مصنف : ذوالفقار علی
محترم سیاسی اشرافیہ میں نے سنا ہے کہ میرا سودا کرنے کے بعد آپ ایک بار پھر میری لاش کو کندھے پر اٹھا کر کریا کریا گھوم رہے ہیں، یہاں تک میری لاش کے نام پر جنیوا بھی پہنچ گئے۔ لیکن آپ کو یاد نہیں ہے کہ آپ نے کئی سال پہلے میرے خون کا سودا کیا تھا۔ آپ نے میری لاش اس لئے نہیں اٹھائی ہے کہ آپ کو میری لاش سے کوئی ہمدردی ہے بلکہ آپ نے یہ لاش اس لئے کندھے پر دوبارہ اٹھا لی ہے تاکہ آپ اپنے مفادات کو تحفظ دے سکیں اور اپنے ہی لوگوں کی آواز کو دبا سکیں جن کے حقوق آپ نے میرے نام پر77 سالوں سے غصب کر رکھے ہیں۔ آپ کی نظر میں میں صرف ایک سیاسی ہتھیار ہوں، کینن فوڈر ہوں جسے آپ اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ میرا نام کیا ہے، میں کہاں دفن ہوں، اور مجھے کب اور کیسے شہید کیا گیا۔
آج میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں وہ ہوں جس نے آپ کے کل کے لیے، آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے، اور آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ میں وہ ہوں جس نے 10 لاکھ بھارتی فوج کو روکا، تاکہ آپ پر کوئی آنچ نہ آئے۔ میں نے اپنے جسم پر ہر زخم برداشت کیا، صرف اس لیے کہ آپ محفوظ رہیں۔میں وہی ہوں جس کی قربانی کے بدولت آپ آج لینڈ کروزر، مرسیڈیز، پراڈو اور فارچونرز میں سفر کرتے ہیں۔ آپ اسلام آباد کے محلوں میں رہتے ہیں، وہاں کی رونقوں اور ہنگاموں میں زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن آپ کی نظر میں، میں محض ایک عدد ہوں، جسے آپ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ نے بار بار یہ باور کرایا آپ نے ہمارا سودا کیا ہے ضرورت کے وقت ہماری لاش بھی کندھے پر اٹھالی۔ جب آپ نے اپنے ساتھی کی حکومت ختم کرنے کے لیے چار مہینے تک اسمبلی کا اجلاس جاری رکھا تو اُس وقت میری لاش آپ کو کیوں نظر نہیں آئی؟
وہ اس لئے نظر نہیں آئی کیونکہ آپ تو میری لاش کا سودا کر چکے تھے اور میری لاش کو نظر انداز کرنے میں ہی آپ کا فائدہ تھا۔ عین اس وقت وادی میں میرے پیاروں کے گھر مسمار ہو رہے تھے، میری مائیں، بہنیں، اور معصوم بچے بے گھر ہو رہے تھے۔ لیکن آپ کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود، آپ کو ان کی چیخیں سنائی نہیں دیں۔ ہزاروں میل دور امریکہ اور برطانیہ میں لوگ میرے پیاروں کے درد کو محسوس کر رہے تھے، یہاں تک کہ میرے قاتل ملک میں بھی ایسے بہت سارے لوگ تھے جو میرے اپنوں کے درد کو محسوس کر رہے تھے۔ لیکن آپ شاید واحد ایسے لوگ تھے جن کو اس درد کا کوئی احساس نہیں تھا۔ آپ نے اپنی آنکھیں، کان اور زبان بند رکھی۔ اس کا صاف مطلب تھا کہ آپ نے ہمارا سودا کیا ہے۔اس لمبے ترین اجلاس سے پہلے 10 دسمبر 2022 کو بہت سارے لوگ ہم سب شہیدوں کو یاد کیا، کیونکہ یہ انسانی حقوق کا عالمی دن تھا۔ لیکن آپ کی اسمبلی نے مجھ پر بات کرنے سے ہی انکار کیا۔ آپ کی خاموشی یہ چیخ چیخ کر بتاتی تھی کہ آپ نے ہم سب کا سودا کردیا ہے۔
اس درمیان آپ نے اپنی مراعات بڑھانے کی کوشش کی، لیکن عوام کی ردعمل کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب 5 اگست 2019 کو انڈیا نے میرے وطن کی خصوصی حیثیت ختم کی، میرے پیاروں کو بندوق کے نوک پر اپنے گھروں میں یرغمال بنایا، میرے وطن کے ٹکڑے ٹکڑے کیے، میرے پیاروں کی آواز چھین لی، ہزاروں کی تعداد میں میرے اپنوں کو اغوا کیا، میری ماؤں اور بہنوں کو انڈیا میں کھلے عام گالیاں دی گئیں، ان کو اپنے ہی گھروں میں ہراساں کیا گیا۔ میری اپنوں کی نسل کشی کا خطرہ تھا۔ پوری دنیا لرز اُٹھی، یہاں تک کہ انڈیا میں انسانیت پر یقین رکھنے والے لوگ بھی اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، حالانکہ ان کو جان کا خطرہ بھی تھا۔اس مرحلے پر آپ نے کہا کہ “ہم بے اختیار ہیں، ہم لوکل اتھارٹی ہیں، ہمارے منہ پر تالا ہے، ہم وادی کے لوگوں کے لیے بول ہی نہیں سکتے ہیں۔
” آپ نے اسوقت انیا کی اقدامات کو یہ کہ کر جائز قرار دیا کہ پاکستان نے گلگت میں 1974 میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز ختم کیے، لیکن کیا یہ موازنہ درست ہے؟ آپ کو اس وقت کس نے آواز اٹھانے سے روکا تھا؟ آپ نے اپنے مفادات کے لیے میرے پیاروں پر ہونے والے ظلم کو کیوں جائز ٹھہرایا؟آپ کی اسمبلی کے درجنوں اجلاسوں کے دوران میرے پیارے عذاب سہہتے رہے ، لیکن آپ نے میری لاش اور میرے پیاروں کی چیخوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ آپ کی یہ خاموشی، آپ کا رویہ اور آپ کے یہ بیانات چیخ چیخ کر بول رہے تھے کہ آپ نے ہمارا سودا کیا ہے۔ اس کے باوجود آپ نے اس وقت میری لاش ایک بار پھر اپنے کندھے پر اٹھا لی جب پاکستان کے وزرائےعظم مظفرآباد آئے اور آپ نے ان سے میری لاش کے نام پر مالی مدد مانگی۔میں ایک عدد لاش نہیں ہوں؛ میں ایک زندگی ہوں، ایک درد ہوں، ایک آواز ہوں۔ میرے پیارے تکلیف میں ہیں، آپ نے ہمارے خون کا، ہمارے پیاروں کے درد کا، ان کی تکلیفوں کا اور ان کی آنسوں کا سودا کیا ہے اور اس کا استحصال کیا ہے۔ ہم اللہ سے اس کی شکایت بھی نہیں کریں گے، کیوں کہ شکایت اپنوں کے بارے میں ہوتی ہے اور آپ سے بھی ہماری کوئی شکایت نہیں۔ آپ سے بس یہ درخواست ہے کہ آپ اب اپنے اقتدار کے لئے، اپنی مراعات کے لئے، اپنے عیش آرام کے لئے، اپنے لینڈ کروزرز اور مرسیڈیز کے لیے ہمارے خون کا استحصال نہ کریں، جو آپ پہلے ہی فروخت کر چکے ہیں۔
خیر خواہ
بے نام شہید