تحریر:نعیم الحسن نعیم
زندگی میں شاید سب کچھ برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن غربت کا بوجھ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کی خودداری اور عزتِ نفس کو کچل دیتی ہے،جب آپ کے پاس وسائل نہ ہوں تو دنیا کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا،آپ کی بات کا وزن کم ہو جاتا ہے، اور لوگ آپ کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے آپ میں کوئی کمی ہو، شاید غربت ایک ایسا عیب ہے جو ہر خوبی کو چھپا دیتا ہے.
میری غربت نےاُڈایا ہے میرے فن کا مزاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
انسان کی زندگی کے بدترین وقتوں میں سب سے برا وقت جوانی کی غربت ہوتی ہے.انسان جب جوانی میں قدم رکھتا ہے تو وہ نئے نئے خواب دیکھتا ہے اپنے لیے اپنے خاندان کے لیے مگر یہ غربت اسکے خوابوں کے آگے آڑے آ جاتی ہے. اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے شاکر شجاع آبادی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی تو شاکر شجاع آبادی سے اینکر نے سوال کیا کہ زندگی میں اتنے دکھ دیکھے معذور بھی ہیں، بول بھی ٹھیک سے نہیں سکتے، غربت بھی کاٹی، کیا اِسکا غم ہے آپکو؟
تو شاکر بولے:
ایتھاں جو بھوگ بھوگے ہِن
اُتھاں تاں کوئی جزا مِلسی
تھکیڑے سارے لہہ ویسن
نبیﷺ مِلسی خدا مِلسی
کل حلوائی کی دوکان کے باہر کھڑا ایک لاچار بچہ نظر آیا تو خیال آیا کہ یہ بچہ سوچتا ہو گا کہ غربت نے مجھ سے ذائقے چھین لیے بچپن چھین لیا ماں کی گود میں ملنے والا پیار جس کی اسے اس وقت ضرورت ہے جب انسان بےبس مجبور ہوتا لیکن غُربت ایسی سزا ہے جب انسان ہر رشتوں کو کھو دیتا ننگے پاؤں بکھرے بال پھٹے پرانے کپڑے بیچارگی کی زندگی اف اللہ غربت کو بہت پاس سے دیکھا نہیں لیکن محسوس ضرور کیا ہے میں نے بہت اذیت ناک ہوتی ہے انسان خود کو نہ زندہ میں نا مردہ تسلیم کرتا ہے سب سے پہلے اپنے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں.پھر لگتا کے واقع یہ غربت بہت ظالم چیز ہے اپنے خوابوں کو اپنی آنکھوں کےسامنے ٹوٹتا دیکھ کر اپنی بےبسی پر بس آنسو بہا سکتا ہے.
چھوٹے چھوٹے بچے جن کے ابھی کھیلنے کودنے کی عمر ہے صبح روزانہ کچرے کہ ڈھیر پہ نظر آتے ہیں ان بچوں کا کیا قصور ہے. جن کو بھوک نے اپنی آغوش میں لپیٹ رکھا ہے..ہمارے سامنے اسے لوگوں کو ہاتھ کیوں پھیلانے پڑھتے ہیں. ہم خود کیوں نہیں دوسروں کے درد محسوس کر سکتے. اگر ہم انسان ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے کوئی بےبس کیسے ہو سکتا ہے.اگر واقعی ہم انسان ہیں ہر چیز سے افضل بنیادی سوچ سمجھ دی اللہ نے تو ہم اتنے بے رحم کیسے ہو سکتے ہیں.واقعی میں ہم انسان ہیں تو دوسروں کو درد میں دیکھ کے انکا درد کیوں نہیں محسوس کر سکتے.انکی تکلیف کو کم کرنے کے لیے انکا ساتھ کیوں نہیں دیتے.ہماری آنکھیں کے سامنے کوئی بھوک سے تڑپ رہا ہو گا کسی کی بیٹی کچرے کے ڈھیر پہ یا پھٹنے پرانے کپڑوں میں بھیک مانگتی ہمیں کیوں نہیں نظر آتی.ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں.ہمیں کیوں دوسروں پر رحم نہیں آتا اگر ہم انسان ہیں تو ایسا کیوں آخر سوچیے.
کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ نظر سے گزری تو پڑھ کر آنکھوں سے آنسو نکل پڑے.گوجرانوالا میں میت کی وصیت۔گذشتہ روز ایک فوتگی ہوئی،مرنے والا شخص بیمار اور بے روزگار تھا ان کے 3 چھوٹے بچے تھے،میاں اور بیوی دونوں نے اپنے بہن بھائیوں اور عزیزوں سے یہ کہہ کر پیسے مانگنے کی کوشش کی کہ بیماری سے نکلتے ہی پیسے واپس لوٹا دینگے مگر کسی نے کوئی تعاون نہیں کیا۔مرنے والے نے اپنے سگے بھائی کو اپنے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے بھی اپنی بیماری اور مجبوری کا پیغام بھجوایا ان کا بھائی مالدار تھا مگر اس بڑے بھائی نے اس مشترکہ دوست کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ بیماری بھوک و افلاس اور بے بے بسی کے مارے ہر طرف سے مایوس ہو کر جب مرنے والا کا وقت آخرت قریب آیا تو اس نے اپنی بیوی کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد کسی سے کفن کے پیسے بھی نہ لینا اور میں جن کپڑوں میں ہوں مجھے انہی میں دفنا دینا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میں ان لوگوں کے پیسوں کا کفن پہنوں جو مجھے جینے کےلئے کچھ دینے کو تیار نہیں تھے.
گزشتہ روز اس شخص کی وفات پر رشتے دار کفن دفن اور روٹی دینے کےلئے لڑتے رہے مگر مرنے والے کی بیوی نے وصیت کے عین مطابق اپنے مرنے والے شوہر کا ایک پرانا سفید سوٹ نکالا اور میت کو غسل دینے کے بعد وہ پہنا کر اس میت کی بڑے قبرستان میں تدفین کر دی۔ارے خدا کے بندوں اگر کسی کیساتھ ہمدردی کرنی ہے تو ان کی زندگی میں کیا کرو مرنے کے بعد تو دشمن بھی کندھا دینے دوڑتے ہیں.
غربت میری ہمسفر ہے راستہ روٹی کا ہے
میری ساری شاعری میں ذائقہ روٹی کا ہے
اب کسی لیلیٰ کی جانب دھیان جاتا ہی نہیں
قیس کو درپیش جب سے مسئلہ روٹی کا ہے
بھوک سے بےحال ہیں بستی کے ننھے مقتدی
امام کی بات میں بھی فلسفہ غریبی کا ہے
پیٹ پوجا ہو رہی ہے بندگی کے نام پر
بھوک مذہب بن گئ ہے دیوتا روٹی کا ہے
غربت اور کندھوں پر فیملی کی کفالت کا بوجھ !! انسان کی جوانی کا بہترین حصہ کھا جاتی ہے.یہی نوجوان پھر غربت سے تنگ آکر غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک جانے کی کوشش میں مارے جاتے ہیں منشیات کے عادی بن جاتے ہیں یا ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں.یقین کریں اگر ہر بندہ اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالے اور صدقہ خیرات دے تو دنیا سے غربت ختم ہو جائے۔آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے، زندگی میں بانٹنا شروع کر دیں۔مساکین بوجھ نہیں رزق کا ذریعہ ہیں سڑکوں، بازاروں میں پھرنے والے پیشہ ور بھکاریوں کو صدقہ خیرات دینے کی بجائے اپنے جاننے والے مستحق رشتہ داروں اور غریبوں، مسکینوں، یتیموں کو دیں
آج مہنگائی اور غربت سے تنگ آکر لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں.
مہنگائی اتنی ہے کہ لوگوں کے کچن بھی ٹھیک سے نہیں چل رہے.بچارے سفید پوش ہر روز اپنی آمدنی کے مطابق اتنا راشن خریدتے ہیں کہ جس سے ایک دن بھی گزارا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اپنے قریبی کریانہ سٹور پر جاکر تھوڑی دیر ویزٹ کریں.آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کے محلے میں کتنے سفید پوش ہیں اس سے پہلے آپ کے رشتہ داروں یا گلی محلے میں کوئی مہنگائی اور غربت سے تنگ آکر خودکشی کرےیا غلط راستے پر چل پڑے اپنی آمدنی میں سے چپکے سے صدقہ خیرات کریں۔جرم غریبی کی سزا اپنے لیے أپ چنی کہ میں احساسات پر اثر انداز ہونے والے کرب کو لکھنے کا عادی ہو گیا ہوں.
میری کمیونٹی سے میرے جیسے لوگوں کے احساسات بھی لکھے، کہ دہاڑی دار مزدور کے حالات ،احساسات اور کیفیات جنہیں بہت کم تر لکھا جاتا ہے کیونکہ پیشہ ور لکھنے والے اگر غربت سے گزرے نہ ہوں یا خود اس کے عامل نہ ہوں تو انہیں خود پر غربت کی مصنوعی کیفیات طاری کرنا پڑتی ہیں،میرا مگر سلسلہ مختلف ہے مجھے کیفیات طاری کر کے کہانی گھڑنا نہیں پڑتی۔۔۔میں نے زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر غربت سے نمو پانے والی ہر اذیت اور ہر احساس کو محسوس کیا ہے۔
حساسیت کےمرض میں ایسا مبتلا ہوں کہ یہ اب لاعلاج ہے.
نہ رسوائی کا خوف، نہ یہ روگ کہ “لوگ کیا کہیں گے”
میرے ناقد کا مشورہ ہے مجھے
أپ مفلس ہیں شاعری نہ کریں
میں شاعری نہیں کرتا ، نہ میرے اشعار شاعری ہیں یہ تو ایک ٹوٹے ہوۓ دل کی أواز ہوتی ہے اور بس۔۔۔۔۔۔۔!!!کیونکہ ترستے ہوۓ شب و روز کے باوجود ریاست میں جاری اقتصادی و معاشی بحران،سیاست، دہشتگردی فروعی عصبیتیوں اور طاقتور قوتوں کی طرف سے میرے ملک میں کھیلا جانے والا خونی کھیل بھی میرے احساسات پر اثر انداز ہوتا ہے، مجھے امیروں کی غاصب اکثریت کی تنگ نظری اور غریبوں کی حاسد طبیعت ،کے احساسات بھی جکڑے رکھتے ہیں .لکھنا کچھ اور چاھا رہا ہوں پوسٹ لمبی ہو جاۓ گی ،فقط دعا کہ اللہ تعالی اس دور میں روزگار نامساعد کی چکی میں پستے عوام پر رحم فرماۓ۔
اج پھر مارے گی ماں مجھے بہت رونے پر
اج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا
ہائے ہائے غربت
غریب ہونا کہانیوں اور کتابوں کی حد تک رنگین ہوتا ہو گا۔ حقیقت میں غربت بہت بھیانک اور دردناک ہوتی ہے.دو وقت جس غریب کو روٹی نہ ہو نصیب
امیر چند بہارؔ
بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا
کس درجہ ہوگی کارگر اس کو دوا سے کیا
جھلسا کے رکھ دیا جسے باد سموم نے
غنچوں سے کیا غرض اسے باد صبا سے کیا
دو وقت جس غریب کو روٹی نہ ہو نصیب
مذہب کا کیا کرے اسے ذکر خدا سے کیا
رہنے کو جھونپڑا بھی نہ جس شخص کو ملے
اس کو سزا کی فکر کیا اس کو جزا سے کیا
جس کے بدن پہ گوشت دکھائی نہ دے کہیں
اس آدمی کو روح کی نشو و نما سے کیا
تنگ آ چکا ہو کشمکش زندگی سے جو
کیا مہ وشوں سے کام اسے دل ربا سے کیا
فکر معاش ہی سے نہ فرصت ملے جسے
شعر و ادب سے کیا اسے مہر و وفا سے کیا
سنتا ہو جو ضمیر کی آواز دوستو
اس کو کسی خضر سے کسی رہنما سے کیا
رہتا ہو اپنی ذات میں جو مست ہر گھڑی
اس کو سرائے دہر کی آب و ہوا سے کیا
کہنا ہو جو بھی آپ اسے برملا کہیں
لفظوں کے ہیر پھیر سے طرز ادا سے کیا