تحریر :سیماب عارف
خبر اور حادثے میں بس اتنا فرق ہے کہ خبر آپ کی دہلیز عبور کرلے توحادثہ بن جاتی ہے.حادثہ سینے سے دل نکال کر لے جائے تو سانحہ اور سانحہ وجود کا حصہ بن جائے تو المیہ.غم کو انسان سے بہت پرانی نسبت ہے.یہ ایک مستقل ساتھی ہے.جو کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے.کبھی دھول اڑاتی فوجوں کی طرح اچانک حملہ آور ہوتا ہےاور کبھی سرطان کی طرح خاموشی سے وجود کا حصہ بنتا ہے.
کبھی دیوار میں مسلسل رسنے والی نمی کی طرح.کبیی سیلاب کے ایک ریلے میں بہا لے جانے والا. جری ہیں جو اس کے وار سے بچ نہ سکے.سپاہی ہیں جو اپنا دفاع نہ کر سکے.پہلوان جو اس کے اکھاڑے میں پٹخے گئے.دلیر جن کی ڈھال سینہ نہ بچا سکی.صابر جو سینے میں پھنسا بال لیے جیتے رہے.یعقوب جو یوسف کے غم میں نابینا ہوئے.مائیں جن کی گودیں اجڑیں.
سہاگنیں جن کی مہندی خون ہوئی.محب جو ہجر کے تازیانے کھاتے رہے اور محبوب جنہیں چاہنے والا کوئی نہ رہا.پہاڑ جو ڈھائے گئے.پھول جو مرجھائے.پتے جنہیں ہوا اڑا لے گئی.درخت جو ٹنڈ منڈ ہوئے.زمین جو سیم کا شکار ہوئی.
غالب نے کہا تھا
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ بچیں کہاں کہ دل ہے
سو کون ہے جو بچ پایا؟کون ہے جو بچ پائے گا؟کوئی نہیں
کبھی لگتا تھا موت سب سے بڑا المیہ ہے لیکن پھر اس سے بڑے المیے گزرے تو یاد آیا کوئی حد تھوڑی ہے.غم ہر دل کو الگ طرح سے گھاؤ دیتا ہے.سو کسی کے گھاؤ کا اپنے گھاؤ سے تقابل نہ کرنا.بچے کا سنبھال سنبھال کے رکھا گیا اکلوتا سکا کھوگیا یا چیونٹی کا دیوار کے اوپر تک پہنچ جانے کے بعد منہ میں دبایا دانہ گر گیا.ایک قیامت ہے ایک سانحہ ہے اس کے لیے
غم کا اثر ہر دل پہ شدید ہے مگر الگ رنگ میں الگ ڈھنگ سے
اس سب میں کمایا تو صرف اس دل نے جس نے خود کو اس غم کا روزن بنالیاوہ روزن جو اپنے جیسے غم کے ماروں کے سینوں کی حبس کم کرےجو محرومی کو کسی اور کی محرومی بننے سے بچالے.
مشکل ہےپر کمائی صرف یہی ہے
ورنہ یہ تو لے گیا سب کو