مسئلہ کشمیر امید، حکمت اور خلوصِ نیت کی آزمائش

38

تحریر:چوہدری معروف انجم

جب بھی برصغیر میں قیامِ امن کی بات کی جاتی ہے تو سب سے بڑی رکاوٹ جو بار بار آڑے آتی ہے، وہ مسئلہ کشمیر ہے۔ ایک ایسا تنازعہ جو گزشتہ سات دہائیوں سے نہ صرف لاکھوں جانیں نگل چکا ہے بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بھی وقت کھلی جنگ کا خطرہ بن کر منڈلاتا رہتا ہے۔ اس مسئلے کی پیچیدگی، جذباتیت اور بین الاقوامی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس کے حل کی کنجی اب صرف اقوام متحدہ یا قراردادوں میں نہیں، بلکہ پاکستان، بھارت اور عالمی طاقتوں کے خلوصِ نیت اور سیاسی حکمت میں پوشیدہ ہے۔نریندر مودی بلاشبہ آج کا سب سے طاقتور بھارتی رہنما ہے۔ بی جے پی کی مضبوط اکثریت، ہندوتوا کا بیانیہ، اور انتہا پسند عناصر پر مضبوط گرفت اسے ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا مودی حکومت اس طاقت کو کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے استعمال کرے گی یا مزید طاقت کے استعمال سے حالات کو بگاڑے گی؟

واجپائی جیسے اعتدال پسند رہنما بھی کشمیر کو سلجھا نہ سکے کیونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، لیکن مودی کے پاس وہ اختیار ہے جو بھارتی تاریخ میں کم ہی کسی کو ملا۔ اگر وہ خلوص نیت سے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی طرف بڑھے، تو شاید وہ تاریخ میں ایک “بنے گاندھی” کے طور پر یاد رکھا جائے نہ کہ صرف ایک “لوہے کا انسان” کے طور پر۔امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کی بات کو دنیا کے بیشتر ادارے اور ممالک سننے پر مجبور ہیں، خواہ وہ اقوام متحدہ ہو یا دیگر عالمی فورمز۔ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اگرچہ فلسطین جیسے مسئلے کو جانبدارانہ انداز میں ڈیل کیا گیا، لیکن اگر مسئلہ کشمیر پر امریکہ ایک غیرجانبدار ضامن کا کردار ادا کرے اور بھارت و پاکستان کو ایک قابلِ قبول روڈ میپ پر قائل کرے تو دنیا کو پہلی بار ایک نتیجہ خیز عالمی گارنٹی مل سکتی ہے۔

ٹرمپ جیسے متنازع لیکن فیصلہ کن رہنما اگر خلوصِ نیت سے اس مسئلے کو حل کرانے میں دلچسپی لیں تو اقوام متحدہ کی بے بسی کا ازالہ ممکن ہے۔پاکستان برسوں سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کرتا آیا ہے۔ لیکن حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ محض قراردادیں کافی نہیں۔ کشمیری عوام اب ایسے حل کی خواہاں ہیں جو صرف زمین کے ٹکڑے پر نہیں بلکہ ان کی شناخت، حقِ خودارادیت، سلامتی اور عزتِ نفس پر مبنی ہو۔پاکستان کو اب دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ وہ کشمیریوں کی امنگوں کا سچا ترجمان ہے نہ کہ محض ایک جغرافیائی حلیف۔ یہی اخلاقی برتری پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک پرامن اور مہذب ریاست کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔آج کی نسل وہ نسل ہے جو سوشل میڈیا، شعور، تعلیم اور سیاسی آگہی سے لیس ہے اگر ایک بار پھر چالاکی، وقتی مفادات اور سیاسی ڈرامہ بازی سے مسئلہ دبانے کی کوشش کی گئی تو پھر جذبات بغاوت میں بدل سکتے ہیں۔

یہ قدرت کا اصول ہے کہ جب احساسات کو نظرانداز کیا جائے، تو وہ انتقام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اور جب ردعمل شدت اختیار کرتا ہے تو پھر کوئی گاندھی، کوئی نیلسن منڈیلا بھی اسے روک نہیں سکتا۔12 مئی کو ہونے والے پاک بھارت مذاکرات ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ یہ بساط یا تو نئی شروعات کی نوید دے سکتی ہے یا پھر ایک اور مایوس کن باب کا آغاز بن سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ بھارت، پاکستان اور امریکہ تینوں اپنی تاریخ، ذمہ داری اور عوامی امنگوں کو سنجیدگی سے لیں۔ خطے میں ڈیڑھ ارب انسانوں کی قسمت چند افراد کے فیصلوں پر لٹکی ہوئی ہے۔ اگر یہ موقع بھی گنوا دیا گیا تو پھر امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔وقت کا تقاضا ہے کہ عقل، انصاف، اور خلوصِ نیت کو ترجیح دی جائے۔ دنیا کو ایک امن کا نقشہ دیا جائے، نہ کہ لاشوں کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں