عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے کون؟

65

تحریر:محمد ممتاز خان
عوامی ایکشن کمیٹی کا وجود کیسے عمل میں آیا۔ اس کے پس منظر میں کیا واقعات اور عوامل مضمر تھے۔؟ اس پر بات کرنے سے قبل عوامی ایکشن کمیٹی پر مخالفین کی جانب سے اٹھاۓ جانے والے اعتراضات اور الزامات۔ عوامی ایکشن کمیٹی بھارتی ایجنڈا پر کام کر رہی ہے اور راء فنڈڈ ہے۔۔۔۔ ممبران اسمبلی (جماعتوں کا نام اسے لیے نہیں لکھ رہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اپنی پارٹی قیادت کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں ۔

عوامی ایکشن کمیٹی وزیر اعظم انوار الحق کا ہاتھ ہے ( وزراء کے قریبی حلقوں کا دعویٰ )
عوام ایکشن کمیٹی پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی ایماء پر سرگرم عمل ہیں (قوم پرست جماعت کا موقف)
عوامی ایکشن کمیٹی انقلابی ابھار کو رد انقلاب میں بدلنےکے لیے سرگرم عمل ہے۔ (انتہا پرست بائیں بازو)

ترقی پزیر ممالک میں بالعموم اور جنوبی ایشیا میں بالخصوص سازشی نظریات موثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور اکثر اوقات کارگر بھی ثابت ہوتے ہیں۔ جب کوئی گروہ یا پارٹی تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بنا رہی ہوتی ہے۔ اس گروہ یا جماعت کا پروگرام عوامی کشش رکھتا ہو اور عام انسان تیزی سے اس طرح مائل ہو کر اپنی جڑت بنا رہا ہو۔ اور مقتدر حلقوں کے پاس اس گروہ یا جماعت کی طرف سے اٹھاۓ گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہ ہوں اور سوالات بھی وہ جو حکمران طبقات کے مفادات کے خاتمے سے متعلق ہوں۔ تو پھر اپنے تسلط اور مفادات کو باقی رکھنے کے لیے حکمران طبقات کے ہاتھ میں سازشی نظریات کا سہارا لینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔ سازشی نظریات کے ذریعے تیزی سے عوامی پزیرائی حاصل کرنے والے گروہ یا جماعت سے لوگوں کو بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعض اوقات اس طرح کی کوشش کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔

وزراء حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بولا کر مشترکہ علامیہ جاری کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی بھارت نواز ہے اور اور اس کو بھارت کی خفیہ ایجنسی راء فنڈ مہیا کرتی ہے جس کے ثبوت کے طور پر ایک سائفر لہرا گیا جس کی عمر لمحات سے زیادہ ثابت نہ ہوئی بلکہ جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ کہا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان کے مخالف ہے اور افواج پاکستان کے خلاف ہیں۔ حالانکہ کمیٹی کے ایس او پیز کے مطابق کسی بھی ملک اور اداروں کے خلاف بات نہیں کی جاتی بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے نعرے لگانے پر پابندی عائد ہے۔ پھر نہ جانے کس دانشور کے مشورے سے حکومت نے دفاع پاکستان کنونشن کروانے کا مشورہ دیا ان کنونشز میں عوام کی لاتعلقی نے جہاں ان حکمرانوں کو ننگا کیا وہاں عام آدمی کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہونے کہ لوگوں کو پاکستان اور اس کے اداروں کے ساتھ رشتہ انتہائی کمزور ہے شاید حقیقت اس کے برعکس ہو مگر ان کی “دانشمندانہ” اقدامات نے اس پر مہر ثبت کر دی اس طرح کے غیر ضروری اور بے وقت اقدامات کو دیکھتے ہوئے لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ جب بحران اپنی انتہاؤں کو چھوتا ہے تو سمٹ کر قیادت کا بحران بن جاتا ہے۔ اور اس کیفیت میں حکمران جو بھی کرتے ہیں غلط کرتے ہیں.

کچھ وزراء کرام اور انکے خاص حواریوں کا کہنا ہے کہ انوار الحق نے تمام وزراء کے اختیارات کو صلب کر رکھا ہے اور وہ وزراء پر دباؤ بڑھاۓ رکھنے کے لے عوامی ایکشن کمیٹی کی پشت پناہی کر رہے ہیں آج کی تنویر الیاس کی پریس کانفرنس میں بھی اسی طرف اشارہ دیا گیا تھا۔ حالانکہ اس بابت کوئی ثبوت دینے میں ناکام ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے جو کچھ حاصل کیا وہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کیا. قوم پرستوں کا یہ الزام ہے۔ کہ پاکستان کی ایجنسیاں آزاد کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کر کے اسے پاکستان میں ضم کرنا چاہتی ہیں۔ جس کے لیے آزاد کشمیر میں موجودہ حکومتی ڈھانچہ ختم کرنا ہو گا اور وہ ایسے پرامن حالات میں ممکن نہیں جس کے لیے ریاست کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ حکومتی رٹ ختم کی جاۓ اور عوام کو حکومت سے بدظن کر کے لاتعق کر دیا جائے تاکہ ایمرجنسی نافذ کر کے اپنے پس پردہ مقاصد حاصل کیے جائیں۔

اس بیانیہ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ھمارے حکمران مقتدرہ حلقوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں ہیں کس لیڈر اور جماعت میں یہ جرات ہے کہ وہ انکار کر سکے۔ یہ چاپلوسی اور قدم بوسی میں اس حد تک گر جاتے ہیں کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ یہ عوامی قوت ہی ہے جس کا خوف انھیں ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ دوسری طرف عوامی ایکشن کمیٹی نے اس مفروضے کو سختی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے ایسی ہر قسم کی سرگرمی کی بزور عوامی طاقت مخالفت کی جاۓ گی جو ریاست کی ہیت اور سالمیت کے خلاف ہوگی۔ عوام کو یہ اعتماد دینے کے بعد کیا عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اس طرح کی کسی سرگرمی کا حصہ بن سکتی ہے؟ اگر بن بھی جاۓ تو رسوائی ہی اس کا مقدر ہوگی۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے اس موقف جو ریاستی نظام کی بقاء کی ضمانت دے رہا ہے پر ہی انتہا پسند بائیں بازو (الٹرا لیفٹ اسٹ) نکتہ چیں ہے۔ ان کے مطابق مسائل کی اصل وجہ نظام کی متروکیت ہے جو اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے جس میں اصلاحات ممکن ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی نظام کو بدلنے کی بات نہیں کرتی بلکہ چہرے تبدیل کرنا چاہتی ہے جو کہ عوام کے ساتھ ایک دھوکا ہے۔۔ ایک انقلابی پارٹی کے بغیر انقلاب ممکن نہیں ہوتا۔اس لیے یہ بایاں بازو بھی عملاً تماشائی بنا بیٹھا ہے یہ درست ہے کہ اصل مسئلہ تو نظام کی تبدیلی ہے۔ اصلاحات کی تحریکیں تو نظام کو بچانے کے لیے ہوتی ہیں لیکن محنت کش طبقہ کب تک اس انتظار میں بیٹھا رہے گا کہ کب ایک طاقتور انقلابی پارٹی بنے گی جو تحریک کی قیادت کرے تو ہم تحریک چلائیں۔

اب اس بات پر آتے ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی اصل طاقت کہاں سے آتی ہے اور کن حالات میں اس کا وجود عمل میں آیا
آزاد کشمیر چار ہزار مربع میل اور بیالیس لاکھ آبادی پر مشتمل ایک خطہ ہے۔ جو انیس سو سینتالیس میں ایک آزادی کی تحریک کی ناکامی کی صورت میں وجود میں آیا تھا یہاں ایک حکومت قائم کی گئی جس کے ذمہ یہاں کے انتظامی معاملات چلانے کے ساتھ ساتھ ریاست کی مکمل آزادی کے لیے جدوجہد کو منظم کرنا تھا اور بدقسمتی سے یہاں کا حکمران طبقہ نے اپنے قیام کے دونوں بنیادی مقاصد سے روگردانی کر دی اور ریاستی وسائل کو عوامی ملکیت سمجھنے کی بجائے ذاتی ملکیت سمجھنا شروع کر دیا۔ اس کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا، میرٹ کی پامالی، اقرباء پروری، رشوت، کمیشن، سرکاری زمینوں پر قبضے۔ معدنیات اور جنگلات کی بڑے پیمانے پر سمگلنگ یہاں کی حکومت کے وظائف بن گئے۔

تمام ادارے مفلوج کر کے رکھ دئیے گئے۔ غریبوں کی آخری امید پبلک سروس کمیشن اور عدلیہ ہوتے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن میں سے پبلک سروس کا سابقہ ہٹا کر صرف کمیشن کمانے کا ادارہ بن گیا جس کی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔۔ وزراء نے بڑے بڑے عہدوں پر اپنے رشتہ داروں کو ایڈہاک لگا رکھا ہے جو کلرک اور پرائمری ٹیچر کا ٹسٹ پاس نہیں کر سکے اور عدلیہ کا حال اس سے بھی برتر ہے۔ عوام آدمی کو کہیں سے بھی امید کی کرن نہیں دیکھائی دے رہی تھی اس کیفیت میں گھٹن کا بڑھنا فطری عمل ہوتا ہے۔ گھٹن کو انخلاء کے لیے راستہ مل جائے تو وہ طوفان نہیں بنتی۔ گھٹن کے انخلاء کے لیے سیاسی پارٹیاں، طلباء تنظیمیں، ٹریڈ یونین اور ایوان میں اپوزیشن ہوتی ہے۔ الحمدللہ آزاد کشمیر میں گزشتہ چالیس سالوں سے طلباء یونین پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے قیادت پیدا ہونا ہی ناممکن ہے۔

طلباء یونین کے بغیر لیڈر نہیں بونے پیدا ہوتے جن کے پاس نہ دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی عقل۔ قائدانہ صلاحیتوں کی جگہ ضمیر فروشی اور چاپلوسی ان کی کل کائنات ہوتی ہے۔ ٹریڈ یونین پر پابندی عائد ہے۔ ساری جماعتیں حکومت میں ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں سے سایسی عمل مفقود ہو گیا ہے سیاسی جماعتیں فرنچائز بن چکی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اداروں میں تابع خوشنودی ثناء خوانوں کو مسلط کیا جاتا جو پارٹی کے اندر سیاسی بحث کو اتارنے کی بجائے اپنے اپنے لیڈروں کی ثناء خوانی پر معمور ہیں۔ ایسے حالات میں آزاد کشمیر کے اندر ایک خود رو تحریک نے جنم دیا جو ابھی اپنی شیر خواری کے دور سے گزر رہی ہے لیکن اپنی اس کم عمری میں بھی بڑے اقدام اٹھے، زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ عام لوگوں کی ضروریات سے اپنے آپ کو جوڑا۔ عام آدمی کو اظہار کے لیے فورم مہیا کیا اور بڑی حاصلات بھی حاصل کیں۔

اب تحریک اس موڑ پر پہنچ چکی ہے کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں عوام کا زیادہ نقصان نہیں۔ ۔ اس وقت تک یہ تحریک پرامن ہے۔ اصلاحات کے لیے ہے گویا اس نظام کی بقاء کی تحریک ہے جس کا فائدہ آخری تجزیے میں ان حکمرانوں کو ہی ہے اس لیے وقت کا تقاضا ہے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو پورا کیا جائے۔ غیر سنجیدہ رویہ کے باعث کبھی کبھی اصلاحات کے لیے چلائی جانے والی تحریکیں انقلاب میں بدل بھی جایا کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں