علمی چشمہ

85

جاگتی آنکھیں،پروفیسر کامران غلام
پروفیسر کامران غالم
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے
یہ ہللا کی عنایت ہے اور مخصوص عنایت ہے کہ کچھ لوگوں کو چن لیتا ہے جو اس کے کالم کی تالوت کریں،سمجھیں،اسکی مخلوق کو اس کا پیغام سمجھائیں۔ہم جیسے لوگ فنی دنیا میں محنت کرتے ہیں مگر فنی تخلیقات ہوں یا تحقیقی صالحیتیں بحرحال معامالت عطا سے لے کر بے پناہ محنت کے سفر سے ہو کر کچھ منزلوں کے پڑھاؤ تک پہنچتےہیں۔ہماری بھی خوش قسمتی ہے کہ شوق او دلچسپیوں کے میلوں اور رونقوں سے علم کی تشنگی نے ہمیں گھیرےرکھا ہے۔علم کیلے علم کی طلب اور جستجو شرط ہے۔ہللا کے آخری نبی صلی ہللا علیہ وآلہ وسلم نے دعا سکھائی کہ اےرب میرے علم میں اضافہ فرما۔علمی طلب اور پھر بھرپور محنت سے علم کی عطا ممکن ہوتی ہے۔انسان کو وہی ملتاہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ہے یہ ہللا کے بناے ہوے فطری قوانین میں سے ایک قانون ہے۔

آج کے دور میں علم بر اے روزگار ہی رہ گیا ہے اور بد قسمتی سے اس میں بھی ہم ابھی ارتقائی مراحل میں بدقسمتی سےباقی دنیا سے پیچھے ہی نظر آتے ہیں۔وہ شخصیات ناپید ہوتی جا رہی ہیں جو واقعی میں علم رکھتے ہیں اور اپنے کردار اور رویے سے زمانے کی دوڑ سے خود کو دور رکھ کر خالصتاً علمی مسافر ہیں۔غور کیجیے ،میں بھی کرتا ہوں کہ آزاد کشمیر کی یہ سر زمین جو ہمارے سامنے ہماری بے حسی کے باعث بنجر پڑی ہے ،کھبی زرخیز ہوا کرتی تھی اوتھر یا چھہتر ہوتے تھے جہاں چاول کی کاشت ہوتی تھی۔خشک سالی کھبی ایسے نہ تھی کہ پانی کی بوند بوند کو ہمارے بزرگ ترسے ہوں جیسے آج ہم طویل خشک سالی سے ترس رہے ہیں۔
مختصر،انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔اس مثال کو علم کیلے بھی لے لیجیے،آوازوں میں وہ سوزنہیں،دل میں وہ درد نہیں،آہ میں وہ اثر نہیں اور

دعا میں بھی اثر نہیں۔یہ کیوں ہے ؟یہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے علمی دنیامیں بھی ایسے لوگ دفنا دیے جن کا راستہ صرف علم اور عمل کو جاتا تھا نہ کہ آج کی مصنوعی ترقی کے حصول کیلے صرف وہی علم جو اس دنیا کو سنوارنے میں استعمال ہو سکے۔وہ علمی چشمے جو ماضی میں علم کی بوندوں سے دلوں کو سیراب کرتے تھے اور ذہنوں کی مجموعی آبیاری کرتےتھے،آج کی دنیا میں سوکھی زمینوں کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں رہا مگر کچھ چشمے آج بھی ایسے موجود ہیں جن
سے ذہنوں کے اضطراب کم ہوتے ہیں اور دلوں کی تڑپ چھین پاتی ہے۔

ان علمی چشموں میں سے ایک علمی چشمہ پروفیسر عبد الحق مراد ہیں۔مجھے افسوس رہے گا کہ ان سے میرا تعارف ہونے کے باوجود میں ان سے مل نہ سکا۔یہ میری بدقسمتی رہی مگر اب خوش بختی سمجھتا ہوں کہ ان سے فون پہ ہی سہی مگر بھرپور علمی مکالمہ جاری ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے راوالکوٹ میں اتنے عرصہ سے قائم ایگری کلچر یونیورسٹی قائم رہی ،زراعت کا پورا محکمہ پوری آب و تاب کے ساتھ پورے آزاد کشمیر میں موجود رہا مگر زمینوں پہ بسنے والوں نے اس سے ایک مربوط نظام نہ ہونے کے باعث کوئی خاطر خواہ فاہدہ نہ اٹھانے کا فیصلہ کیے رکھا اور سفیدے کے درخت کاشت کرتے رہے اور
مالی فاہدہ اٹھاتے رہے۔

ہمارے ہاں سہولیات کا فقدان نہیں اور نہ ہی حکومتی مشینری یا انفراسٹرکچر کی کمی ہے بلکہ ہمارے پاس عوام کو ان محکموں کے ساتھ جوڑ نے اور ایک ایسے موبوط نظام کی کمی رہی جو عوام کو تحریک دے سکتا اور عوام کو اپنی زمینوں سے پیداوار کیلے تحریک دے پاتا،خیر ،بات علم کے ایک معتبر مینار کی ہو رہی تھی جو باغ کی گنگا کی طرح طویل قامت ہونے کے ساتھ ساتھ اسی کی طرح سیرابی کی خصوصیات رکھتا ہے۔گنگا پہ پڑنے والی بارش ہو یا برف جیسے پانی کے سورس کا کام کرتی ہے اسی طرح یہ طویل قامت شخصیت عبدلحق مراد علمی چشموں کا ایک منمبہ ہے۔پروفیسر عبدلحق مراد شعبہ تعلیم سے وابستہ رہے۔پروفیسر صاحب نے اپنی زندگی میں جدوجہد اور علمی میدان میں نہ ختم ہونے والی پیاس کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑےرکھا۔

سب سے پہلے باغ میں گورنمنٹ کالج میں لیب اسسٹنٹ بھرتی ہوے پھر سنیر سائنس ٹیچر بن کر علم کی روشنی سے اندھیروں کو چیلنج دیتے رہے۔ہللا پاک انہیں ہر نئے وقت کیلے ایک نئی سیڑھی عطا کرتا رہا اور وہ مزید بلندیوں کی طرف بڑھتے گئے۔جتنا علمی چشمہ سیرابی کرتا رہا اتنا ہی علم،کردار،گفتار،کردار،مزاج اور تخلیقی صالحیتوں میں نکھار آتا گیا۔عبدلحق مراد صاحب لیکچرر بن گئے پھر انتظامی پوسٹ بحثیت پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج باغ ریٹایرڈ ہوئے۔ریٹاہر منٹ کے بعد پروفیسر عبدلحق مراد صاحب ویمن یونیورسٹی باغ کے ایڈوائزر رہے ۔ذاتی زندگی اور پروفیشنل زندگی میں کامیابی معنی تو رکھتی ہے مگر ایک پروفیسر اور علم سے محبت رکھنے والےشخص کیلے یہ کافی نہیں ہوتا ۔پروفیسر صاحب نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود علمی سفر کو قلم کی زباں بھی بنا ڈاال اور قلم کی زباں سے اپنے علمی،تخلیقی اور تحقیقی نچوڑ کو کتابوں میں ڈھالتے ہوے مستقل کر دیا جو آنے والی نسلوں کیلے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

۔پروفیسرصاحب کی ایک بدقسمتی ہے کہ وہ ہم ناقدروں کے اندر موجود ہیں وگرنہ جو ان کی علمی خدمات ہیں ان پر ان کی ترقی اور ترویج یقینا سے ہمارا سر قومی لیول پر بڑا فخر سے بلند ہوتا۔ان کی کتاب ‘نواے قرآن ‘ قرآن پاک کا ًمنظوم اردو ترجمہ ہے۔پروفیسر صاحب کا ترجمہ کی خاصیت منظوم ہونا ہی نہیں ہے بلکہ ان پہ ہللا کی خاص عطا کیبدولت وہ انتہائی سہل بھی ہے کہ عام قاری بھی اسے بآسانی سمجھ لیتا ہے۔یہ کام ہللا نے باغ کے اس مرد قلندر سےلیا۔سورت عصر کا منظوم ترجمہ آپ خود پڑھ کے دیکھ لیں’زمانے کی قسم !انسان ہے ہی خسارے میں مگر جو مان جاتے ہیں،عمل اچھے کماتے ہیں،کریں تلقین جو آپس میں حق کا ساتھ دینے کی،کریں تلقین آپس میں جو صابر رہنے کی’۔پروفیسر صاحب پہ عطا ہے جو اللہ پاک نے علمی چشموں میں روحوں کی اور ذہنوں کی آبیاری کیلے ان کا انتخاب کیا۔نواے قرآن سے ایک اور منظوم ترجمہ دیکھ لیجیے ‘تمہارے دین کی آج ہم نے تکمیل کر دی ہے.

تمہیں نعمت بھی اپنی پورے طور پر دی ہے،تمہارے واسطے جو پسند آیا راستہ مجھ کو،فقط اسالم کا اور اسالم کا ہی ہے’۔ان کی اس ماسٹر پیس تصنیف کے عالؤہ بھی مزید تصانیف موجود ہیں جن میں’قاضی جی’،’مکاں قاتل مکینوں کا’ ،’جنبیش لب’،سانس چلتی رہے،نغمہ مراد اور نوائے حدیث جو ابھی زیر طباعت ہے۔اس کتاب کا بھی ہمیں بے صبری سے انتظارہے کیونکہ نواے قران کی طرح یہ پانچ سو احادیث کے منظوم تر جمہ پر مشتمل کتاب ہے۔ہماری دعا ہے کہ ہللا پاکن پروفیسر صاحب کو صحت اور سالمتی کے ساتھ رکھے اور یہ علمی چشمہ ایسے ہی رواں دواں رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں