مردوں کا عالمی دن

174

تحریر:نعیم الحسن نعیم
صاحبو! یہ جو مرد ہونا ہے
اس کا مفہوم چُھپ کے رونا ہے
مرد اگر عورت پر ہاتھ اٹھائے تو ظالم اور اگر عورت سے پٹ جائے تو زنخا ۔عورت کے آگے چلے تو فرعون اور پیچھے چلے تو رن مرید۔ اگر عورت کو چھوڑ دے تو سنگدل لیکن عورت اسے چھوڑ دے تو نامرد۔ عورت کو کسی اور کے ساتھ دیکھ کر مشتعل ہوجائے تو جیلس (جل ککڑا) اگر مشتعل نہ ہو تو بے غیرت۔ عورت کو کام کرنے سے روکے تو دقیانوس نہ روکے تو عورت کی کمائی کھانے والا۔ عورت پر شک کرے تو نفسیاتی مریض اور نہ کرے تو بے حس اور اگر عورت اس پر شک کرے تو بے وفا۔ مرد گھر سے باہر رہے تو آوارہ اگر گھر میں رہے تو ناکارہ۔ بچوں کو ڈانٹے تو جابر نہ ڈانٹے تو لاپرواہ۔ عورت سے چھیڑ چھاڑ کرے تو فرسٹریٹڈ لیکن عورت کی چھیڑ چھاڑ پر برا مانے تو بے وقوف۔ عورت کی تعریف کرے تو فلرٹ نہ کرے تو بدمزاج۔ بحث کرے تو جھکی نہ کرے تو میسنا کہلائے۔ بیوی یا بہنوں کی فرمائشیں پوری نہ کرے تو کنجوس اور اپنے لئے کچھ نہ خریدے تو زندگی سے بے زار۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں کل مردوں کا عالمی دن منایا گیا۔ مردوں کا عالمی دن منانے کا خیال سب سے پہلے جمہوریہ ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سے تعلق رکھنے والے ہسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر جیروم ٹیلکسنگ نے تجویز کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح خواتین کے مثبت کردار کے فروغ اور ان کے مسائل سے متعلق آواز اٹھانے کے لیے مخصوص دن مقرر ہے اسی طرح مردوں کے حوالے سے مخصوص دن مقرر ہونا چاہیے، جس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے سالگرہ کی تاریخ 19 نومبر منتخب کی۔
دنیا بھر میں اس دن کو منانے کا سلسلہ 19 نومبر 1999 سے شروع ہوا.

آج بھی بہت کم لوگ بالخصوص مرد ایسے ہیں جنہیں اس دن کے بارے میں معلوم ہے، یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مرد خود اور اپنے زیر تربیت نوجوانوں کو مرد ہونے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریاں، مثبت کردار اور اقدار کے بارے میں آگاہی فراہم کریں تاکہ اچھا معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔مرد ایک گھر میں باپ، بھائی اور شوہر کا کردار ادا کرتا ہے اور ان سے متعلق مسائل کو اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے، معاشرے میں مردوں سے منسلک کئی ایسے تصورات پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں اکثر بات نہیں کی جاتی۔مثال کے طور پر معاشرے اور خود مرد حضرات بھی اپنی دماغی صحت سے متعلق بات کرنے سے کتراتے ہیں اور حد سے زیادہ اظہار خیال کرنے پر ان کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے، ان دقیانوسی سوچ کی وجہ سے ایسے مرد حضرات ماہر نفسیات سے مدد طلب کرنے سے بھی کتراتے ہیں
سب کے حقوق پورے کرنے والا اپنے ہی حقوق مانگنے سے کیوں کتراتا ہے؟ آج دنیا بھر میں مردوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن مرد ہی بے خبر ہے کہ آج اس کے لیے بھی کوئی دن مقرر ہے، مرد عموماً کوئی مطالبہ بھی نہیں کرتے، وہ بس اپنی ذمہ داریاں نبھاتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کے حقوق کون پورے کرے گا؟

مرد کے حوالے سے یہی تاثر ہوتا ہے کہ وہ سخت جان ہے، حالات اور مصائب کا بآسانی مقابلہ کر سکتا ہے، اس کو ہمدردی کی ضرورت نہیں، وہ سربراہ ہے اور محافظ ہے اس لیے اس کو عموماً وہ توجہ بھی نہیں مل پاتی جس کا وہ حق دار ہے۔مرد کی آنکھ میں آنسو نہیں آتے کیونکہ وہ باہر کی دنیا سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنوں کو ہر طرح کے دکھ درد سے بچاتا ہے اور خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہے تاکہ اس کے پیاروں کو ذرا سا بھی دکھ نہ ملے۔مرد باپ ہے تو شجر ہے، بھائی ہے تو محافظ ہے، شوہر ہے تو ہم راز ہے، بیٹا ہے تو دل کا سکون ہے لیکن مرد کے متعلق مسائل کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔کئی ایسے تصورات بھی ہیں جن کے بارے میں بات تک نہیں کی جاتی، حتیٰ کہ مرد اپنی ذہنی، دماغی اور جسمانی صحت کے متعلق تک بات نہیں کرتے، مضبوط اور توانا نظر آنے کے لیے وہ اپنے مسائل کو نظر انداز کر کے بس مشینی انداز میں زندگی گزارتے چلے جاتے ہیں۔مرد اپنے دکھ درد کو بھی اپنے اندر پالتے رہتے ہیں، اسی سے متعلق ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بڑھاپے میں تنہائی کا سامنا کر رہی ہے، مردوں کے حوالے سے ایسی دقیانوسی سوچ بھی ہے کہ جہاں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مرد بہت کم روتے ہیں اور کبھی سب کے سامنے رونا پڑ جائے تو ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ خود کو جلدی ٹھیک کر لیں۔

اسی وجہ سے مردوں کو بچپن سے ہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سخت انداز اور مزاج اپنائے، یہی وجہ ہے کہ مرد ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس مرض کی علامات کا انہیں خود کبھی معلوم نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں زیادہ تر مردوں کے خودکشی کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مرد حضرات کی ضروریات اور ان کے احساسات کا خیال کریں اور ان سے بات چیت کر کے انہیں قائل کریں کہ بحیثیت مرد ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپائے رکھیں، حالات کا جبر تنہا جھیلتے رہیں، انہیں قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی پریشانیاں اپنوں کے ساتھ شیئر کریں اور ان کے اہل خانہ ان کو ان پریشانیوں سے نبرد آزما ہونے میں بھرپور مدد کریں۔رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ہے “مردوں کے مثبت رول ماڈلز” یعنی اس دن کا مقصد یہ ہے کہ مردوں کو ان کی ذمہ داریاں، مثبت کردار، مثبت سوچ اور اقدار کے حوالے سے منایا جائے، ان کے چیلنجز، احترام، ان کی سوچ اور ثقافت کو مثبت انداز میں فروغ دیا جائے تاکہ دقیانوسی تصورات کا خاتمہ ہو اور مردوں کی شراکت، کامیابیوں سے معاشرے میں مثبت رویے جنم لیں تا کہ مثبت مردانہ رول ماڈل سے دنیا میں مسائل کو بہتر حل کرنے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کو فروغ ملے۔اس کے لیے اپنوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مردوں کے حقوق کا خیال رکھیں، دنیا کی سختیاں، رویے اور تلخ لہجے برداشت کرنے والے مردوں پر تھوڑی محبت اور توجہ کے پھول نچھاور کریں، یقین کیجیے یہی مثبت توانائی لوٹ کر آپ کو ملے گی۔

مرد بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ جن کے لیے دھوپ، بارش، گرمی اور سردی میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر سائبان کی صورت شفقت و محبت کا پیکر بنتا ہے ان کی توجہ اور محبت اس کا حق ہے، یقین کیجیے جب یہ سائبان چھن جاتا ہے تو پھر معاشرے کے تلخ رویے اور بدلتے لہجے دنیا کے عجیب ہی رنگ دکھاتے ہیں، اس لیے جو مرد سب کے حقوق پورے کرتا ہے اس کے حقو ق دیجیے۔باہر سے کرخت، اندر سے نرم، سب کے حقوق پورے کرنے والا اپنے حقوق کھبی بھی نہیں مانگتا.مرد کا نام ذہن میں آتے ہی ایک بے حس، مضبوط، توانا اور جابر حکمران کا تصور ابھرتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو احساسات سے عاری، ہنسنے رونے پہ قابو رکھنے والا طاقتور جن ہو۔ ایسا سماج نے اسے رپریزنٹ کیا ہے ایک پدر سری سماج میں اس کے علاوہ ا ور تصور ابھر بھی کیا سکتا ہے۔ لیکن اسی دوران جب حقیقت کی آنکھ سے دیکھتی ہوں تو کچھ اور نظر آتا ہے۔صبح ایک آواز سنی۔ ٹین ڈبے بیچ لو، ردی بیچ لو، ایک مرد ہے جو صبح سے فکر معاش میں باہر نکلا ہے شام تک خوار ہو گا نجانے کچھ گھر لے جا بھی پائے گا یا نہیں۔ مشقت ہے اور ساتھ پریشانی بھی۔ سارا دن خوار ہوتے ہزار ہا مرد کہیں دکانوں پہ، کہیں سڑکوں پہ، کہیں دفاتر میں، کام کر رہے ہیں اپنے بچوں کے لیے، خاندان کے لیے کام کرتے ہیں۔ لیکن شاید وہ کبھی جتاتے نہیں کہ وہ اپنی زندگی اپنا وقت اپنی طاقت سب کچھ اپنے پیاروں کے لیے سہولتیں پیدا کرتے گزار رہے ہیں۔

مرد کے حوالے میں یہ تصور بھی بہت مضبوط ہے کہ اسے احساسات اور جذبات پہ عورت کی نسبت زیادہ کنٹرول ہوتا ہے۔ مرد روتے نہیں یہ بات بچبن سے لڑکوں کے ذہن میں ڈالی جاتی ہے۔ مطلب ایک غیر انسانی رویہ ہے کہ کتنے برے حالات ہوں وہ رو نہیں سکتے اپبے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اور یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ انسان کھل کے اپنی محبت، غصے، پیار یادکھ کا اظہار نہ کر سکے۔ جہاں عورت کھل کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتی ہے وہاں مرد کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔ آج کے دن ان سب مردوں کو سلام جو ہر حال میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ سماج کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بغیر صلے کی تمنا کیے اپنا وقت زندگی پیسہ سب کچھ دوسروں کی آسائش کے لیے لٹا رہے ہیں۔مردوں کے عالمی دن کے موقع پر تمام مردوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ

1.ایک خودار شخصیت بن کر زندگی گزاریں۔ کبھی مورال کو گرنے نا دیں۔ کیونکہ آپ کی نئی نسل نے آپ کو دیکھ کر، پرکھنے کے بعد اپنے کردار اور رویوں کی تعمیر کرنا ہے۔
2. رزق کمانے کی خاطر کوششیں لازمی ہیں مگر جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی سے کوسوں دور بھاگیں۔
3.اگر آپ ایک با اختیار شخص ہیں تو خدارا مجبور و محکوم افراد سے رشوت یا مٹھائی کے نام پہ پیسا بٹورنے سے حد درجہ اجتناب کریں کیونکہ یہ شیطانی عمل ہے۔
4. حق اور سچ کے ساتھ رہیں، جھوٹ اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ سچائی اور حق پرستی کے ساتھ کھڑے ہوکر مثبت معاشرتی ,اور اچھے سماجی معاشرے کو برقرار رکھنے میں شراکت دار بنیں۔
5.عزت و احترام، مہمان نوازی اور بنیادی انسانی حقوق و انسانی اقدار کی پاسداری کیا کیجیے۔ کیونکہ ایک انسان آپ کے لیئے محض “1” فرد ہے مگر وہ اپنے خاندان، عزیز واقارب اور دوستوں کے لیئے کُل کائنات ہوتا ہے۔
المختصر! مردوں کے عالمی دن کے موقع پر مردوں سے یہی کہنا چاہوں گا کہ آپ اپنی ذمہ داریوں، قربانیوں اور محنت کے باعث معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں۔ اپنی صحت، جذبات اور خوابوں کا بھی اتنا ہی خیال رکھیں جتنا دوسروں کا رکھتے ہیں۔ زندگی کی دوڑ میں اپنے آپ کو نہ بھولیں، کیونکہ ایک مضبوط مرد ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
وہ مرد ہے جو کبھی شکوہجفا نہ کرے
لبوں پہ دَم ہو مگر نالہ وبکا نہ کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں