تحریر:نعیم الحسن نعیم
یکم مئی
عالمی یومِ مزدور
حکم حق ہے “لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى”
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار
(بانگِ درا)
یوم مزدور: تاریخ کا اہم دن خود تاریخ ہوتا جا رہا ہے.یوم مزدوراں یوم مئی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یوم مزدور دنیا بھر میں ان محنت کش طبقے کی حوصلہ افزائی کے لئے چھٹی کے طور پر منایا جاتا ہے جو ہر روز کام کو آسانی سے چلانے کے لئے کام کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے 80 سے زیادہ ممالک میں عام تعطیل کے طور پر یادکے طورپرمنایاجاتاہے، یوم مزدور، مزدور تحریک کی کامیابی اور جدوجہد کی یاد کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ اس تعطیل کی کا آغاز انیسویں صدی کے شروع جب مزدوروں نے امریکہ کی طاقت، خوشحالی اور فلاح و بہبود میں کارکنوں کے بہت سے تعاون کو تسلیم کرنے کے لئے ایک وفاقی تعطیل پر زور دیا۔ انہوں نے خراب حالات کے خلاف احتجاج کرنے اور آجروں کو اوقات کار اور تنخواہوں پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر مجبور کرنے کے لئے ہڑتالیں اور ریلیاں منظم کرنا شروع کر دیں۔ یوم مزدور، مزدوروں کی کامیابیوں کو منانے کے لئے سالانہ تعطیل ہے۔ لیبر ڈے کی ابتدا مزدور یونین کی تحریک سے ہوئی ہے اور اس تحریک نے مزدوروں کے عالمی دن کی بنیاد رکھی، دوسرے ممالک کے لئے، یوم مزدور ایک مختلف تاریخ کو منایا جاتا ہے،یوم مزدور کے دن کئی ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ یوم مزدور، ریاستہائے متحدہ اور کینیڈا میں، چھٹی (ستمبر میں پہلا پیر) کارکنوں کی عزت اور معاشرے میں ان کے تعاون کو تسلیم کرنے کے لئے دی جاتی ہے۔ بہت سے دوسرے ممالک میں یوم مئی اسی طرح کا مقصد پورا کرتا ہے۔
.
1884ء میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کیخلاف اٹھنے والی آواز‘اپنا پسینہ بہانے والی طاقت کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر ان جاں نثاروں کی قربانیوں نے محنت کشوں کی توانائیوں کو ایسی تقویت بخشی کہ آج بھی انکی جدوجہد کو ہر سال عالمی سطح پر یاد کیا جاتا ہے۔ مزدوروں کا عالمی دن کار خانوں، کھیتوں، کھلیانوں، کانوں اور دیگر کار گاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے۔ مقامِ افسوس یہ ہے کہ عالمی سطح پر مزدوروں کا یہ دن بڑے اہتمام کے ساتھ منا کر انکے ساتھ یکجہتی کا اظہار تو کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ طبقہ آج بھی سرمایہ داری نظام کے زیرتسلط بری طرح پس رہا ہے جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ موجودہ مہنگائی سے عام آدمی تو متاثر ہوا ہی ہے جبکہ مزدور طبقہ تو عملاً زندہ درگور ہو چکا ہے۔ روزانہ بارہ سے 14 گھنٹے کام کرنے والے مزدور کو اتنی اجرت بھی نہیں ملتی جس سے وہ اپنے گھر کی کفالت کرسکے یہی وجہ ہے کہ اس طبقہ میں خودکشی کا رجحان عام ہے۔ عالمی سطح پر مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا دن منا کر فرض پورا نہیں ہو جاتا اور نہ ہی حکومتوں کو کاغذی کارروائیوں میں انکی اجرت بڑھا کر مطمئن ہوجانا چاہیے۔ مزدور ایک قابل رحم طبقہ ہے‘ مہنگائی کے تناسب سے ہی انکی اجرت مقرر ہونی چاہیے اور انکے حالات بہتر بنانے کیلئے مروجہ قوانین پر سختی سے عملدرامد کیا جائے‘ تب ہی انکے ساتھ یکجہتی کے تقاضے پورے ہوسکیں گے۔
اسلام میں مزدوروں کے بہت سے حقوق ہیں جنھیں اسلام نے انتہائی اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے، مزدور ہی اس قوم کا اثاثہ ہیں جو روزانہ کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے، کسی بھی ملک، قوم اورمعاشرے کی ترقی میں مزدور وںکا کردار بہت اہم ہوتا ہے، مگر سب سے زیادہ حق تلفی بھی انہی کی کی جاتی ہے ۔سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے مزدور کا استحصال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور مزدور اسے اپنا مقدر سمجھ کر صبر کر لیتے ہیں ۔ ہمارے سماج میں مزدوروں کا وجود ہے، جسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے.مزدوری ہر کوئی کرتا ہے، مگر سب کے درجات الگ ہوتے ہیں۔ ہر مزدور اپنے میدان میں اپنی بساط بھر مزدوری کرتا ہے اور اجرت حاصل کر کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کرتا ہے۔ اسلام نے محنت کو بڑا مقام عطا کیا ہے اور محنت شخص کی بڑی حوصلہ افزائی کی ہے، نبی کریم ﷺنے فرمایا خود کمانے والا اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے (طبرانی ) یہ فرما کر محنت کی قدرو قیمت اجاگر فرما دی ۔
نبی دو جہاں محمد مصطفی ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا (صحیح البخاری) آپﷺ کو مزدوروں کے حقوق کا اس حد تک پاس تھا کہ وصال سے قبل آپﷺ نے اپنی امت کے لیے جو آخری وصیت فرمائی وہ یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھو اور ان لوگوں کا بھی جو تمہارے زیر دست ہیں (مسنداحمد، ابو داؤد) آپ ﷺ نے مزید فرمایا ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوںگا۔ ان میں سے ایک وہ ہو گا جس نے کسی سے کام کروایا۔
آج حکومت کے تمام تر دعوﺅں کے باوجود معیشت میں بہتری آنے کی بجائے صورت حال ابتر ہوئی ہے۔ بجلی گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کارخانے اور صنعتی یونٹ شدید دباﺅ کا شکار ہیں۔ ہزاروں مزدوروں کی بے روز گاری کے اثرات لاکھوں افراد پر پڑ رہے ہیں ۔ محنت کش طبقہ خوفناک معاشی دباﺅ کا شکار ہے جس نے ان کی زندگی کو سزا بنا کر رکھ دیا ہے۔ آٹے کے حصول کے لئے قطار میں کھڑے لوگ پولیس کے ڈنڈے کھا رہے ہیں اور مایوسی کے عالم میں خود کشیاںکر رہے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس رسمی بیانات اور پرکشش وعدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی صورت حال کی اس سنگینی کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کے لئے تیار ہیں۔یومِ مزدور پہ بنک بند،سکول بند، دفاتر بند ہوں گے.مگر جن کے نام پر یہ دن منایا جاتا ہے.وہ اُس دن بھی مزدوری میں مصروف ہوں گے۔نہ اُنہیں آرام کا موقع ملتا ہے،نہ کوئی سہارا، نہ ستائش کا حق ادا کیا جاتا ہے..بس روزی روٹی کی جدوجہد،اور زندگی کی سختیاں۔آئیے اس بار صرف جلسے جلوس اور پروگرام نہ کریں یوم مزدور کی چھٹی پہ سیر تفریح کو انجوائے نہ کریں بلکہ،کسی ایک مزدور کے لیے ایک آسانی کا سبب بنیں.ایک پانی کی بوتل، ایک کھانے کا ڈبہ،یا صرف عزت سے بات ہی سہی۔سلام اُن ہاتھوں کو،جو ہمارے گھروں، سڑکوں اور خوابوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔
یومِ مزدور صرف ایک دن نہیں،
یہ ہر دن اُن کا حق ہے۔
ہاتھ پاؤں یہ بتاتے ہیں کہ مزدور ہو میں
اور ملبوس بھی کہتا ہے کہ مجبور ہوں میں
فخر کرتا ہو کہ کھاتا ہو فقط رزق حلال
اپنے اس وصف قلندر پہ تو مغرور ہوں میں
سال تو سارا ہی گمنامی میں کٹ جاتا ہے
بس “یکم مئی “ کو لگتا ہے کہ مشہور ہوں میں
بات سنتا نہیں میری کوئی ایونواں میں سب کے منشور میں گو “صاحب منشور “ہو میں
اپنے بچوں کو بچاسکتا نہیں قانون ان کو تعلیم دلانے سے بھی معذور ہوں میں
پیٹ بھر دیتا ہے حاکم مرا تقریروں سے اس کی اس طفل تسلی پہ تو رنجور ہوں میں
یوم مزدور ہے ،چھٹی ہے ،میرا فاقہ ہے
پھر بھی یہ دن تو مناؤں گا کہ مزدور ہوں میں