تحریر:نعیم الحسن نعیم
قتیل کیسے بھلائیں گے اہل درد اسے
دِلوں میں چھوڑ گیا اپنی داستان وہ شخص
26نومبر کی ڈھلتی شام نے ایسا سلایا کے قیامت تک سو ہی گے. موت برحق ہے ہر ذی شعور کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، دنیا فانی ہے، بڑی بڑی ہستیاں دنیا سے پردہ فرما گئی ہیں مگر وہی انسان صدیوں سے زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے جنہوں نے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کے اندر کارہائے نمایاں سرانجام دیئے، انہی میں محمد مطلوب انقلابی کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے متوسط گھرانے کے اندر آنکھ کھولی، قدرت نے انہیں بے پناہ خوبیوں سے مزین کیا، بچپن سے لیکر یونیورسٹی تک جسمانی طورپر وہ انتہائی کمزور اور دبلے پتلے جسم کے مالک تھے لیکن ذہنی فکری اور سوچ کے حوالے سے وہ انتہائی مضبوط انسان تھے، اسکول کے زمانے سے ہی غیر نصابی سرگرمیوں بالخصوص تقاریر اور لیڈرشپ سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا.
جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو محمد مطلوب انقلابی نے دس سال ہی کی عمرمیں پی پی پی کا پرچم اور بھٹو شہید کی تصاویر اٹھا کر اپنے گائوں چونا کے اندر جیئے بھٹو کے نعرے لگانے شروع کئے ،1975 میں جب راجہ اسلم خان نے چڑھوئی کے اندر پی پی پی ٹکٹ پر الیکشن لڑا تو انقلابی کی عمر 14 سال تھی اور آپ گاڑی پر بیٹھ کر پی پی امیدوار راجہ اسلم مرحوم ایڈووکیٹ کیلئے انائونسمنٹ کیا کرتے تھے مرحوم راجہ اسلم ایڈووکیٹ نے مطلوب انقلابی کو انقلابی کا لقب دیا تھا، جسے مرحوم ساری زندگی اپنے نام کے ساتھ لکھتے رہے، محمد مطلوب انقلابی نے کالج کے اندر پی ایس ایف کو جوائن کیا، یونیورسٹی آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کوٹلی کی یونین کے پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے صدر بھی منتخب ہوئے .
پھر جموں کشمیر پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر بھی رہے، دو بار کشمیر کونسل کے ممبر منتخب ہوئے اور وزیراعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مشیر برائے کشمیر کونسل بھی رہے، آمر جنرل ضیا کے دور میں پی ایس ایف پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر بھر کے کالجز کے اندر ترقی پسند طلبہ کو منظم کیا اور ضیا آمریت کے خلاف زبردست تحریک چلائی،آزادکشمیر کی سیاسی تاریخ میں رواداری اور انسانیت کی خدمت کا استعارہ ،عظیم پارلیمنٹرین عوام دوست راہنما مظلوم سیاسی کارکنوں کی جاندار آواز پسے ہوئے طبقے کا عظیم لیڈر اور لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی عظیم شخصیت محمد مطلوب انقلابی مرحوم کو ہم سے جدا ہوئے آج 4 سال ہو گے لیکن ملک اور بیرون ملک انقلابی انقلابی کی صدائیں آج بھی بلند ہو رہی ہیں.
اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ محمد مطلوب انقلابی انسانیت کی خدمت پر پختہ ایمان رکھتے تھے وہ اس بات کے دل و جان سے قائل تھے کہ فرض نماز میں قضا ہے لیکن انسانیت کی خدمت میں قضا نہیں ۔محمد مطلوب انقلابی خوش اخلاق ،خوش لباس ،نیک سیرت ،عزت و احترام و شفقت میں بے مثال ،قابل تقلید سیاست دان اور سدا بہار شخصیت کے مالک انسان تھے ۔مطلوب انقلابی مظلوموں کا سہارا ،نوجوانوں کی ایک جاندار آواز اور نفیس انسان تھے اپنے لباس کو برادری ازم ،علاقائی ازم اور تعصب کی دیگر غلاظتوں اور داغوں سے پاک رکھا ۔ مطلوب انقلابی ایک جہان دیدہ ،خوش اخلاق ،زیرک اور باریک بین سیاست دان تھے مشیروزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ،ممبر کشمیر کونسل ،ممبر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی ،سربراہ عبوری آئینی کمیٹی اور پھر وزارت ہائیر ایجو کیشن آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کی کرسی پر براجمان ہونے والے مطلوب انقلابی کی موت والے دن کو محکوم ،مظلوم اور مجبور انسان قیامت صغریٰ کے طور پر یا درکھیں گے ۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
متوسط گھرانے کے اندر آنکھ کھولنے والے اس عظیم انسان کو قدرت نے بے پناہ خوبیوں سے مزین کر رکھا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اپنی خوش اخلاقی اور خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر محنت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے استقامت کا مظاہرہ کر تے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے رہے اور مختصر مدت میں عزت و شہرت اور آسمان سیاست پر ایک چمکتا دمکتا ہوا ستارہ بن کر چمکنے لگے اور پھر اچانک لاکھوں چاہنے والوں ،جان نثار سیاسی کارکنوں ،ماوں،بہنوں،بیٹیوں اور اپنی سیاسی قیادت کو دھاڑیں ما رمار کر روتے ہوئے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے پیغام وفا و محبت دے کر وفا بنھاتے ہوئے اپنی سیاسی پارٹی کا پرچم اوڑھ کو ہمیشہ کے لیے خدا خافظ کہہ گئے ۔
چار سال گزر جانے کے باوجود بھی محمد مطلوب انقلابی ہمارے دلوں میں زندہ و تابندہ ہیں مطلوب انقلابی آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ اور آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی کا ایک وقار ،قابل فخر کردار اور ایک مان تھے مطلوب انقلابی بد عنوانی سے پاک سیاست دان اور آزاد کشمیر کے پارلیمانی گلدستہ کے خوبصورت پھول کی حیثیت سے ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے.
ان کا آنا حشر سے کم نہ تھا
اور جب پلٹے قیامت ڈھا گے
سابق وزیر تعلیم کالجز حکومت آزاد ریاست جموں کشمیر ، پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے ممبر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی،سیکرٹری اطلاعات نائب صدر چودھری محمد مطلوب انقلابی کا انتقال ریاست کے غالب طبقات کے لئے دکھ اور ملال کا باعث ہے.سیاسی جماعت تو مرحوم کی پیپلز پارٹی تھی.جس کیلئے انقلابی صاحب کی وفات ناقابل تلافی نقصان ہے.لیکن ریاست کے اس حصہ میں انقلابی صاحب شخصیت,حسن اخلاق اور مرحوم کے انداز سیاست کی وجہ سے جملہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور قیادتوں کے لئے یادگار رہے گا.مرحوم انقلابی. صاحب کی وفات سے یہ خطہ درست طور پر کہنہ مشق سیاستدان فکری ارتقاء کے راہرو.سیاسی بساط کے اہم کھلاڑی نظریاتی سیاست کے علمبردار اور عوامی مزاج کے بہترین سیاستداں سے محروم ہوا ہے.جناب انقلابی صاحب کی سیاست کے میدان میں آمد کسی حادثہ کا باعث ہر گز نہیں تھی.
بلکہ زمانہ طالب علمی،ہی سے مستقبل میں عوامی خدمت کا رجحان رکھتے تھے.میٹرک میں تھے تو ذوالفقار علی بھٹو شہید کی کرشماتی شخصیت کا احساس دامن گیر ہو چکا تھا.انٹرمیڈیٹ میں باقاعدہ طور پر پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت کا فیصلہ کیا. اور گریجویشن میں اپنی خداداد صلاحیتوں سے طلبہ قیادت حاصل کر لی.مظفراباد میں نومبر 1986 میں جب شہید بی بی آئیں تو مطلوب انقلابی مرحوم نے سٹیٹ ریسٹ ہاوس میں انگریزی میں خطاب کیا، جس سے بی بی شہید ایک نوجوان طالب علم مطلوب انقلابی سے زبردست متاثر ہوئیں، انقلابی نے اپنے نام کے ساتھ کبھی چوہدری نہیں لکھا اسے وہ تکبر سمجھتے تھے، زمانہ طالب علمی اور اس کے بعد پی پی پی کے پلیٹ فارم سے وہ کئی بار پابند سلاسل ہوئے، وہ پی پی کو چھوڑنا گناہ سمجھتے تھے حالانکہ انہیں مسلم کانفرنس ، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے اندر شامل ہونے کی دعوتیں دی گئیں مگر انہوں نے تمام مراعات اور دعوتوں کو ٹھکرا دیا اور کہا کہ بھٹو شہید ، بی بی شہید ، بلاول بھٹو کے مقابلہ میں سب لیڈر بونے نظر آتے ہیں اور پیپلز پارٹی سب پارٹیوں میں نمایاں ہے.
مطلوب انقلابی کی کمی صدیوں محسوس ہوتی رہے گی، وہ غریب پرور انسان تھے پی پی اور بھٹو ازم کے عاشق تھے ساری زندگی نظریہ سے وفا نبھائی، انہوں نے اپنی وزارت کے دوران جتنے کام کروائے وہ پچاس سالوں میں بھی نہ ہو سکے، مطلوب انقلابی کی کمی نہ صرف آزاد کشمیر بیرون ممالک کشمیری بلکہ پاکستان کے اندر بھی بسنے والے ان کے چاہنے والے محسوس کرتے ہیں، مطلوب انقلابی ہر مظلوم اور بے کس کی آواز تھا، وہ نوجوانوں کا آئیڈیل تھا، نوجوانوں کا ہیرو تھا، وہ باکردار انسان تھا ان کے کریکٹر پر کبھی بھی انگلی نہیں اٹھائی جا سکی.
دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی، لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتی کے مسافر، تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
خوبصورت، خوب سیرت، بے پناہ صلاحیتوں، اعلی اخلاق کے مالک محمد مطلوب انقلابی مرحوم کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں جو کارنامے سرانجام دیتی ہیں اور ہر لحاظ سے انسانیت کا خیال رکھتی ہیں. سابق وزیر حکومت مظلوم اور پسے ہوئے طبقے کی جاندار آواز محمد مطلوب انقلابی مرحوم کی چوتھی برسی کے موقع پر انکی سیاسی و سماجی خدمات پہ زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں.محمد مطلوب انقلابی مرحوم کے ساتھ سچی محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسانیت کی بے لو ث خدمت کے ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا اپنا بھر پور کر دار ادا کریں تا کہ انکی کی روح کو تسکین نصیب ہو اللہ پاک محمد مطلوب انقلابی مرحوم اور انکے ساتھیوں کی قبروں پر رحمت اور رضوان کی بارش برسائے ان کی قبروں کو نور مصطفی سے منور فرمائے آمین ثم آمین.