عوامی ایکشن کمیٹی:تنقید،وجوہات اور حل

206

تحریر :زیشان گردیزی
عوامی ایکشن کمیٹی پر تنقید ضرور کیجیے۔ خاص طور پر اس کی قیادت کے طرزِ عمل اور بڑھتے ہوئے انتشار کی سیاست کا محاصرہ کیجیے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ نوجوانوں نے اس کے ساتھ غیر معمولی وابستگی کیوں اختیار کی اور اسے اپنی آخری امید کیوں سمجھا؟ جب تک ہم ان سوالات کا جواب تلاش نہیں کرتے، نہ تنقید بامعنی ہو سکتی ہے اور نہ ہی مسائل کا کوئی مستقل حل نکل سکتا ہے۔آزاد کشمیر ایک چھوٹا مگر دلکش خطہ ہے جسے قدرت نے بے شمار وسائل سے نواز رکھا ہے۔ کل آبادی تقریباً 40 لاکھ، دس اضلاع اور 53 نشستوں پر مشتمل اسمبلی ہے۔ شرح خواندگی 85 فیصد سے زائد ہے.

لیکن اس کے باوجود یہ خطہ ترقی کے سفر میں پیچھے ہے۔ روزگار کے ذرائع محدود ہیں؛ یا تو سرکاری نوکریاں، یا چھوٹے کاروبار، یا پھر بیرونِ ملک ہجرت۔ سرکاری نوکری سب کو میسر نہیں آ سکتی، کاروبار ہر شخص کر نہیں سکتا، اس لیے وسائل نہ رکھنے والے لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں مزدوری یا ملازمت کے لیے جاتے ہیں۔ صرف سال (2024–25) میں ہی آزاد کشمیر کے 29,591 نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک گئے۔ یہ تعداد اس محرومی کا واضح ثبوت ہے جو اس خطے میں موجود ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق 2023میں آزاد کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 14.4 فیصد تک جا پہنچی تھی، جو پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاستدانوں کا کردار اصل قانون سازی، مستقبل کی منصوبہ بندی اور بڑے پروجیکٹس کی پلاننگ کے بجائے چھوٹے چھوٹے کاموں تک محدود ہے۔ کسی کھمبے کی مرمت ہو، کسی ملازم کا تبادلہ، کسی کو انٹرن شپ دینی ہو یا نوکری دینا، یہاں تک کہ حلقے کے وزیر کے عاشیر واد کے بغیر ایک عدد کھمبے کا حصول بھی ممکن نہیں ،سب کچھ وزیر کے ہاتھ میں ہے۔ بھلا ہو فاروق حیدر کا جس نے این ٹی ایس کا نظام متعارف کروایا جس کے ذریعے کئی نوجوانوں کو سفارش کے بغیر بھی مواقع ملے، مگر یہ نظام بھی بار بار عدالتوں کے اسٹے کی نذر ہو جاتا ہے کیونکہ ایڈہاک ملازمین فوری رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔

اگر پندرہ برس سے قبل کے ترقیاتی منصوبوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو بیشتر اسکیمیں صرف کاغذوں کی حد تک موجود ہوں گی۔ ہاں اب سوشل میڈیا کے دباؤ کے باعث کچھ معاملات ضرور بہتر ہوئے ہیں۔ حلقے کا وزیر بھی ترقیاتی پروجیکٹس صرف ان علاقوں کو مہیا کرتا ہے جن علاقوں سے اس نے ووٹ حاصل کیے ہوتے ہیں۔تو پھر سوال تو اٹھتا ہے کیا علاقے میں موجود دیگر لوگ ریاست کا حصہ نہیں؟ایک چھوٹی سی تازہ ترین مثال سامنے رکھوں گا: حال ہی میں گریجویٹ طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام متعارف ہوا۔ کل نشستیں 53 تھیں، باضابطہ انٹرویو بھی ہوئے.

مگر انٹرن شپ کے لیے بھی متعلقہ حلقے کے وزیر کی ریکمنڈیشن کی گونج سنائی دی یعنی وزیر کی ریگمنڈویشں کے بغیر انٹرنشپ بھی درکار نہ ہو گی،، سب کچھ حلقے کے وزیر کا محتاج ہے، یہ چھوٹا سا واقعہ دراصل اس پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے جہاں میرٹ اور قابلیت سیاسی سفارش کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ایسی ناانصافیاں، محرومیاں اور ٹوٹتی ہوئی امیدیں ہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو مایوس کیا اور انہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جُڑنے پر مجبور کیا۔ نوجوانوں کو لگا کہ شاید یہی پلیٹ فارم ان کی دبی ہوئی آواز کو بلند کرے گا اور ان مسائل کو اجاگر کرے گا جنہیں دہائیوں سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہےدنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ مثال کے طور پر نیپال میں 2006 کی “جن آندولن” تحریک میں نوجوان سب سے آگے تھے۔

ابتدا میں یہ تحریک صرف انتشار سمجھی گئی، لیکن بالآخر اسی نے حکمرانوں کو جمہوری اصلاحات پر مجبور کیا۔ بادشاہت ختم ہوئی، پارلیمانی نظام بحال ہوا اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں عملی نمائندگی ملی۔اسی طرح بنگلہ دیش نے نوجوانوں کے لیے گارمنٹس انڈسٹری کو سہارا دے کر لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا، جس سے ہجرت کا دباؤ کم ہوا اور معیشت مضبوط ہوئی۔ ملائیشیا نے بھی “SMEs” یعنی چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو سہولت دے کر نہ صرف مقامی روزگار پیدا کیا بلکہ اپنی افرادی قوت کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک بھی بہتر مواقع دلوائے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تحریکوں کو دبانے کے بجائے ان کے محرکات کو سمجھا جائے اور عملی حل فراہم کیے جائیں تو وہ پورے نظام کے لیے بہتری کا موقع ثابت ہو سکتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی تحریک کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

حل کی طرف چند اقدامات*
نوکریوں کا مکمل انحصار میرٹ پر ہو،اور ایسے ایڈہاک ملازمین جو بغیر پی ایس سی یا این ٹی ایس کے تعینات ہیں انہیں فارغ کر دیا جائے،،سفارش اور اقرباء پروری کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔وزراء کا کردار صرف قانون سازی تک محدود کیا جائے اور مقامی ادارے (میونسپل و ڈسٹرکٹ کونسل) بااختیار بنائے جائیں تاکہ چھوٹے مسائل وہیں حل ہوں۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جائیں (موجودہ حکومت کا یہ اقدام خوش آئند ہے)۔انڈسٹریل زون قائم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔سرکاری منصوبوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور ہر منصوبے کی آزادانہ جانچ و آڈٹ لازمی قرار دیا جائے۔

نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کے نئے پروگرام شروع کیے جائیں اور انہیں فیصلہ سازی میں عملی نمائندگی دی جائے۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے بڑے انویسٹرز کو ٹیکس فری زون قرار دے کر سہولیات مہیا کی جائے اور ساتھ ہی اس حوالے سے جڑی اہم قانون سازی بھی کی جائے .

اسٹیک ہولڈرز کو سمجھنا ہو گا کہ نوجوانوں کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل ہونا کسی ضد یا وقتی ایڈونچر کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل محرومی اور ناکام سیاسی ڈھانچے کے خلاف ردِعمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان دراصل اس نظام میں اصلاحات چاہتے ہیں۔ قیادت کی انتشار پسندی پر تنقید اپنی جگہ درست ہے.

لیکن اگر حکومت اور ادارے سنجیدگی سے اصلاحات پر عمل نہ کریں تو ایسی تحریکیں بار بار جنم لیتی رہیں گی۔اصل ضرورت نظام کی شفافیت، نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی اور مستقبل کی پالیسیوں کو میرٹ کی بنیاد پر استوار کرنے کی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی کا وجود غیر ضروری ہو جائے گا بلکہ خطے کے نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آ سکے گا اور خطہ حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں