فارمیشن کمانڈرز کانفرنس اور قومی سلامتی کے تقاضے

63

ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 86 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اہل کشمیر کے ساتھ غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں مظالم کی شدید مذمت کی اور فوجی جارحیت کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی قانونی اقدامات کی حمایت کی نیز پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کے سہولت کاروں کو بے اثر کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کے ولولہ انگیز خطاب پر عوام و خواص میں تبصرے ہو رہے ہیں اور فوج جو فیصلے کرتی ہے اس پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے۔ یہ ایسا معتبر اور مضبوط ادارہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا ملک اور قوم باعزت اور محفوظ ہیں۔

دہشت گردی کا سامنا ہمیشہ فوج ہی نے کیا اور ہزاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں جس پر افواج پاکستان کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے فوج اور سپہ سالار کے خلاف مذموم منفی مہم چلائی جاری ہے جس کا قطعی کوئی موقع اور جواز نہیں ہے اور قانون ہوتے ہوئے بھی ایسے گروہ کے ملوث افراد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی موثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے وہ اوقات سے باہر ہو رہے ہیں اس کا مداوہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سوشل میڈیا پر اندرون و بیرون ممالک سے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوج، حساس اداروں اور ملک کے خلاف بے سر وپا جعلی وذیوز اور منفی خبروں کی مذموم مہم کو فوری بند کرنے کی ضرورت ہے۔افغانیوں کو ہمیشہ پاکستان نے پناہ دی اور لاکھوں اب تک پاکستان میں آباد ہیں لیکن سرحد کے ذریعے ایسے دھشت گرد یہاں آ کر دھشت گردی کر رہے ہیں جو افغان حکومت کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ شرم کرے اور غیرت کا مظاہرہ کر کے اپنے فتنوں کو فوری روکے.

طالبان حکومت نے اپنے قیام کے بعد برملا کہا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اس پر پہرہ دیا جانا ضروری ہے۔ ورنہ حالات خراب ہونے کے امکانات ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف دھشت گردی کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں رکھی ان کا ٹارگٹ سی پیک روز اوّل سے رہا ہے میری رائے ہے کہ کلبوشن کو دی جانتے والی سزا پر فوری عمل کیا جانا چاہئے تاکہ بھارت کو احساس ہو کہ جو ہمارے خلاف سازش کرے گا اس کو سزا بھگتنا پڑے گی۔بلوچستان میں ملک دشمن قوتوں کو مقامی غدار مل چکے ہیں جن سے ذریعے وہ مذموم سازشیں کر رہے ہیں ان کا مرکز بہرحال بھارت ہے جس کے خلاف ہماری افواج سربکف ہیں اور وہ موثر اقدام اٹھا رہی ہیں ان کے مقاصد پاک چین تعلقات میں دراڑیں ڈالنا بھی ہے لیکن یہ دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہو چکی ہے اور اس کا احساس دونوں ممالک کو ہو چکا ہے اور دشمن اس میں ہمیشہ کی طرح ناکام اور نامراد رہے گا۔

پارہ چنار اور کئی شہروں میں مسالک کی آڑ میں معصوم پاکستانیوں کا قتل عام انتہائی افسوس ناک المیہ ہے۔ کے پی کےحکومت ان امور کو چھوڑ کر وفاق پر چڑائی کرنے میں مصروف ہے جو بےحد افسوس کا مقام ہے اس پر وفاق ہی کو کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پختون خواہ میں تعمیر و ترقی کی بجائے عوام کو مرکز کی حکومت اور فوج کے خلاف اکسانا بلاشبہ ملک دشمنی ہے اس میں سرکاری مشینری اور وسائل کا بے دریغ استعمال اس سے بڑا جرم ہے۔مجھے کہنے دیجئے کہ ہماری پہلی ترجیح ملک اور فوج ہونی چاہئے یہ ساری بہاریں ملک اور مضبوط فوج کی وجہ سے ہیں ہمیں اپنی نوجوان نسل کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے جو جوش میں ہوش کھو رہے ہیں اور اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ سیاسی و دینی جماعتوں کو ذاتی ایجنڈے موخر کر کے ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے اور سیاست میں بھائی چارہ، برداشت اور رواداری کو اپنانے کا وقت ہے اور جو حکومت ہو اس کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہئے تاکہ وہ ملک اور قوم کے لئے فلاح کے ایجنڈے پر کوئی کام کر سکے۔

محض بہکاوے میں آ کر ملک کی سلامتی کو داو پر لگانا کوئی عقل مندی اور فراست نہیں ہے۔آزاد کشمیر میں مسائل و مطالبات کے لئے جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال اور احتجاج بالکل درست ہے لیکن اس کی آڑ میں قومی پرجم کی بے حرمتی اور قومی ہیروز کی تصاویر کو نقصان پہنچانے کا واقعہ ناقابل معافی جرائم ہیں جس پر معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ایسے ریاست مخالف شر پسندوں کے خلاف سخت ترین مقدمات قاہم کر کے انہیں قرار واقعی سزائیں دی جانی چاہئے تاکہ آہندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں