نقطہ نظر/سردار علی شاہنواز خان
دنیا کے نقشے پر وہی قومیں کامیاب ہیں جو ماضی کی زنجیروں کو توڑ کر مستقبل کی راہ اپناتی ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا نے یہ سبق سیکھا ہے کہ قومی ترقی کا راستہ باہمی مفادات اور بین الاقوامی تعاون سے گزرتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں کچھ عناصر “غلامی” اور “غیرت” کے جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ حقیقت نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ تعلقات دراصل نوجوانوں کے لیے جدید تعلیم اور معیشت کے فروغ کا دروازہ کھولتے ہیں، نہ کہ قومی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ترقی کے راستے: کینیڈا اور جاپان کی مثالیں
کینیڈا کی مثال لیجیے، جو دنیا کی مضبوط معیشتوں میں سے ایک ہے اور امریکہ کا قریبی تجارتی شراکت دار ہے۔ کینیڈا نے اپنی ترقی کے لیے امریکہ کے ساتھ اقتصادی، تعلیمی، اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ اس کے باوجود کینیڈا اپنی شناخت، خودمختاری اور قومی مفاد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ کینیڈا کے عوام خوشحال ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، اور ان کا معیارِ زندگی دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ کیا اس تعاون نے کینیڈا کی “غیرت” کو نقصان پہنچایا؟ ہرگز نہیں۔
اسی طرح جاپان، جس نے دوسری جنگ عظیم کی تباہی کے بعد خود کو دوبارہ کھڑا کیا، آج دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔ جاپان نے امریکہ کے ساتھ مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کیے، جس کی بدولت وہ ٹیکنالوجی، تعلیم، اور صنعت میں ترقی کی بلندیوں تک پہنچا۔ جاپانی قوم اپنی ثقافت اور وقار پر فخر کرتی ہے، مگر وہ اپنی ترقی کی راہ میں بین الاقوامی تعاون کو رکاوٹ نہیں سمجھتی۔
حقیقت سے منہ موڑنے کے نقصانات
یہ حقیقت ہمیں سمجھنا ہوگی کہ امریکہ کی مخالفت میں جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو بھڑکانا دراصل ملک کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیلنا ہے۔ اس کا مطلب ہے.
1.نوجوانوں کے لیے جدید تعلیم کے دروازے بند کرنا:
بین الاقوامی تعلقات سے کٹ کر ہم اپنے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتوں سے محروم کر دیں گے۔
2.معاشی تنہائی کا شکار ہونا:
ترقی یافتہ ممالک سے تعلقات ختم کرنے کا مطلب عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کھونا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت مزید بدحالی کا شکار ہو جائے گی۔
3. افغانستان، ایران اور شمالی کوریا بننے کا خطرہ:
اگر ہم نے عالمی برادری سے کٹ کر اپنی راہیں متعین کیں تو ہمارا حال بھی افغانستان، ایران اور شمالی کوریا جیسا ہوگا، جہاں معاشی پابندیاں، بدحالی، اور تنہائی نے عوام کو مفلسی میں دھکیل دیا ہے۔
قومی مفاد کی حکمتِ عملی
آج کا دور جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ دانشمندی اور قومی مفاد کو اولیت دینے کا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات ہماری بقا اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے بجائے، جدید دنیا کے ساتھ مل کر تعلیم، ٹیکنالوجی، اور معیشت کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا۔
یہ وقت اپنا گھر جلا کر دوسروں کی مدد کی ناکام کوشش کرنے کا نہیں، بلکہ اپنے ملک کو خوشحال بنانے کا ہے۔ ہمیں ماضی کے بھنور سے نکل کر حقیقت پسندی کو اپنانا ہوگا تاکہ ہمارا ملک عالمی سطح پر ترقی یافتہ، مضبوط اور خودمختار قوموں میں شامل ہو۔ترقی کی راہ باہمی مفادات، تعلیم اور جدید سوچ سے گزرتی ہے، نہ کہ فرسودہ نعروں اور جذباتی سیاست سے۔