گالم نگار: سردار سلطان حمید
مسئلہ کشمیر صرف دو ریاستوں بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی تنازع نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیریوں کے بنیادی انسانی اور سیاسی حق، “حقِ خودارادیت”، کا مسئلہ ہے۔ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ضروری ہے اب مسئلہ کشمیر حل ہو جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے 1948 اور 1949 میں اپنی قراردادوں کے ذریعے واضح طور پر تسلیم کیا کہ کشمیری عوام کو استصوابِ رائے (حق خودارادیت) کا حق حاصل ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ تاہم بدقسمتی سے یہ حق سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو نہیں مل سکا۔
آج جبکہ دنیا میں پاک بھارت کشیدگی کو دیکھتے ہوئے انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کے اصولوں کو عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے، وہاں مسئلہ کشمیر پر خاموشی یا محض علامتی بیانات کافی نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے ناگزیر ہے کہ کشمیری قیادت کو پاک بھارت کشیدگی کی سیز فائر کے بعد ہونے والے مذاکرات میں بطور اصل فریق شامل کیا جائے۔ دونوں اطرافِ کشمیر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی، سماجی اور نوجوان قیادت کو ذاتی مفادات، سیاسی نعروں اور پوائنٹ اسکورنگ سے بالا ہو کر ایک مشترکہ جدوجہد کا راستہ اپنانا ہوگا۔
یہ وقت کشمیری قوم کے لیے اتحاد، سنجیدگی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ عالمی فورمز پر متحرک ہونے کا ہے۔ کشمیر کی تینوں حکومتیں فل فور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرے تمام کشمیری جماعتوں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ایک متفقہ قومی بیانیہ مرتب کریں۔ سوپر پاور امریکہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، او آئی سی، یورپی یونین، اور اقوام متحدہ جیسے اداروں سے مسلسل رابطہ رکھیں اور دنیا کو اس مسئلے کی سنگینی اور انسانی پہلو سے آگاہ کریں۔ صرف پاکستان یا بھارت پر انحصار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک کشمیری خود اپنی تحریک کے سیاسی، سفارتی اور نظریاتی قائد نہیں بنتے، دنیا اسے سنجیدگی سے نہیں لے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیری قیادت ایک صف میں کھڑی ہو کر دنیا سے اپنا حق مانگے دلیل، اتحاد اور جدوجہد کے ساتھ، یہ جدوجہد صرف ایک زمینی تنازع کے حل کی نہیں، بلکہ ایک مظلوم قوم کے وجود، شناخت اور آزادی کی جنگ ہے۔ خاموشی، تفرقہ، اور وقتی مفادات نے اس تحریک کو ماضی میں نقصان پہنچایا، مگر اب یہ غلطیاں دہرانے کا وقت نہیں۔ آج جب دنیا انڈیا پاکستان کی جنگ کو سنجیدہ لے رہی ہے وہاں امریکہ جیسے سوپر پاور ملک کا کشمیر کے لئے ٹیبل ٹاک کرنے کے لئے انڈیا پاکستان کو آمادہ کرنا اس صدی کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے، مسئلہ کشمیر سوشل میڈیا، بین الاقوامی رائے عامہ، اور عوامی سفارت کاری کے ذریعے تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے.
کشمیری قیادت ، نوجوانوں، طلباء، وکلاء، دانشوروں، صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سول و بزنس کمیونٹی اور خصوصاً اورسیز کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس تحریک کو نئے انداز میں، جدید ذرائع کے ساتھ، مگر اصولی بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔یہ محض ایک مطالبہ نہیں، ایک تاریخی قرض ہے جو کشمیری عوام نے اقوام عالم سے لینا ہے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب قیادت بیدار ہو، قوم متحد ہو، اور دنیا کو ایک واضح اور یکجہت پیغام دیا جائے “ہمیں ہمارا حق چاہیے، جو عالمی ضمیر اور انسانیت کا تقاضا ہے۔مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بنیاد بنا کر کشمیری عوام کو آزادانہ رائے دہی کا حق دیا جائے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت تینوں فریق ایک میز پر آئیں اور طاقت کے بجائے پرامن سیاسی حل کی طرف پیش قدمی کریں۔ کشمیریوں کو خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے، کیونکہ یہی انسانی حقوق، عالمی انصاف اور جنوبی ایشیا کے دیرپا امن کی ضمانت ہے۔ جب تک کشمیریوں کی آواز کو اصل فریق تسلیم نہیں کیا جائے گا، کوئی بھی حل ادھورا اور غیر مؤثر رہے گا۔