڑکی لال قلندر تھی.

تاریخ میں سانحات ہمیشہ عظیم کامیابیوں کے درپے رہے ہیں۔ بے نظیر کی موت نے جہاں اسے انمٹ کر دیا وہیں اس کا قتل تاعمر ہمارے دل میں کانٹے کی طرح چبھتا رہے گا۔ اس کی موت کا لمحہ اب ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ یاد رہے گا۔پاکستان کی عوام کو عظیم سیاسی رہنما سے محروم کردیا گیا۔ 27دسمبر کو دخترِ مشرق اور وفاق پاکستان کو قائم رکھنے کی آخری امید شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ان طاقتوں کی بربریت کا نشانہ بن کر رزق خاک ہوگئیں، جن کے نزدیک اس مملکتِ خداداد میں عوام کے حقوق کی بات کرنا گناہ ہے۔ پاکستان کی اس ذہین، نڈر اور بہادر خاتون نے آمریت کے سامنے سر نہ جھکایا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک اور عوام کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لئے امر رہے گا۔

اہلِ طاقت نے تجھے قتل کیا ہے لیکن
وقت نے تیری حمایت کی ہے
اور تاروزِ قیا مت تیرے
زندہ رہنے کی شہادت دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں