جاگتی آنکھیں,پروفیسر سردار کامران غلام
دنیا میں کہیں کوئی بھی حادثہ گزرے،ہمارے دل پہ ضرور اثر کرتا ہے،ہم اچھے جو ٹھہرے۔کہیں کوئی روٹی کے لیے سسکتا دکھائی دے،کہیں کسی پہ ظلم ہوتا دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں،دل سے خون ٹپکتا ہے، چھاتی پیٹ کے رہ جاتے ہیں،ہائے ہائے اسے کیا ہوا ؟کیوں ہوا؟بچانے کیوں نہیں کوئی نکلا؟پھر دنیا میں جہاں نسل پرستی یا مذہبی انتہا پسندی کے ہوتے واقعات دیکھ لیں تو ہمارے نازک سینے میں ٹھیس اٹھتی ہے،دل بیٹھ جاتا ہے اور زبان لرزتے ہوئے ،ہونے والے واقعات پہ تبصرے اور تنقید شروع کر دیتی ہے۔
ہم تبصرہ نگاری کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ہوٹلوں پہ بیٹھے ہوں،بازار میں کھڑے ہوں،گھر میں ہوں یا حالت سفر میں تبصروں میں ہم نے اپنے برابر کسی کو نہیں آنے دیا۔فیس بک پہ تو ہم سے دنیا مقابلہ نہیں کر سکتی،بنائی کسی نے ،کس کیلے،جس کیلے بھی بنی،ہم نے ہر جگہ اسے کھسیڑ دیا ہے،میرا کہنے کا مطلب ہے زندگی کےہر مقام پر۔گھر ہو یا دفتر ہو، موبائل ہو،بس خیر سے، شعور کی بات کی جاے تو موبائل کے استعمال کے مثبت پہلو بھی ہیں اور ہم نے اس میدان میں بھی کچھ فاہدہ ہی لیا ہے۔اب آہستہ آہستہ ہم لوگ اس کو تعلیمی،کاروباری اور سیاسی شعبوں میں بھی استعمال کرنا شروع کر چکے ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزاء بات ہے۔
بات دور نکل گئی بات دنیا میں ہونے والے نسلی،مذہبی اور جنسی تفریق اور زیادتیوں کو لے کر ہو رہی تھی۔امریکہ میں ہونے والے نسلی فسادات کے نتیجے میں کسی کالے شخص یا مسلمان کے ساتھ ظلم ہو تو ہم لوگ غصہ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور عملاً اظہار بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اسی طرح ہماری ریاست اور ہم ہندوستان میں مسلمانوں کے اوپر ہونے والے ظلم،جبر و استحصال کے خلاف دن مناتے ہیں اور قومی میڈیا پر چیختے چلاتے بھی ہیں۔بات یہ ہے کہ ہم ٹھیک کرتے ہیں غلط نہیں کرتے ۔ہمیں چیخنا بھی چاہیے اور آواز بھی اٹھانی چاہیے۔مگر کیا ہم ٹھیک ہیں اور باقی سب غلط۔؟
اس سوال کا جواب اگر ہم نے تلاش کر لیا تو یقین مانیے جو آواز ہم دنیا میں کسی کیلے اٹھائیں گے تو اس آواز کی اخلاقی پرواز ظالموں تک پہنچے گی اور ان کے ہاتھوں کی زنجیر بنے گی مگر ہم خود ایک قوم بن سکے کیا؟1947میں پاکستان بننے کے بعد ہندو اکثریت کو بارڈر پار چھوڑ کر،لازوال قربانیوں کی داستان رقم کرتے ہوے،مسلمان اکثریت والے ملک کی بھاگ دوڑ مسلمانوں نے ہی حاصل کی متحدہ ہندوستان میں کوئی سکھ تھا ،عیسائی تھا،پارسی تھا،مسلمان تھا یا پھر ہندو۔اسی طرح علاقہ تفریق میں بھی بڑے علاقے شمار ہوتے تھے۔
مگر یہ کیا،جب ہم ادھر پہنچے تو پاکستانی کہلانے کے بجاے بلوچی ،سندھی،پٹھان،مہاجر اورپنچابی کہلاے۔آہین بناتے بناتے اور توڑتے توڑتے76سال گزار دیے،آہینی مستری اور آہینی طاقت ہمارے پاس ہی ٹھری۔خطے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا کہ ہم سے آہینی ماہر اور تجربات میں بہتر کوئی نہیں۔ملک میں اتنے تجربے کسی قوم نے کیے ہوں تو سامنے آے۔یعنی،ہم سا کوئی ہو تو سامنے آے۔فیض خواہ خواہ میں لکھتا رہا کہ یہاں چلی ہے رسم کہ نہ کوئی سر اٹھا کے چلے۔ہم میں سے کس کی آنکھ آج تک جھکی ہے،تھیس نیس کرنے کے باوجود ہمارے سر فخر سے بلند ہی ہیں اور وہ بھی ہر شعبے میں۔ملالہ بھی غدارگردانی جاتی،ابھی وقت نہیں کہ پاکستان کو دنیا میں اتنی عزت ملے وہ بھی ایک لڑکی کی وجہ سے۔ہم غیرت مند قوم جو ہیں۔
عبدالسلام نے نوبل پرائس جیتا،ہم نے اس کے نام پہ بننے والا قائد اعظم یونیورسٹی میں بلاک توڑ دیا،یقیں جو کامل ہے کہ ہم ایک نہیں اس سے زیادہ نوبل انعام جیت کرلاہیں گے وہ بھی ساہیوں،جالی پیروں اور چورن بیچنے والوں کی تعداد میں۔تاریخ کے ماضی کے چراغوں کے وارث ہم ہیں،دنیا آگے بڑھتی ہے تو بڑھتی رہے۔ہم نے ماضی کے چراغوں کو بجنھے نہیں دینا۔ایران مزہبی ہونے کے باوجود اگر سائنس میں ترقی کر رہا تو ہمیں معلوم ہے کہ مزہب سے غداری کر رہا،ہم کیوں تعلیم اور سائنسی تعلیم پہ توجہ دے کراور خرچ کر کے خود کو مزہب کا غدار بنالیں ۔
اسرائیل خالصتاً مزہبی ریاست ہونے کے باوجود اگر سائنس اور ٹیکنالوجی پہ توجہ دے رہا تو وہ بھی اس کیلے ہمارے نزدیک کوئی درست عمل نہیں نہ اسے فاہدہ ہو گا،ہماری شف شاف ہی اس کیلے کافی ہو گی۔
ہم ایک بات آہین میں بہت اہم لکھنا بھول گئے اور وہ سب سے اہم بات تھی کہ ہم نے اس پہ عمل نہیں کرنا۔خیر سے ہمارے ہاں ویسے بھی لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد کم ہے اس لیے اگر نہیں لکھ سکے تو بھی فرق نہیں پڑتا۔آج کل حالات پچپن والے ہی ہیں کہ شلوار سلوائی جاے تو بہتر ہے اگر قمیض سلوانے جاہیں گے تو لوگوں کی ہنسی مزاق کی زمہ داری آپ پہ خود ہو گی۔
بات پھر دور نکل گئی ،حال ہی میں پھر سے عیسائی عوام پر مسلم اکثریت کے خوف زدہ لوگوں نے حملہ کر کے قومیت کے خیال کو مزاق بنا کے رکھ دیا۔بات ابتدائی حصے کی طرف لے جا رہا کہ دنیا میں ہونے والے واقعات پر ہم رد عمل دیتے ہیں مگر جب ہمارے اپنے ہاں کسی تھوڑی تعداد والے لوگوں چاہے قبیلے کے اعتبار سے ہوں،مزہبی اعتبار سے،مسلکی اعتبار سے یا دولت کے اعتبار سے ہم خود ظلم سے باز نہیں آتے۔
کیا ہو جاے اگر پاکستان میں بسنے والی عبادت گاہیں ایک ساتھ ہوں اور ہر عبادت گاہ میں آنے جانے والا اپنے مزہب کے اعتبار سے عبادت کر سکے ؟کیا یہ سب کچھ پہلے موجود نہیں رہا ؟کیا ایسا ممکن نہیں تھا ۔تاریخ میں ایسا ہی تھا کہ مذہبی یا مسلکی فرق کے اوپر انسانیت کو رکھا جاتا تھا۔ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم اتنی متشدد قوم بن چکے ہیں۔حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عیسائیوں کی حفاظت کو لے کر خط کو بھی نظر انداز کر دیا گیا یا ایسی تعلیم یعنی مزہبی رواداری کی تعلیم ہمیں دی ہی نہیں جاتی۔اصل مسلہ چند مفاد پرست گروہوں کا ہے جو ریاست کو بدنام کرتے ہیں۔
ان کے اپنے لوکل مفادات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مذہبی اقلیتوں کا ایسے ہی استحصال کرتے ہیں جیسے کسی غریب مسلمان کا۔وہ جائیداد ہتھیانے کیلے یا کسی اور ذاتی مقصد کیلے مزہبی منافرت پھیلا کر استحصال کرتے ہیں اور چند جزباتی لوگ ان کی خواہشات کا ہتھیار بنتے ہیں اور مزہبی اقلیتیں ایندھن۔ہندوستان میں ہندوتا کی تحریک نے مسلمانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا کے رکھ دیا ہے۔دوسری طرف بات اتنی سی ہے کہ ہمارا مذہب یا ریاست عملاً مثالی ہونا چاہیے نہ کے دعوؤں تک محدود۔وہ مثالی ایسے ہو سکتا کہ دنیا میں تمام مسالک،مزاہب ،رنگ و نسل اور قاہداعظم کی11 اگستوالیپالیسی تقریر والا پاکستان بن جاے۔اگر ہم ہندوستان کا رونا رو رہے کہ وہ نہرو کا ہندوستان نہیں رہا تو ہمارا پاکستان بھی قاہداعظم والا پاکستان ہونا چاہیے نہ کے ضیا الحق والا۔
وہ ایسے ممکن ہے کہ ہم مزہبی ہم آہنگی پہ خصوصی توجہ دیں اور اپنے سلیبس کا بھی حصہ بنائیں ۔باقی آنے والی نسلوں سے ہم امید اگر رکھیں تو ہم بہتر، محفوظ اور سب کا پاکستان بنا سکتے ہیں۔جہاں تک پاکستان کی براے نام اشرافیہ کا تعلق ہے اسے ملک یا عوام سے دلچسپی پی نہیں لگتی البتہ اس کے وسائل عزیر ہیں۔آگے بڑھنے کیلے ضروری ہے کہ قدم درست سمت میں اٹھاے جاہیں وگرنہ حرکت تیز تیز اور سفر آہستہ آہستہ بلکہ ہمارا سفر تو گھوم پھر کے اسی جگہ آ جاتا ہے، بچھڑے تھے ہم جہاں سے۔
اس تمام صورت حال سے نکلنے کیلے ہمیں کثیر الجہتی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ سیاسی،سماجی اور معاشی مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہو گا۔ریاست کو عوام سے بار بار مکالمہ کی ضرورت ہے۔اسی طرح تعلیمی پالیسی کو نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سکولز سے بیشتر بچے جو آوٹ ہیں انہیں سکولز میں لانا ہو گا۔تمام درس گاہوں بشمول دینی مدارس کے سلیبس میں مزہبی ہم آہنگی کے فروغ کی تعلیم لازمی قرار دینی ہو گی۔