فیڈرل بورڈ سے الحاق: اصلاح یا خودمختاری کا خاتمہ؟

137

قلمدان قاضی، قاضی محمد عابد
آزاد کشمیر میں تعلیمی نظام ہمیشہ سے ایک الگ شناخت رکھتا آیا ہے۔ ایک ایسا نظام جو مقامی ضروریات، ثقافت اور زمینی حقائق کے مطابق تشکیل دیا گیا تھا۔ مگر اب پونچھ اور مظفرآباد میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام اور انہیں فیڈرل بورڈ سے منسلک کرنے کے فیصلے نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کیا یہ قدم تعلیمی اصلاح ہے یا مقامی خودمختاری کا خاتمہ؟یہ فیصلہ بظاہر انتظامی سہولت اور معیارِ تعلیم کی بہتری کے نام پر کیا گیا ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ کئی ایسے اثرات ہیں جو طویل المیعاد طور پر آزاد کشمیر کے تعلیمی ڈھانچے کو کمزور کر سکتے ہیں۔

سب سے بڑا خدشہ خودمختاری کے زوال کا ہے۔ جب تمام امتحانی نظام، نصاب کی تیاری، پالیسی سازی اور تعلیمی فیصلے فیڈرل بورڈ کے تابع ہو جائیں گے تو آزاد کشمیر کے محکمہ تعلیم کا کردار محض ایک نمائشی ادارہ بن کر رہ جائے گا۔ وہ اپنے خطے کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق کوئی فیصلہ یا ترمیم نہیں کر سکے گا۔ تعلیم کا یہ اختیار، جو مقامی حکومت کی سب سے بنیادی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، اب اسلام آباد کے دفتروں میں منتقل ہو جائے گا۔ یہ عمل بظاہر ایک تکنیکی قدم لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ سیاسی اور انتظامی خودمختاری کی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے۔

دوسرا بڑا مسئلہ اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ تین نئے بورڈز کا قیام کسی معمولی بجٹ سے ممکن نہیں۔ نئی عمارتیں، اضافی عملہ، سازوسامان، امتحانی نظام کی تیاری اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر — یہ سب مقامی بجٹ پر بھاری بوجھ ڈالیں گے۔ ایسے میں اگر وفاقی حکومت نے مالی معاونت نہ کی تو یہ تمام اخراجات براہِ راست آزاد کشمیر کے محدود تعلیمی بجٹ سے پورے کرنے ہوں گے، جس سے پہلے سے موجود اسکولوں، اساتذہ اور تعلیمی منصوبوں کے وسائل سکڑ جائیں گے۔تیسری بڑی تشویش منتقلی کے عمل میں بے ترتیبی ہے۔

موجودہ ریکارڈ، رجسٹریشن ڈیٹا، رزلٹ سسٹم اور نصاب کی تبدیلی جیسے مراحل میں وقت، محنت اور تنظیمی صلاحیت درکار ہوگی۔ اگر یہ مرحلہ بغیر جامع منصوبہ بندی کے شروع کیا گیا تو طلبہ، والدین اور اساتذہ سبھی غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہیں گے۔نصاب کے حوالے سے بھی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ فیڈرل بورڈ کا نصاب عمومی طور پر قومی سطح کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جس میں آزاد کشمیر کی تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ایک مقامی نصاب میں ممکن ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی رفتہ رفتہ طلبہ کو اپنے علاقے کی شناخت اور فکری جڑوں سے دور کر سکتی ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ فیصلہ اگرچہ اصلاح کے عنوان سے سامنے آیا ہے، مگر اس کے اندر خودمختاری کے خاتمے اور مالی دباؤ کے واضح خطرات پوشیدہ ہیں۔اگر مقامی حکومت اپنی پالیسی سازی کے اختیارات کھو بیٹھے، مالی وسائل پر کنٹرول نہ رہے اور نصاب کی سمت باہر سے طے ہونے لگے، تو پھر سوال یہ بنتا ہے .کیا ہم واقعی اپنی تعلیمی ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا اپنی شناخت کو کسی اور کے طے کردہ نظام کے حوالے کر رہے ہیں؟

ایکشن کمیٹی کے حالیہ لانگ مارچ اور کے بعد وفاقی حکومت کے مذاکرات کے بعد جہاں بہت نکات حل کرنے پر تحریک اور ایکشن کمیٹی کو سراہا جا رہا ہے وہیں پر تعلیمی بورڈ کی تقسیم کے معاملہ پر بھی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ یہ درست اقدام اٹھایا گیا اور کچھ اس کیخلاف ہیں جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تعلیمی بورڈ کا معاملہ بنیادی 38 مطالبات میں نہیں تھا جبکہ ایکشن کمیٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ذیلی معاملات میں درج تھا.تعلیمی بورڈ معاملے پر عوام کو اس کے اصلاحی و تعمیری مقاصد پر اعتماد میں لیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے وگرنہ ایک اور احتجاج بعید نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں