عظیم پاکستان، عظیم وزیراعظم، عظیم فیلڈ مارشل

25

تحریر: منیر احمد قادری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں اگر آج کے پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی بساط پر ایک باوقار، فعال اور بااثر ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہی معروضی حقائق کی بنیاد پر یہ کہنا قرینِ انصاف ہے کہ “عظیم پاکستان، عظیم وزیراعظم، عظیم فیلڈ مارشل” محض ایک عنوان نہیں بلکہ موجودہ قومی کارکردگی کی حقیقی عکاسی ہے، جس کا تصور کرنا محض ایک سال قبل ایک دیوانے کا خواب محسوس ہوتا تھا۔آپریشن “بنیان مرصوص” کی شاندار کامیابی نے نہ صرف ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی تسلیم کروایا۔ اس کامیابی کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی دفاعی اور عسکری قیادت کو غیر معمولی پذیرائی ملی، جو قومی وقار میں اضافے کا باعث بنی۔

ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی، عارضی جنگ بندی، اسلام آباد میں امن مذاکرات کا پہلا دور، لبنان میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، اور امریکی صدر کی جانب سے ایران کا شکریہ، امریکا کی جانب سے 20ارب ڈالر کےمنجمد ایرانی اثاثےبحال کر نے کو تیار۔ یہ تمام پیش رفت خطے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان کی متوازن، ذمہ دار اور فعال سفارتکاری نے نہ صرف کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا بلکہ پائیدار امن کے لیے کوششوں کے ذریعے عالمی برادری میں اپنی ساکھ کو بھی مستحکم کیا۔وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت اس پورے عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے حالیہ دورے اور عالمی رہنماؤں سے مسلسل روابط محض رسمی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک مربوط سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ تھے.

جن کے ذریعے پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے پیغام کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ بالخصوص ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقدہ ڈپلومیسی فورم کے سائیڈ لائن پر عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتیں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستان آج عالمی فیصلوں میں ایک سنجیدہ اور مؤثر ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران خطے میں توازن اور اعتماد کی بحالی کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا، جس میں ممکنہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے جزوی تفصیلات طے کرنا بھی شامل تھا۔ عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ بصیرت اور سفارتی ہم آہنگی نے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنایا بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار میں بھی اضافہ کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی متحرک اور نتیجہ خیز سفارتکاری بھی اس پورے عمل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ان کی جانب سے مختلف ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے، مذاکرات اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے انعقاد نے پاکستان کے مثبت کردار کو مزید اجاگر کیا۔ امن مذاکرات کے پہلے دور کی کامیابی اور دوسرے دور کی متوقع پیش رفت اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عالمی امن کے لیے کوشاں ہے۔
یہ تمام کامیابیاں کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہیں، جس کی بنیاد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سیاسی بصیرت، تربیت اور متوازن خارجہ پالیسی میں رکھی گئی۔ متوقع ایران امریکہ معاہدہ اس صدی کا ایک بڑا سفارتی سنگِ میل ہو سکتا ہے جو اسلام آباد میں طے پانے کی توقع ہے۔ آج کی قیادت اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔

ان سفارتی کامیابیوں کے معاشی ثمرات بھی جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔ آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل میں بہتری، تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی، اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں اس وقت مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ درآمدی دباؤ میں کمی، سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ اور کاروباری ماحول میں بہتری سے ملکی معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔آج کا پاکستان ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی کامیابیاں معاشی استحکام میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مواقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جائے اور قومی یکجہتی کے ذریعے ترقی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے۔بلاشبہ موجودہ حالات اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ ہے عظیم پاکستان، عظیم وزیراعظم، اور عظیم فیلڈ مارشل جن کی مدبرانہ قیادت میں قوم سفارتی، دفاعی اور معاشی محاذوں پر نئی تاریخ رقم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں