تحریر:نعیم الحسن نعیم
تنخواہ والے دن دفتر میں کام کرنے والے بابو کو جب تنخواہ ملی تو وہ اپنی تنخواہ وصول کرنے کے بعد دفتر سے چھٹی کرکے نکلا اور گھر جانے کے لیے مسافروں سے بھری بس میں سوار ہوگیا۔ اسی بس میں ایک جیب کترا تھا جس نے اس کی جیب مار کر ساری تنخواہ اڑا لی۔جب بس کنڈیکٹر نے ٹکٹ کے لیے پیسوں کا پوچھا تو بابو نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب کو خالی پاکر اس شریف شخص کا چہرہ ندامت کے مارے سرخ ہو گیا اور زبان لڑکھڑانے لگی۔بس کنڈیکٹر نے اسے طنزیہ انداز میں کہا” بلا ٹکٹ سفر کرنے پر تمھیں شرم آنی چاہیے ،ظاہری حلیے سے دیکھنے میں تو تم معزز شخص لگتے ہو، مگر تمھاری جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے”۔
جیب کترا جو پاس ہی کھڑا تھا، اس نے کنڈیکٹر کے کندھے پر ہاتھ مارا اور کنڈیکٹر سے کہا” میرے بھائی، اس شریف شخص کا تمسخر اڑانا بند کرو، اس کے ٹکٹ کی قیمت میں ادا کروں گا”۔
یہ سن کر بابو نے خدا کا شکر ادا کیا اور مسکرا کر جیب کترے سے کہا؛ “خدا آپ کو خوش رکھے اور آپ جیسے لوگوں کے کاروبار میں خوب ترقی دے ،کیونکہ آپ جیسے ہی معاشرے کے حقیقی ہمدرد لوگ ہیں جو مصیبت میں مبتلا لوگوں کا خیال رکھتے ہیں.کسی اجنبی پر مہربانی کا یہ منظر دیکھ کر بس کے مسافر بھی اس چور کے اعلیٰ اخلاق کی تعریف کرنے کے ساتھ اُس کے لیے دعا کرنے لگے، کہ خُدا اس مہربان شخص کے کاروبار میں برکت عطا فرمائے اور اُس جیسے لوگوں کا معاشرے میں اضافہ ہو۔آج کل ہم اپنے اردگرد ہر جگہ جتنے بھی چور اچکے دیکھتے ہیں یہ سب ہماری لاعلمی میں کی گئی دعاؤں کا نتیجہ ہیں ،کیونکہ اس کے بعد سے چوروں کی تعداد میں خوب اضافہ ہوا ،اور اب وہ چوری بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہم سے شکریہ اور تعریف بھی وصول کرتے ہیں۔
چور ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں اور ہم ابھی تک بس میں کھڑے لٹ رہے ہیں اور چوروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ،ان کی ترقی کے لیے دل سے دعائیں بھی مانگ رہے ہیں!! ہم بحثیت پاکستانی کرپٹ قوم ہیں کوئی سرکاری محکمہ ایسا ہے جہاں کرپشن نہ ہو ؟؟ کوئی سرکاری ملازم ہے جو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرتا ہو ملنا مشکل ہے کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں رشوت کا دور دورہ نہ سب سے زیادہ کرہٹ افسر شاہی ہے جو سیاستدانوں سے بھی زیادہ کرپٹ ہے صنعت کار ہیں تو بھی بے ایمانی میں اپنی مثال آپ ہیں تاجر بنکار دکاندار ذخیرہ اندوزی کرنے والے بار بار حج کرنے والے الحاج کہلوانے والے ناجیز منافع خور ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو جتنا بڑا کرپٹ ہے اتنا بڑا معزز ہے اس کرپشن زدہ معاشرے میں ہر بندہ سوتے وقت بے بے ایمانی کا جال بنتا ہے اور دوسروں کے عیب نکالنے کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے اپنے اندر کے بدبودار ماحول کو صاف کرنے کا اسے خیال نہیں آتا پورے کا پورا نظام سلطنت جھوٹ مکر دکھاوے کے گرد گھوم رہا ہے.
جس معاشرے کا ملاں ذاکر وعظ کرنے والا واعظ خطاب کرنے والے خطیب ادب پڑھانے والا ادیب شاعر استاد مثبت سوچ سے عاری ہوں تو معاشرہ کب اصلاح کی طرف مائل ہو گا یہاں آپ میں یہ وہ سب کرپشن زدہ ماحول کا حصہ ہیں اپنے حصے اور اختیار کے مطابق کرپشن کر رہے ہیں اور الزام دوسرے پہ لگا رہے ہیں اور خود کو معاشرے کا بہترین فرد ثابت کر رہیں حالانکہ بد کرداری میں سب سے آگے ہیں اسلامی تعلیمات کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے اور حصول جنت کے لیے کسی پیکج کی تلاش میں ہیں. 77 سالوں سے سنتے آ رہے ہیں وزیر چور ہے وزیراعظم چور ہے. آئیے اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کیا صرف وزیر اعظم ہی چور ہے. انتہائی معذرت کے ساتھ.
کروڑوں کے بجٹ میں غبن کر کے دس لاکھ کی سڑک بنانے والا ممبر اسمبلی
لاکهوں کا غبن کر کے دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والا جابر ٹھیکیدار
ہزاروں کا غبن کر کے چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش ممبر صاحب
مسجد کے ممبر پر بیٹها ہوا بے عمل مولوی
غلہ اگانے کے لیے بهاری بهر کم سود پر قرض دینے والا ظالم چودهری صاحب اور وڈیرا سائیں
زمین کے حساب کتاب و پیمائش میں کمی بیشی کر کے اپنے بیٹے کو حرام مال کا مالک بنانے والا پٹورای
کم ناپ تول کر دوسروں کا حق کم کر کے پورا پیسہ لینے والا دکاندار
خالص گوشت کے پیسے وصول کر کہ ہڈیاں بهی ساتھ تول دینے والا قصائی
خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی پاوڈر کی ملاوٹ کرنے والا گوالا
500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکھنے والا میٹر ریڈر
چائے کی پتی میں رنگ ملانے والا چائے فروش
گاڑی کے اصلی پرزے نکال کر دو نمبر لگانے والا مستری
100 روپے کی رشوت لینے والا عام معمولی سا سپاہی
بے گناہ کے FIR میں دو مزید ہیروئین کی پڑیاں لکھنے والا انصاف پسند اور ہر دلعزیز ایس ایچ او
معمولی سی رقم کے لیے سچ کو جهوٹ اور جهوٹ کو سچ ثابت کرنے والا وکیل
گهر میں رہ کر اسکول میں حاضری لگوا کر حکومت سے تنخواہ لینے والا مستقبل کی نسل کا معمار استاد
سو روپے کے سودے میں دس روپے غائب کر دینے والا بچہ
آفیسر کے لیے رشوت لے جانے والا معمولی سا چپڑاسی
کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میں میچ فکسنگ کر کے ملک کا نام بدنام کرنے والا کھلاڑی
دشمن ملک میں شہرت اور دولت کی خاطر ملک کی عزت خاک میں ملانے والا اداکار اور گلوکار
ماں باپ کی عزت نیلام کر کے کئی لڑکوں کے ساتھ تعلقات رکهنے والی بیٹی
ساری رات ننگا ناچ اور فحش فلمیں دیکھ کر فجر کو اللہ اکبر سنتے ہی سونے والا نوجوان اوراپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی سب مل کر کہہ رہے ہیں وزیر اعظم چور ہے.
یقیناً ہو گا لیکنکہیں ہم سب خود میں ایک پانامہ کیس تو نہیں کہیں لم سب خود توشہ خانہ کیس تو نہیں کہیں ہم سب چور تو نہیں کیا بحثیت قوم ہم سب چور اور کرپٹ تو نہیں ہیں؟بلا شبہ ہم کرپٹ قوم ہیں .ہمیں کرپشن پر کوئی مجبور کرتا ہے یا فطرتاً ہم کرپٹ ہیں. قوم کی خدمت کرنے والا وہ ڈاکٹر بھی چور ہے جو سرکاری ہسپتال میں مریض سے تلخ مزاجی سے اور ذاتی کلینک میں خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔جو اپنے کمیشن کے لیے مخصوص کمپنیوں کی دوائیاں اور غیر ضروری اور مہنگے ٹیسٹ لکھتا ہے.قوم سے ہجوم بننےکے بعد ہمارے معاشرے کا حال دیکھ کر فیصلہ کریں کہ صرف وزیر اعظم ہی چور کیوں.
تھانہ:ہمارے تھانے رشوت کا گڑھ ہیں.مگر وہاں لکھا ہوتاہےرشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں.
کچہری:ہماری کچہری میں سو روپے میں گواہ مل جاتا ہے مگر وہاں لکھا ہوتا ہے جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے.
عدالت:ہماری عدالتوں میں انصاف نیلام ہوتاھے مگر وہاں لکھا ہوتاھے.لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرو.
درسگاہ:ہماری درسگاہیں جہالت بیچتی ہیں.مگر وہاں لکھا ہوتاھے علم حاصل کرو
ماں کی گود سےلیکر قبر تک
ہسپتالہمارے اسپتال موت بانٹتےہیں.مگر وہاں لکھا ہوتاھے
جس نے ایک زندگی بچائی اس نے گویا سارے انسانیت کو بچایا
بازار:ہمارے بازاروں میں جھوٹ
خیانت ملاوٹ عام ہے.مگر وہاں لکھا ہوتاھے.جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں.
مسجد:ہماری مسجدیں ذاتی پراپرٹی اور فرقہ پرستی کی آماجگاہ ہیں. مگر وہاں لکھا ہوتاھے. مسجدیں اللّٰہ کا گھر ہیں.
اگر ہمارا عقیدہ ہمارے عمل کےخلاف ہو تو اسکو منافقت کہتے ھیں منافقوں کا ٹھکانہ جہنم میں سب سے نیچے ہے.تو دنیا میں مقام سب سے اونچا کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم سب کو اس تحریر کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے دنیا میں ایمانداری کی فہرست میں ہم اپنا مسلمان ملک ترتیب کے لحاظ سے تلاش کریں تو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں پٹرول پمپ کے مالک نے پٹرول پمپ پر قرآن مجید کی آیت لکھوائی” واللہ خیر الرازقین”اسسٹنٹ کمشنر نے پٹرول پمپ پر پیمانہ چیک کیا تو پیمانہ 20 فیصد کم تھا۔مطلب آپ 100 لیٹر تیل اس مسلمان کے پمپ سے ڈلوانیں جائیں تو آپ کو 80 لیٹر ملتا ہے۔ جبکہ اس کا مکمل ایمان اس آیت پر ہے جس کا ترجمہ ہے کہ اللہ بہترین رزق دینے والا ہے .
پھر ان صاحب کے نزدیک بھی صرف سیاستدان ہی چور ہیں۔رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں سستی چیزیں مہنگے داموں بیچ کر عمرے اور حج پہ جانے والا دوکاندار بھی چور ہے. ایک منشیات فروش کو پیسوں کے عوض عدالتوں سے ضمانت لے کر دینے والا وکیل بھی چور ہے.میٹر ریڈر جو ریڈینگ دیکھے بغیر بل دیتا ہے وہ بھی چور ہے.سرکاری دفاتر میں ایک درخواست پہ افسر سے دستخط کے بدلے رشوت لینے والا سرکاری ملازم بھی چور ہے. بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دے کر لوگوں سے دھوکا اور فراڈ کر پیسے لینے والا ایجنٹ بھی چور ہے. وہ امیر لوگ بھی چور ہیں جو زکوٰۃ و صدقات دینے میں بھی کرپشن کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ اپ میری تجزے اور انکھوں دیکھا حال سے اتفاق نہ کریں اور نہ ہی اپ کا اتفاق کرنا ضروری ہے ۔یہ میرا تجزیہ اور میرے دل کا حال ہے۔ملک سے معاشرے سے گندگی کرپشن چوری تب ختم ہو گی جب ہم اس کی ابتدا خود سے کریں نہ کہ دوسروں پہ الزام تراشی سے دشنام بازی سے کرپشن کے خلاف جنگ اپنی ذات سے شروع کرنی ہوگی اللہ پاک ہم کو ہدایت عطا فرمائے.