جاگتی آنکھیں،پروفیسر سردار کامران
جاوید خان ایک گہر ےمشاہدہ اور مطالعہ کا حامل قلم کار ہے بلکہ اگر یوں کہیے کہ ہم دوستوں میں گہری نگاہوں سے دنیا کو دیکھنے واال ایک کردار ہے جس کی آنکھیں سنجیدگی سے دیکھنے اور ذہن تخلیق ،فکر اور جمالیاتی پہلوؤں کے زاویوں کے ماپ تول میں لگا رہتا ہے۔ہماری محفلوں میں ہم علمی اور ادبی ذوق کے حامل سبھی لوگ موجود رہتے ہیں مگر جاوید خان ان نثری اور شاعری کے مسافروں سے یکسر مختلف اور محفل میں ہوتے ہوے بھی کہیں کھویا کھویا ہی رہتا ہے۔
خیر سے عظیم ہمالیہ کے حضور ،سفر نامہ تحریر کرنے کے بعد جاوید خان کنوارا بھی نہ رہا،ہمالیہ کے حضور سے عملی زندگی میں جی حضوری کے کھٹن سبق سیکھنے کی بھی ماشاءہللا! ٹھان ل ی،جی،جی ہاں، ہمارے دوست نے شادی کر لی مگر جی حضوریوں سے وقت نکال کر اس عظیم قلم کار نے خاکوں پر مبنی کتاب لکھ ڈالی”فقیر نگر کے باسی”۔ ہمارے علم و ادب کے داہرے میں بیٹھنے والے شاعروں اور نثر نگاروں میں سب سے سنجیدہ شخصیت جاوید خان ہی ہیں۔
ہمارے مزاق،مزاح اور ہنسی سے اسے تھوڑی بہت الرجی رہتی ہے۔ہم جب دوست اکھٹے ہوتے ہیں تو غیر سنجیدگی کی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں مگر مجال ہے کہ جاوید خان سنجیدگی کا دامن ہاتھ سے جانے دے۔یہی سنجیدگی اور گہرائیوں سے بھر پور مشاہدہ جاوید خان ک ا خاصا بنا اور اس کے قلم میں ہلکے مزاح کی سادگی اور سنجیدگی کی خوشبو کاغذ پہ پھیلتی چلی گئی۔جاوید خان جب سفر نامہ لکھتا ہے تو دنیا میں پھیلے حسن و جمال ، رب کے کماالت ، خوبصورت فطری مناظر کو اپنے قاری کیلے اس طرح پیش کرتا ہے کہ قاری اسی کی محفل کا ہو جاتا ہے۔
قاری وہی دیکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے،وہی سنتا ہے جو وہ سنتا ہے غرض یہ کہ جمالیاتی تجربات سے، تخیل سے بھرپور،رومانی روانی کے ساتھ اور فطر ی مناظر کی منظر کشی کی حدوں کو چھوتے ہوے کچھ تلخ حقیقتوں سے بھی آگاہی حاصل کرتا ہے۔جاوید خان
راولاکوٹ بلکہ آزاد کشمیر کے لکھنے والوں میں سب سے خالص ادیبوں میں سے ایک ہے بلکہ جب بھی کھبی ادب کی درست معنوں میں جانچ کے بعد کچھ لکھا گیا تو وہ ان بہت ہی کم قلم کاروں اور فن کاروں میں ہو گا جو خالص ادیب کہلوانے کے حق دار ہوں گے۔
جاوید خان ایک خالص فن کار اور ادیب ہے جس میں بیرون کی مداخلت بہت کم ہے۔نظریاتی رمک بھی کم ہی نظر آتی ہے،ادب براے ادب کے اس مسافر کا اسلوب اسے سب سے منفرد بناتا ہے۔یہ نہیں کہ زندگی کے اتار چڑھاؤ یا بیرونی دباوسے متاثر نہیں ہوتا مگر آفاقی رنگ زیادہ گہرا رہتا ہے۔اردگرد کی عام زندگی سے رنگوں کو اکھٹا کر کے اندھر دنوش اور رنگولی بنانا ہی اس کا فن ہے۔اسلوب ہی اسے خاص کرتا ہے۔
جاوید خان کی نئی کتاب تعارفی باب کو مال کر چودہ خاص اور انتہائی خاص انسانوں کے خاکوں پہ مشتمل مجموعہ ہے۔نان فکشن ادب میں 134مختصر اوراق پر مشتمل یہ کتاب، ایک خوبصورت اضافہ ہے۔خاکہ نگاری میں اہم عہدوں اور بااثر شخصیات کی خاکہ نگاری میں ابتدائی ادوار میں زیادہ زور دیا جاتا تھا۔عام آدمی سیاسی شخصیات اور دنیاوی اعتبار سے اہم پوز یشن پر کام کرنے والے لوگوں کے خاکوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔وہ ہر وہ کالم اور تحریر پڑھنے کو اہمیت دیتے ہیں جس کے اندر دنیاوی اعتبار سے بڑی شخصیات کی زندگیوں کے بارے میں تحریر کیا جاتا ہو۔
فقیروں اور خالص ادیبوں کیلے انسان مرکزی حثیت رکھتا ہے ،وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو۔نان فکشن کے اندر لکھنے والے کا مشاہدہ ، حقیقت کو دلچسپ اور رومانی انداز سے پیش کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔اگر خالص حقیقت کو لکھا جاے پھر بھی واقعات اور کرداروں کو اس طرح مکمل پالٹ بنا کر خاص فنی ترتیب دینا، ادیب کا امتحان ہوتا ہے تاکہ عام قاری کی دلچسپی برقرار رہے۔فقیر نگر کے باسی ٹوپہ کے بے شمار کرداروں میں سے چنے ہوے، جاوید خان کے پسندیدہ اور چھنے ہوے کردار کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ tales shortہیں جنہیں پروفیسر سید حسین خاموش صاحب کے کردار کو چھوڑ کر،لوگ معترض بھی ہو سکتے ہیں کہ ٹوپہ کے قصبہ تک اور وہاں کے رہنے والے باسیوں کی ہی کہانی کیوں سنائی گئی .
میرے نزدیک اصل کمال ہی یہی ہے کہ جاوید خان نے اپنے اردگرد بسنے والے فقیروں کو ہمیشہ کیلے فن کی دنیا میں امر کردیا۔انسان کی فطرت ہی شاعروں اور ادیبوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔1343سے 1400چوسر ،جس کو انگریزی ادب کی بنیادوں میں سب سے اہم مانا جاتا ہے نے اٹالین لٹریچر اور فرنچ لٹریچر کے تراجم سے ابتدا کی مگر اسے اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب اس نے خالص انگریزی ،اس کی اپنے سر زمین کے باسیوں کے مختصر خاکے تحریر کیے۔جو ہر اعتبار سے لوکل تھے۔اس کے تحریر کیے خاکے اتنے جاندار ہیں کہ آج بھی اس کے پیش کیے گئے کرداروں جیسے کردار ہمارے اردگرد موجود رہتے ہیں۔
وہ اس لیے کہ جب ادیب انسانی فطرت کو بیان کرتا ہے تو وہ کہانیاں یا کردار جو فطرت کے عکاس ہوں آفاقی حثیت اختیار کر لیتے ہیں۔پھر وہ کردار یا کہانیاں کسی عالقے یا قوم تک محدود نہیں رہتیں۔وہ اقوام عالم کا اثاثہ بن جاتی ہیں۔ ٹوپہ اور اہل ٹوپہ کو جاوید خان نے ایک فقیر نگر کے باسی سے ایک نئی پہچان عطا کی ہے۔ٹوپہ راوالکوٹ سے قریب ہے اور یہاں کی خاص بات یہاں پر بسنے والے کچھ ایسے خاص لوگوں کا سایہ رہا جنہیں علم و ادب سے محبت محبت رہی ۔
یہ وہ خاص کردار ہیں جنہوں نے اس کی پہچان میں اپنا خاص حصہ ڈاال۔یہ انفرادی کرداروں کی اور مجموعی انسانی زندگی کی ٹریجڈی پر مشتمل کھتا بھی ہے۔سلیم صاحب کے دنیا سے جانے پر جاوید لکھتا ہے”چھوڑو اس زمانے کو بہت دکھ لیا” ،افطار حسین حسرت کے جانے پر ان کی طرف سے سماجی رابطے پر بابا فرید سے منسوب اشعار جو حسرت صاحب نے دوستوں کو اجل کی آغوش میں جانے سے پہلے بھیجے،قاری کو آبدیدہ کر لیتے ہیں ۔یا پھر ایمان کا باہمت کردار ہو جس نے “زندگی کے اس بیمار زدہ باغ میں گھومنا ،مسکرانا،پریشان ہونا اور پھر ہنسنا “سب سیکھ لیا اور قبول بھی کیا مگر عار ضی زندگی نے اس پھول کی خوشبو بھی چھین لی ۔غرض ہر کردار زندگی سے بھر پور بھی ہے اور ایک مکمل ٹریجڈی بھی ہے۔
ہیڈ ماسٹر ریٹایرڈ قیوم صاحب ،ثاقی صاحب، حسرت صاحب،ارشاد محمود صاحب اور اس طرح کے بے شمار صاحب مطالعہ لوگ جنہوں نے کتاب کی اہمیت اور علم سے محبت کے بیچ اس چھوٹے سے قصبہ میں بوے جس کا ثمر ہمیں نسلوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جاوید خان نے خاکہ نگاری میں ہماری مجموعی پہاڑی ثقافت کے ان میں سے چند خاص کرداروں کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے اور آنے والی اور موجودہ قابل رحم نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔کاش وہ ہماری اس ثقافت جو ہم سے موبائل،مادیت ،خود پسندی،دکھاوے،سہل پسندی اور جدیدیت نے چھین لی ہے کو اس کتاب کی وساطت سے دوبارہ تالش کرنے کی ہلکی سے کوشش کر لیں اور جان سکیں کہ انہوں نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ جاوید خان نے ان کرداروں میں دوبارہ ر وح پھونکنے کی کوشش کی ہے جو ہماری مجموعی بے حسی کی وجہ سے ہمارے آنگنوں سے غائب ہوئے ۔
ہماری بے لوث محبتوں کے امیں جو ہماری ثقافت کی طرح قبروں میں ہماری موت کا ماتم منا رہے ہوں گے،ان کو جاوید خان نے کچھ چنے ہوے اور چھنے ہوے کرداروں کی وساطت سے ہمارا گریبان پکڑ کر ہمیں جھنجوڑ نے کی کوشش کی ہے۔فقیر نگر کے باسی آفاقی کرداروں کی کہانی بھی ہے۔یہ ٹوپہ کے کرداروں کی کہانی ہی نہیں بلکہ یہ دنیا میں پرانے شاہکاروں کی بے قدری اور نئی ابھرتی ہوئی جادوئی،طلسماتی ، بے قیمت دکھاوے سے بھر پور روبوٹ نما،اخالقی وجود سے خالی اور مشینی انسان کے ابھرتے ہوے ظہور کا اعالن بھی ہے۔اگر ہم سمجھ پاتے تو بہت کچھ نہ کھوتے اور اپنی مٹھی میں چند سکوں کے عوض، مقدر کی لکیریں نہ گنوا دیتے اور سہل کی حاصالت کیلے ہم نے کیا کیا نہ کھو دیا ۔
فقیر نگر کے باسی ایک محبت نامہ ہے جو اپنے لوگوں،عالقہ،ثقافت اور رہن سہن سے بے لوث محبتوں کا چیخ چیخ کر مگر نہایت سلیقے سے اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔یہ دکھ کی کھتا بھی ہے اورفقیروں کی زندگیوں سے نچوڑا ہوا تعویز بھی۔یہ بیش قیمت تحفہ فکشن ہاوس والوں نے چھاپا ہے اور کتابی شکل میں دستیاب ہے۔