فلسطین اسرائیل تنازعہ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال

27

راقم: محمد عارف کشمیری
فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ کو تقریباً 100 سال ہو گئے ہیں ۔فلسطین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا ۔اس وقت مسلمان یہاں اکثریت میں تھے اور یہودی اور مسیحی اقلیت میں تھے ۔پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ ٹوٹ گئی اور اس خطے کا کنٹرول فرانس اور برطانیہ کے پاس چلا گیا اور انھوں نے آپس میں اس خطے کو تقسیم کر لیا ۔فلسطین برطانیہ کے زیر کنٹرول آیا۔اس علاقے پر کنٹرول جب برطانیہ کے پاس آیا تو یورپ سے یہودی بڑی تعداد میں یہاں آنے لگے۔

جس کی وجہ سے یہودیوں اور عربوں کے درمیان ٹینشن شروع ہو گئی ۔1947 میں مقامی عربوں اور یہودیوں کے درمیان تشدد بڑھنے لگا تو اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جن میں ایک یہودی ریاست اسرائیل اور ایک عرب ریاست فلسطین جبکہ یروشلم بین الاقوامی شہر ہو گا۔اس غیر منصفانہ تقسیم پر 14 مئی 1948 کو عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔یہ جنگ اسرائیل نے جیت لی اور اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو اپنے وطن سے بے دخل کر دیا ۔اسی طرح 1967 اور 1973 میں بھی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل جیت گیا۔

گزشتہ 50 برسوں میں اسرائیل نے West Bank اور ایسٹ یروشلم میں غیر قانونی یہودیوں کی آبادکاری کی ہے جن کی تعداد 6 لاکھ سے زائد ہے ۔گزشتہ دو ہفتوں سے اسرائیل نہتے اور معصوم فلسطینیوں پر فضائی بمباری کر رہا ہے ۔اب تک 5000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے ۔اسرائیل کی جانب سے سکولوں ،ہسپتالوں،اور عبادت گاہوں پر فضائی بمباری کی جا رہی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں بچے،خواتین اور بزرگ شہید ہو رہے ہیں ۔

مسلم امہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔جبکہ دوسری جانب امریکہ ،برطانیہ،اور یورپی ممالک اسرائیل کی نہ صرف مالی امداد کر رہے ہیں بلکہ ہر طرح کا جنگی ساز و سامان بھی فراہم کر رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان ایک ہو جائیں اور مظلوم فلسطینیوں کی عسکری ،سفارتی اور اخلاقی محاذ پر بھر پور حمایت کی جائے ۔جس کا عملی مظاہرہ ایران اور ترکیہ اس وقت کر رہےہیں۔فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور ان کو ان کا حق ملنا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں