تحریر: ہجرت علی آفریدی
لنڈی کوتل میں اکثر طوفانی بارشیں تو ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں کی مقامی ابادی سڑکوں ندی نالیوں اور مکانات کا نقصان تو ہو جاتا ہے مگر پانی نقصان کے علاوہ یہاں کے کسی بھی کام نہیں اتا اسی سلسلے میں لنڈی کوتل میں بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے مقامی نوجوانوں نے اپنی مدد اپ کے تحت چھوٹے تالاب اور بارانی ڈیموں کی تعمیر شروع کر دی ہیں لنڈی کوتل کے یہ نوجوان بیشتر مقامات کا دورہ کرتے ہیں اور سائٹ سلیکشن کے بعد ان پر کام شروع کر دیتے ہیں مقامی نوجوان الطاف نے بتایا کہ موسمیاتی تغیر کی وجہ سے لنڈی کوتل بالخصوص اور پورے خیبر بالعموم کی پانی کی سطح دن بدن گرتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے لنڈی کوتل میں بیشتر پانی کے ٹیوب ویل خشک ہو چکے ہیں اور کثیر پیمانے پر یہاں کی ابادی پینے کی صاف پانی سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہے بیشتر ابادی اپنی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے میلوں دور سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں.

اس کے علاوہ یہاں پانی کی سطح گرنے سے جنگلات میں بھی کمی دیکھنے کو مل رہی ہیں پہاڑوں کی ہریالی ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ یہاں کی قدرتی ماحول بہت متاثر ہوتا جا رہا ہے اسی طرح جنگلات میں کمی کے باعث یہاں گرمی زور پکڑنے لگی ہے اور یو ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ہے جس کی وجہ سے یہاں کے مستقبل خطرے سے دوچار ہیں مقامی نوجوانوں نے یہ خیال کیا ہے کہ حکومت اگر یہ کام نہیں کر رہی تو کیوں نہ ہم اپنی مدد اپ کے تحت محدود پیمانے پر واٹر کنزرویشن کے لیے کام کریں اسی طرح انہوں نے اپنی مدد اپ کے تحت لاکھوں روپے کی خرچ پر لنڈی کوتل میں پانچ سے زائد مقامات پر بارانی ڈیم یعنی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے پشتے بنائے ہیں مقامی نوجوان الطاف نے بتایا کہ اب تک شنواری چارواز گئی بھاگو شیخ مل نیکی خیل ملاگوری کے مقام پر بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انہوں نے چھوٹے ڈیم بنائے ہیں ان ڈیمو کی تعمیر سے وہاں کی مقامی ابادی کو بہت فائدے ملے ہیں مقامی نوجوان نے بتایا کہ وہ اپنی ذاتی خرچ سے یہ کام کر رہے ہیں اور اب تک کسی سرکاری ادارے یا تنظیم کی طرف سے کوئی مدد انہیں حاصل نہیں ہے.
الطاف شنواری نے بتایا کہ ہماری بیشتر کام وہاں کی مقامی پہاڑوں کے دامنوں میں ہوتی ہے اس لیے ان پر ایک طرف کافی خرچ اتا ہے تو دوسری جانب وہاں مٹیریل کی رسائی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے مقامی نوجوان الطاف کہتے ہیں کہ ہماری ٹیم کی انتھک کوشش ہوتی ہے کہ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں ہم پہنچ جائے اور وہ کام کر سکے لیکن مشکلات زیادہ ہیں اور ان کے وسائل کم ہیں الطاف شنواری کہتے ہیں کہ ان کے ہمراہ ان کے دوستوں کے حوصلے پست نہیں ہیں اور وہ اخری دم تک موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے کمر بستہ ہیں الطاف نامی مقامی نوجوان بتاتے ہیں کہ ان کی یہ کاوش ہے زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو دوبارہ اجاگر کرنے اور اوپر انے میں کلیدی کردار ادا کرے گی انہوں نے بتایا کہ وہ مستقبل میں بڑے بڑے تالاب بنانے کا بھی پلان رکھتے ہیں اور پہاڑوں کے دامنوں میں بھی وہ شجرکاری اور ڈیم بنانے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے .الطاف شنواری نے کہا کہ اسی سلسلے میں تالاب یا ڈیموں سے زیادہ ضرورت عوامی اگاہی کی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں جان سکے اور پانی کی ضیاع کو روکے ان کے پانی کی ضیاع موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا عنصر ہے لنڈی کوتل میں عوام ان کی کاوشوں پر خوش اور مشکور دکھائی دیتے ہیں.
سوشل میڈیا پر ان کے ڈیموں کے حوالے سے ویڈیو اور تصاویر نے کافی شہرت حاصل کی ہے الطاف شنواری بتاتے ہیں کہ لنڈی کو تل میں بہت سارے مقامات ہیں جن پر چھوٹے پیمانے پر بارانی ڈیم باسانی بنائے جا سکتے ہیں جس کی وجہ سے ایک طرف پانی کی سطح اوپر ائے گی دوسری طرف جنگلات میں بھی اضافہ اور گرمی کا زور ٹوٹے گا ساتھ ہی متبادل کے طور پر سیلاب کا خطرہ بھی کم ہوگا کیونکہ پہاڑوں کے دامنوں میں تالاب نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مون سون کی بارشوں میں بڑے سیلابی ریلے نکلتے ہیں جس کی وجہ سے پاک افغان شاہراہ گھنٹوں گھنٹوں بند پڑی ہوتی ہیں اور یوں ملکی خزانے کا بھی یومیہ اربوں روپے نقصان ہوتا ہے اس لیے اگر پہاڑوں کے دامنوں میں محدود پیمانے پر بارانی ڈیم بنائے جائیں تو ایک طرف پانی ذخیرہ ہوگا جبکہ دوسری جانب سیلابی خطرہ ختم ہونے سے سڑکوں گاڑیوں اور مقامی ابادی کو محفوظ بنایا جائے گا مقامی نوجوانوں کی کاوشوں پر سوشل میڈیا میں دھوم مچھی ہیں اور ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے موسمیاتی تبدیلی سے جڑے ادارے اگر ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے تو یہ خیبر کو گرین خیبر میں تبدیل کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں.