صحافی انصر صدیق کے استغاثہ پر سینئر سول جج مظفر آباد نے وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی کو طلب کر لیا

144

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز، بیورورپورٹ) وائس چانسلر جامعہ کشمیر سردار کلیم عباسی کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے خلاف سینیئر سول جج کی عدالت میں استغاثہ دائر، 31اگست کو سینئر سول جج نے وائس چانسلر جامعہ کشمیر داکٹر کلیم عباسی کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا ہے.

 

استغاثہ مظفرآباد کے صحافی انصر صدیق خواجہ کی مدعیت میں دائر کر رکھا ہے، استغاثہ دائر کرنے کے بعد مظفرآباد کے سینئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ کلیم عباسی کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے مسلسل اقدامات کئے جارہے ہیں جو کہ کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے. صحافی قانون کا احترام کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عدالت سے رجوع کیا ہے۔یاد رہے کہ جامعہ آزادکشمیر مظفرآباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی نے صحافی انصر صدیق کو ایک آرٹیکل لکھنے اور شائع کرنے پر نوٹس بھجوایا تھا جبکہ جامعہ کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی تھی

 

جس میں صحافی کے بارے میں نا مناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا. انصر صدیق نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ جہلم ویلی کیمپس کے سینئر کلرک شہزاد سلطان کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔کلرک پر یہ الزام تھا کہ اس نے یونیورسٹی ایمپلائز”ای اینڈ ڈی“ سٹیچوٹس کے قاعدہ 3کی لاپروائی مس کنڈکٹ اور جامعہ کے خلاف منفی سرگرمیوں میں ملوث اور غیر متعلقہ افراد کو دفتری راز افشاں کرنے کے اعتراف میں، وائس چانسلر نے ذاتی طور پر سماعت کرنے کے بعد اپنے آفس چیمبر میں سزا کا حکم سناتے ہوئے نوکری سے فارغ کر دیا ۔ جامعہ کشمیر نے اپنے رولز ضابطے کی کارروائی کو مکمل کرتے ہوئے ایک کلرک کے خلاف کارروائی کی اور اسے نوکری سے ایسے فارغ کیا گیا اب وہ بیچارہ کسی بھی دیگر سرکاری محکمے یا یونیورسٹی میں ملازمت کرنے کے قابل نہیں رہا۔جامعہ کشمیر کے موجودہ وائس چانسلر خود ایک متنازعہ ہیں ماضی میں ان پر سنگین الزامات لگے حتیٰ کہ طلباء کا ڈیٹا چوری کرنے کا بھی سنگین الزام لگا

 

 

اگر ایسا الزام کسی ترقی یافتہ ملک کے تعلیمی سربراہ پر لگتا وہ نہ صرف از خود مستعفی ہوتا بلکہ شاہد اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہمارے ہاں الزامات کی زد میں آنے والے موجودہ وائس چانسلر کو اپنی تین سالہ مدت پوری کرنے کے بعد مزید جامعہ کشمیر کا چار سال تک کے لیے وائس چانسلر تعینات کر کے انعام دیا گیا۔اس کارخیر میں حصہ ڈالنے والے سابق وزیراعظم اور سابق صدر اپنے آپ کو بڑے، بااصول، دیانت دار خوداد، کہلانے کے دعویٰ دار ہیں۔نوکری سے نکالے گئے کلرک پر الزام ہے کہ اس نے دفتری راز کسی کو بتا دیئے ہمارا وائس چانسلر سے یہ سوال ہے،جواب کے منتظر رہیں گے،کیا جامعہ کشمیر اسی وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور آپ کے زیر سایہ اس کو دیوالیہ کرنے والے شعبہ فنانس کے ملازمین کیخلاف بھی اسی طرح کی کارروائی ہو گی جو اس وقت کروڑ پتی بن چکے ہیں کیا ہائیر ایجوکیشن کے دیئے گئے 40کروڑ کے مختلف منصوبوں میں صرف سیکرٹری پراجیکٹ کمیٹی ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس نے کروڑوں روپے ٹھیکیداروں سے نہیں بٹورے اور اپنے من پسند ٹھیکیدار کو قبل از وقت ، دستاویزات،پراجیکٹ کے لیے مختص کردہ رقم اور مطلوب ریٹ بھیج کر اپنا حصہ وصول نہیں کیا؟کیا اس آفیسر کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کریں گے جنہوں نے ایشین ٹریڈنگ پشاور سے کنگ عبداللہ کیمپس چھتر کلاس کے لیے جو فرنیچر خریدا اس میں لاکھوں روپے کی رشوت وصول کی جس کے ناقابل ترید ثبوت بھی موجود ہیں۔خریدا گیا فرنیچر آج کہاں ہے کہ اس قدر ناقص فرنیچر 8ماہ کے اندر بوسیدہ ہو گیاتو کاررواٸ بنتی ہے یا نہیں؟پرچیز کمیٹی کے ایک آفیسر نے اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقے قری روڈ پر تین منزلہ کوٹھی بنانے کے ساتھ ساتھ ایک اور پلاٹ بھی لیا۔کیا اس آفیسر کیخلاف بھی ایسی ہی کارروائی ہو گی جو اس کلرک کیساتھ ہوئی؟کیا من پسند جونیئر مخصوص برادری علاقے سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں آفیسران اساتذہ کو خلاف ضابطہ ترقیاں دے کر حق دار کی حق تلفی نہیں کی گئی مظلوم کا حق کھانے والے ظالم کے خلاف بھی کوئی کارروائی متوقع ہے؟

 

کیا جامعہ کشمیر اس وقت مخصوص برادری علاقے کی آماجگاہ نہیں اور سب سے بڑے تعلیمی ادارے کو برادری علاقائی ازم کے نام پر تقسیم کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی ہو گی؟ انصر صدیق کے انہی سوالات پر انہیں نوٹس بھیجا گیا اور انکے مطابق انہیں مختلف طریقوں سے حراساں بھی کیا جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں