ظلم کی انتہا اور انصاف کی جستجو

110

نقطہ نظر/ثمینہ چوہدری
سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے معاشرے میں گھریلو تشدد اور پدرشاہی رویوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ کے گاؤں کوٹ منڈ کی رہائشی 26 سالہ زہرہ کی شادی کوٹلی مرلاں کے قدیر سے چار سال قبل ہوئی تھی جبکہ شوہر قدیر ملازمت کے سلسلے میں بیرون ملک مقیم ہے۔ زہرہ نو ماہ کی حاملہ تھیں اور ایک دو سالہ بچے کی ماں بھی، کو ان کی ساس، نندوں، اور دیگر رشتہ داروں نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے نالے میں پھینک دیے گئے۔

معمول سے انحراف اور شک کی ابتدا
زہرہ قدیر، جو روزانہ اپنے والد اور سعودی عرب میں مقیم شوہر سے رابطے میں رہتی تھیں، دس نومبر کی صبح سے ان کے فون کا کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کے والد، شبیر احمد، جو پنجاب پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہیں، بیٹی کی خیریت معلوم کرنے سسرال پہنچے، تو وہاں انہیں بتایا گیا کہ زہرہ زیورات اور رقم لے کر گھر سے بھاگ گئی ہیں۔شبیر احمد کی چھٹی حس نے فوراً خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ گھر کے اندر کا غیرمعمولی سکون، زہرہ کے بچے کی موجودگی، اور گھر کی حد سے زیادہ صفائی نے ان کے شکوک کو بڑھا دیا۔ فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی اور اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا گیا۔

قتل کی ہولناک حقیقت

پولیس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ صغریٰ بی بی زارا کی خالہ بھی تھی اور چا رسال قبل اپنے بیٹے قدیر سے شادی کروائی تھی، زہرہ کی ساس، صغریٰ بی بی، اور دو نندوں نے مل کر یہ سفاک جرم انجام دیا۔ اعترافی بیان کے مطابق، زہرہ کو رات کے وقت سوتے ہوئے دبوچ کر ان کا دم گھونٹا گیا اور پھر ان کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے۔لاش کے بازو ٹانگیں کاٹ کر الگ کیں اور شناخت چھپانے کے لیے سر کو تن سے جدا کرکے چولہے پر جلایا گیا اور قتل کی منصوبہ بندی میں خاندان کے دیگر افراد بھی شامل تھے۔

لاش کے ٹکڑوں کو دو بوریوں اور شاپنگ بیگز میں بند کیا گیا اور رات ہونے پر ساس صغراں بی بی نواسے عبداللہ کی موٹرسائیکل پر لاد کر نالے اور مختلف جگہوں پر پھینک آئی اور زہرا کے بارے میں آشنا کے ساتھ بھاگ جانے کی افواہیں پھیلائیں۔
لاش کے ٹکڑوں کو شناخت سے بچانے کے لیے دو بوریوں اور پھینکا گیا۔

جرم کا سبب: جادو اور پدرشاہی رویے
زہرہ قدیر کی ساس کا دعویٰ تھا کہ زہرہ نے ان کے بیٹے پر جادو کر دیا ہے، جس کے باعث وہ اپنی بیوی کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے اور انہیں مالی معاونت بھی فراہم کرتے تھے۔ یہ بات صغریٰ بی بی اور ان کی بیٹیوں کو ناقابل قبول تھی۔ زہرہ کے دوبارہ حاملہ ہونے نے ان کے خدشات کو مزید بڑھا دیا، اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ زہرہ کو راستے سے ہٹانا ہی بہتر ہے۔

لاش کی تلاش اور عوامی ردعمل
ریسکیو اہلکاروں نے دن رات کی کوششوں کے بعد لاش کے ٹکڑوں کو تلاش کیا۔ اس واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ زہرہ کے والد، شبیر احمد، نے کہا:”ملزمان کو میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔ میری بیٹی میری سب کچھ تھی۔”

انصاف کی جدوجہد اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
تینوں ملزموں کو موترہ پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ڈی پی او سیالکوٹ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ تحقیقات دو دن میں مکمل کرکے قتل کاسراغ لگایا، قتل میں ملوث مرکزی ملزماں صغرٰی بی بی اس کی بیٹی سمیت بیٹی کا بیٹا عبداللہ اور ایک رشتے دار نوید کو گرفتار کیا ہے۔ڈی پی او سیالکوٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مرکزی ملزمان صغریٰ بی بی نے نوید کو قتل کیلئے لاہور سے بلوایا تھا اور 10 ہزار روپے دیے، نوید صغراں کا لے پالک بیٹا ہے۔

ڈی پی او کا کہنا تھا کہ نوید کے لاہور پہنچنے پر صغراں بی بی اور نوید چھری خریدنے گئے اور جب زارا سو رہی تھی
تو صغراں بی بی نے منہ پر تکیہ رکھا ، اس کی بیٹی نے پاوں پکڑے اور نوید نے قتل کیا۔دوران تفتیش گرفتار دونوں خواتین نے قتل اور عبداللہ نے لاش نہرمیں پھینکنے کا اعتراف کرلیا ہے۔قانونی کارروائی کے تحت قتل اور جرم چھپانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پاکستان میں گھریلو تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان
زہرہ قدیر کا قتل گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ پاکستان میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں، مگر ان کا نفاذ اور شعور کی کمی ان واقعات کی روک تھام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت
زہرہ کا کیس صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ پورے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین کے مؤثر نفاذ، عوامی شعور کی بیداری، اور پدرشاہی رویوں کے خاتمے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔یہ کہانی ایک مظلوم بیٹی،ماں اور بیوی کی ہے جو انصاف کی منتظر ہے اور ایک ایسی آواز ہے جو گھریلو تشدد کے شکار افراد کے لیے امید بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں