مسلم کانفرنس کی تقسیم کے پیچھے انگریز اور ہندو کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندربھی پہلے دن سے کچھ لوگ موجود تھے، سردارعتیق احمد خان کا انکشافات سے بھرپور انٹرویو

43

اسلام آباد : آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق احمد خان شملہ معاہدے کے وہ خفیہ نکات سامنے لے آئے جن کے تحت مسلم کانفرنس کوتوڑا گیا ساتھ ہی انہوں نے نظریہ الحاق پاکستان کو کمزور کرنے کے نتائج سے بھی خبردار کردیا۔ نیوزویب سائٹ ادراک ڈاٹ کام کے پروگرام ادراک سپیشل میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مسلم کانفرنس کوکمزور کرنے کامطلب پاکستان کوکمزور کرنا ہے ۔

سردارعتیق احمد خان نے مسلم کانفرنس کے ساتھ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی تعلق کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیری قیادت کے ساتھ تفصیلی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا ہرریاست میں مسلم لیگ قائم کی جائے گی لیکن ریاست جموں وکشمیر میں مسلم کانفرنس کی تائید کی جائے گی ۔جب پاکستان بن گیا تو کشمیری مہاجرین کی بحالی کے لئے جو کمیٹی بنی اسے قائداعظم نے اپنے دستخطوں سے سائن کیااور اس کمیٹی کے ممبران پاکستان کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرزاس کمیٹی کے ممبرز تھے اور چودھری غلام عباس اس کے چیئرمین تھے ۔مسلم کانفرنس کے صدرکوآزادکشمیر کے اندر سپریم ہیڈ بنادیاگیا جس کا مطلب یہ تھا کہ آزادکشمیر میں حکومت بنانے اور توڑنے کااختیار مسلم کانفرنس کے صدر کودے دیاگیا یہ تھی قائداعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی کشمیریوں کےساتھ وابستگی۔یہ تھا احترام کا رشتہ ۔

سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ مسلم لیگ 1940 میں بنی اور مسلم کانفرنس 1932 میں معرض وجود میں ہوئی،اس بات کاامکان موجود تھا یہ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی بجائے آل انڈیامسلم کانفرنس ہو۔ مسلم کانفرنس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوئوں کی بھی نمائندگی موجود تھی ۔اس وقت تمام کشمیری لیڈر شپ اکٹھی تھی۔ شیخ محمد عبداللہ مسلم کانفرنس کے پہلے صدر تھے اور رئیس الاحرار چودھری غلام عباس پہلے سیکرٹری جنرل تھے ۔

سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں حالات ایسے تھے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت نے مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کررکھا تھا زندگی کاکوئی شبعہ ایسا نہیں تھا جس پر ٹیکس نہ ہوں۔ انتظامی جبر تھاسیاسی جبرتھا،معاشی جبر تھا،ترقیاتی جبر تھا، ملازمتوں میں ناانصافی تھی زندگی کے ہرشعبے میں اتناظلم وستم تھاکہ اس سے تنگ آکرایک آزادانہ اور ذمہ دارانہ نظام حکومت کے قیام کے لئے بات شروع ہوئی۔ ریاست جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی آبادی اس وقت 87 فیصدکے قریب تھی ۔

انہوں نے کہا کہ 1946 کاجوالیکشن تھاریاست جموں وکشمیر کا اس میں مسلمانوں کے لئے 21 نشستیں مختص تھیں ان میں سے19 لوگ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے اوردو آزاد بیرسٹر جوکامیاب ہوئے انہوں نے بھی مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ 19 جولائی 1947 کو پاکستان بننے سے 23دن پہلے جوقراردادالحاق پاکستان منظور ہوئی اس میں تمام 21 منتخب ارکان بھی موجود تھے۔
سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ اس وقت مسلم کانفرنس جموں وکشمیرکی نمائندہ جماعت تھی اوربھارتی ہندوستانی قیادت کوفوری طورپراس بات کااحساس ہوگیا کہ یہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ ہے یہ ریاست ہمارے ہاتھ سے کہیں نکل ہی نہ جائے اس لئے انہوں نے مسلم کانفرنس کوتقسیم کرایا۔ اس تقسیم کے پیچھے ہندو اورانگریزتھے۔

اس زمانے میں شیخ عبداللہ لاہورآئے تو کچھ لوگوں نے ان کی قائداعظم سے ملاقات نہیں ہونے دی اس کے نتیجے میں بہت ساری خرابیاں پیدا ہوئیں۔ ہندوستان نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا جواہرلعل نہرو اور اندراگاندھی متحرک ہوگئیں اور چند سال کے لئے مسلم کانفرنس کوشدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑا اور شیخ عبداللہ نے مسلم کانفرنس کونیشنل کانفرنس میں تبدیل کردیا۔اس کے بعد1936 میں مسلم کانفرنس کادوبارہ احیا کیا گیا اور رئیس الاحرار چودھری غلام عباس اس کے صدرمنتخب ہوئے ۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ شملہ معاہدہ کے وقت کچھ خفیہ فیصلے ہوئے جولکھے ہوئے نہیں ان میں سے ایک فیصلہ یہ ہوا کہ نیویارک میں جوکشمیر سنٹر ہیں ان کوبند کردیاجائے گا،دوسرا فیصلہ یہ ہوا کہ جنرل ٹکا خان کوہٹایاجائے گا۔تیسرا فیصلہ یہ ہوا کہ سردار عبدالقیوم خان کی حکومت ختم کی جائے گی ، چوتھافیصلہ یہ ہوا کہ پاکستانی جماعتیں آزادکشمیر میں بنائی جائیں گی، شملہ معاہدے کے فوری بعد بھٹوصاحب جب پاکستان آئے تو مسلم کانفرنس کوتوڑا گیا، پیرعلی جان مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے ،ممتاز راٹھور مرحوم مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پرکامیاب ہوئے لیکن سب سے پہلے مسلم کانفرنس کوتوڑا گیا۔

سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں اس سوچ کے لوگ پہلے دن سے موجود تھے وزارت امور کشمیر قیام پاکستان کے وقت سے ہی سازشوں کااڈہ بن گئی تھی اورانہوں نے متوازی جماعتیں بناناشروع کر دی تھیں مسلم کانفرنس کو توڑنے کے لئے کبھی آزادمسلم کانفرنس بنادی کبھی لبریشن لیگ بنادی اور وہ کام ابھی تک کسی نہ کسی طرح جاری ہے ۔سردارعتیق احمد خان نے خبردار کیا کہ نظریہ الحاق پاکستان کوکمزور کرنے کامطلب پاکستان کوکمزور کرنا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں