شیر دل تنویر الیاس

126

ازقلم: سردار طاہر سلطان
راولاکوٹ جسے ایک بین الاقوامی سیاح نے پرل ویلی کا نام دیا قدرتی اعتبار سے ایک منفرد ہل سٹیشن ہے جہاں کے لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں۔ اگر آپ راولاکوٹ کے سیاسی خدوخال پہ ماضی قریب یا ماضی بعید میں نظر دوڑائیں تو آپ کو مختلف زاویے نظر آئیں گے۔ محرم الحرام کے احترام میں جب 19 جولائی کو سردار تنویر الیاس خان کا اعلان کردہ جلسہ عام منسوخ ہوا اور نئی تاریخ 14 اگست دی گئی تو زبان زد عام یہ بات تھی کہ راولاکوٹ جیسے علاقے میں موجودہ حالات کے پیش نظر جلسہ کرنا نا ممکن بات ہے اس لئے سردار تنویر الیاس جلسہ منسوخ کر کے درحقیقت جلسے جیسی آزمائش میں نہیں پڑھنا چاہتے، لیکن جب انکے قریبی رفقاء سے اس بابت بات ہوئی تو وہ کافی پریشان دکھائی دیئے کہ سردار تنویر الیاس یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ 14 اگست کو راولاکوٹ جلسہ ہو گا لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ناکام رہا تو ہماری سیاسی ساکھ شدید متاثر ہو جائے گی۔

لیکن شیر دل سردار تنویر الیاس خان اپنی بات پہ قائم رہے تمام سیاسی کارکنان کو قائل کیا اور بالآخر بظاہر ایک ناممکن نظر آنے والا کام کر دکھایا اور 14 اگست 2024 کو چشم فلک نے دیکھا کہ راولاکوٹ صابر شہید سٹیڈیم میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی ہر طرف پاکستان زندہ باد ، کشمیر پائندہ باد و تیری آس میری آس تنویر الیاس تنویر الیاس کے نعروں سے پنڈال گونج رہا تھا۔ عوام یہ جان چکی ہے کہ سردار تنویر الیاس خان ہی وہ واحد لیڈر ہیں جو بغیر کسی لالچ کے خالص نظریاتی بنیادوں پہ سیاست اور عوام کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں اس لئے جب کبھی بھی کسی سیاسی سرگرمی کی کال سردار تنویر الیاس خان نے دی تو عوام نے انہیں مایوس نہیں کیا بلکہ ہر دفعہ پہلے سے بڑھ چڑھ کر اس میں شریک ہوئے۔ اگر یوں کہا جائے کہ موجودہ دور میں آزاد کشمیر کے اندر سردار تنویر الیاس خان ہی وہ واحد پرو پاکستان لیڈر ہیں جنہیں عوامی حمائت حاصل ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

عوام کہ بے پناہ انسیت اور اعتماد ہی سردار تنویر الیاس خان کو باقی  سیاستدانوں سے منفرد کرتا ہے اور مستقبل قریب میں آزاد کشمیر کی سیاست میں سردار تنویر الیاس خان کوئی بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ہم ہیں پاکستان” کا سلوگن اپنے اندر ایک پوری تاریخ رکھتا ہے، تمام تر سیاسی و سماجی مد و جذر کے باوجود اہلیان کشمیر کی پاکستان اور افواج پاکستان سے محبت و عقیدت کبھی بھی کم نہیں ہوئی، دشمن نے اندرونی و بیرونی طور پہ اس عظیم رشتے کو کمزور کرنے کے لیے ہر طرح کی چال چلی لیکن اللہ تعالی کے فضل سے ہر دفعہ اسے منہ کی کھانی پڑی،
سیّد علی شاہ گیلانیؒ نے مقبوضہ کشمیر میں نعرہ دیا ’’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘‘۔ جبکہ 19 جولائی 2023ء پونچھ ہیڈکوارٹر راولاکوٹ میں ہزاروں کے مجمع میں سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے ’’ہم ہیں پاکستان‘‘ کا نعرہ دیا۔

سردار تنویر الیاس جو کے کاروباری طور پر دنیا میں اپنا ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتے ہیں، جب سیاست میں حصہ لیا تو PTI کے پلیٹ فارم سے آزادکشمیر کی سیاست میں قدم رکھا۔ جو PTI دو سیٹوں پر تھی اُسی PTI کو 32 سیٹوں پر لے کر آئے۔ آزادکشمیر کی تاریخ میں واحد شخص جس نے سیاست میں حصہ لینے کے بعد انتہائی کم وقت اور کم عمری میں وزارت عظمیٰ حاصل کی، جبکہ آزادکشمیر کی سیاستدان جن کی ایک نسل سیاست کرتی ہے، دوسری نسل میں جاکر وزارت عظمیٰ حاصل کرتے ہیں۔ آج اگر یہ بات کہیں تو غلط نہ ہو گا کہ لاکھوں کے دلوں میں اس پار کے کشمیریوں ہوں یا اس پار کے کشمیری ’’ہم ہیں پاکستان‘‘ کا نعرہ اُن کے دلوں میں ہے۔ 14 اگست 2024ء کو صابر شہید اسٹیڈیم راولاکوٹ کے جلسے میں کشمیری عوام نے ہر گلی محلہ، شہر سے جوق در جوق شرکت کی اور ’’ہم ہیں پاکستان‘‘ کے ساتھ کھڑے رہے اور کھڑے رہیں گے۔ انشاء اللہ

13 اگست 2024ء کی رات کو راولاکوٹ کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی آتش بازی کی گئی اور پاکستان کا تاریخی پرچم کی رونمائی کی گئی اور کیک کاٹا گیا۔ پاکستانی پرچم جب کارکنوں نے سروں پر سجا کر پنڈال میں داخل ہوئے تو کارکنوں میں اس وقت جو جوش و جذبہ تھا وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ 14 اگست کو جب پنڈال میں کشمیریوں کے سلطان، کشمیر کی امید سردار تنویر الیاس کو چاہنے والوں کے قافلے اور آزادکشمیر کے کونے کونے سے راولاکوٹ پہنچنا شروع ہوئے تو اس وقت مخالفین کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں جو یہ سوچ رہے تھے کہ اتنا بڑا گرائونڈ بھرنا مشکل ہو گا۔ سردار تنویر الیاس کی تقریر کے دوران جگہ کم ہونے کی وجہ سے مین گیٹ سے عوام کی انٹری بند کر دی گئی تھی، مگر عوام نے گرائونڈ کے اردگرد بلڈنگوں سے ہو کر اپنے قائد کے ساتھ جلسے میں شرکت کو یقینی بنایا۔

آزادکشمیر میں جو لیڈر 70 سالوں سے نسل در نسل سیاست کرتے ہیں وہ 77 سالوں میں اتنا بڑا جلسہ نہ کر سکے اور نہ ہی آئندہ اتنا بڑا جلسہ کر سکتے ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان نے اپنی حکومت کے دوران سب سے بڑا کام بلدیاتی الیکشن جو ہمارے لیڈر 32 سالوں سے نہیں ہونے دے رہے تھے۔ مگر سردار تنویر الیاس خان نے اکیلے کھڑا رہا اور یہ کر دکھایا۔ سردار تنویر الیاس خان کو سازش کے تحت حکومت سے علیحدہ نہ کیا جاتا تو آنے والے پانچ سالوں میں آزادکشمیر کے تقدیر بدل دیتے۔ آنے والی نسل کو بہتر تعلیم دینے کے لئے اپنی مدد آپ آج بھی کام جاری ہے اور عوام کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کیلئے کوشش جاری ہے۔ سردار تنویر الیاس خان کا آزادکشمیر کی سیاست میں آنے سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں